ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 45

ترک ۔ کرغز تعلقات اور خطے پر اس کے اثرات

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 45

وسطی ایشیا ئی علاقے کے کلیدی ممالک میں سے ایک جمہوریہ کرغزستان اور جمہوریہ ترکی کے مابین تعلقات مختلف شعبوں میں پیش رفت حاصل کر رہے ہیں۔ ترک۔کرغز تعلقات اور اس کے ترک خارجہ پالیسی پر اثرات کا جائزہ قارا تیکن یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک  کے قلم سے۔۔۔۔

ترکی پہلا ملک تھا جس نے سولہ دسمبر سن 1991 کو کرغزستان کو تسلیم کیا۔ دونوں ملکوں کے مابین انتیس جنوری سن 1992 کو سفارتی تعلقات کا قیام عمل میں آیا۔ 1992 میں ہی دو طرفہ طور پر بیشکیک اور انقرہ میں سفارتخانے قائم کیے گئے۔

ترکی اور کرغزستان کے درمیان باہمی تعلقات اب حکمتِ عملی شراکت داری کی سطح پر استوار ہیں۔ان دونوں کے بیچ سیاسی، اقتصادی، تجارتی ، عسکری، ثقافتی، تعلیمی، مواصلات کی شعبوں میں کثیرالجہتی تعلقات پائے جاتے ہیں۔یہ تعلقات  دو سو سے زائد معاہدوں اور پروٹوکول پر مشتمل ایک وسیع پیمانے کے فریم پر جاری ہیں۔

دونوں ملکوں کے صدور کے مابین سن 1997 میں ابدی دوستی و تعاون معاہدے پر دستخط کیے گئے۔سن 1999 میں ترکی اور کرغزستان نے اکیسویں صدی  اعلامیہ جاری کیا۔ سال 2011 میں اعلی سطحی حکمت عملی تعاون کونسل کے قیام کے حوالے سے ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے جو کہ عصر حاضر میں دونوں ملکوں کے مابین شراکت داری  کی بنیادی دستاویز کو تشکیل دیتے ہیں۔ ان ملکوں کے درمیان ابتک خاصکر صدارتی سطح پر بھاری تعداد میں اعلی سطحی دورے سر انجام پائے۔

کرغزستان میں ترکی وسیع پیمانے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ قلیل مدت پیشتر خدمات کا آغاز کرنے والی ترک رابطہ و تعاون ایجنسی تیکا کی جانب سے بشکیک میں تعمیر کردہ ترک۔کرغز اسپتال ان منصوبوں  میں سے محض ایک ہے۔ اس دائرہ کا ر میں کرغزستان سے ایک سو مریضوں کو بلا اجرت طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ان دونوں مملکتوں کے بیچ ایک معاہدہ طے پایا۔   جس کے مطابق کرغز مریضوں کا  ہر برس ترکی کے  مختلف اسپتالوں میں مفت  علاج معالجہ  کیا جائیگا۔

ترکی اور کرغزستان  کی مناس یونیورسٹی کے نام سے ایک مشترکہ جامع بھی سرگرمِ عمل ہے۔ جو کہ دونوں مملکتوں کے مابین قریبی بھائی چارے کی ایک شاندار مثال تشکیل دیتی ہے۔ مناس یونیورسٹی کرغزستان میں آپریشنل کیمپس موجو دہونے والی واحد یونیورسٹی ہے۔ ہر برس ، اس یونیورسٹی کی ضروریات کو پورا کرنے  اور طالب علموں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے زیر مقصد  تقریباً پچیس ملین ڈالر کا بجٹ مختص کیا جاتا ہے۔ علاوہ  ازیں حکومتِ ترکی کے  مختلف وظیفہ پروگراموں کی وساطت سے کرغزستان سے آنے والے طلباو طالبات کو ترکی کی مختلف یونیورسٹیوں میں مفت حصول تعلیم کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ تیکا بھی کرغزستان میں مختلف منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہا  ہے۔ ترکی کا اس ملک کو ہدیہ ہونے والی بشکیک مرکزی جامع مسجد کا افتتاح حال ہی میں صدر ترکی رجب طیب ایردوان نے اپنے دستِ مبارک سے کیا۔

اسوقت ترکی اور کرغزستان کے مابین تجارتی حجم چار سو ملین  ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ تا ہم یہ رقم دونوں ملکوں کی استعداد کی عکاس نہیں  ہے۔ گزشتہ ایک برس میں باہمی تجارتی حجم میں 26.7 کی شرح سے  اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ملک تجارت، سرمایہ کاری اور دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ کو خاصی اہمیت دیتے چلے آرہے ہیں۔

پندرہ اکتوبر سن 2017 کو صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد کرغزستان کے صدر منتخب ہونے وال سورون بائے  جین بیکووف  مختلف مواقع  پر ترکی کے ساتھ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے چلےآرہے  ہیں۔جین بیکووف نے خارجہ پالیسی میں قومی مفادات  کو بالائے طاق رکھے جانے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ریشین فیڈریشن  کے ساتھ اپنے تعلقات کو تقویت دیں گے جبکہ ہمسایہ چین کے ساتھ انہیں مزید گہرائی دیں گے،یورپی یونین کے رکن  ممالک  کے ساتھ بھی قریبی تعلقات کو جاری رکھیں گے۔ جبکہ ترکی  اور امریکہ سے تعاون کو فروغ دیں گے۔"

آج ترکی اور وسطی ایشیا کی ترک نژاد جمہورتیں خارجہ پالیسیوں میں اپنے تعاون کو فروغ دے رہی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ مشترکہ زبان اور ثقافت کا مالک  ہونا ہے۔ جیسا کہ ممتاز کرغز   مصنف  چینگیز آئتاموو  نے لکھا ہے کہ "اس بدلتی  دنیا میں مقدس اصولوں کے مطابق  ہر چیز ختم ہو جاتی ہے، لیکن ثقافت کبھی نہیں  مرتی۔ "عالم   فاضل مصنف کا یہ جملہ در اصل کئی صفحات پر مشتمل  ہے۔ کیونکہ قوم کو اپنے پاؤں پر کھڑے رکھنے والے اہم ترین عناصر میں سے ایک ثقافت ہے۔ اس شعبے میں بھی ترکی اور کرغزستان کے درمیان گرمجوشی  تعلقات قائم ہیں۔ دو طرفہ تعلقات میں ثقافت و تعلیم ہمیشہ اولیت کے ایجنڈے  میں شامل ہوتے ہیں۔

عصرِ حاضر میں ترکی وسطی ایشیائی جغرافیہ میں ڈیموکریٹک  تبدیلیوں  کے دور سے گزرنے والے کرغزستان میں استحکام اور ترقی کے عمل کے جاری رہنے کو اہمیت دیتا ہے۔ اس دائرہ کار میں  یہ اس ملک کے ساتھ شروع سے  ہی تعاون  کرتا چلا آرہا ہے۔ دوسری جانب  دہشت گرد تنظیم فیتو کے کرغزستان  میں  اپنی مضبوط جڑیں گاڑ رکھنے سے ہم   سب آگاہ ہیں۔ اس حوالے سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو مزید آگے بڑھا سکنے کے لیے کرغزستان  کا دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کے دائرہ عمل میں فیتو مخالف قانونی کاروائی کرنا  فائدہ مند ثابت ہو گا۔



متعللقہ خبریں