عالمی نقطہ نظر45

اسلام اور یورپ

عالمی نقطہ نظر45

عالمی نقطہ نظر 45

 

Küresel Perspektif  / 45

                   Avrupa İslam

Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL

 

ایک عرصے  سے  یورپ میں اسلام پر ایک شدید بحث ہو رہی ہے  جن میں  سیاسی جماعتیں ، یورپی ریاستیں، سلامتی ادارے، مغربی  مفکرین اور مصنفین مسلمانوں کے بارے میں بحث کر رہے ہیں۔

یہ بحث بنیادی طور پر غیر متعلقہ نہیں ہے. عالمگیریت کے عمل کے ذریعے مختلف شناختیں، ثقافتیں، مذاہب اور زبانیں   آپس میں گھل مل گئی ہیں۔

عثمانیوں کے زیر تسلط   ممالک کے لئے یہ باہمی معروف حقیقت ہے جبکہ یہ مغرب   کےلیے ایک نئی روش  ہے ۔

مغربی ممالک   کئی صدیوں سے  مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان تعلقات کا استحصال کر رہے ہیں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ مغربی ممالک نے ان ممالک سے مغرب تک لوگوں کی منتقلی کے ساتھ اختلافات کا سامنا کیا ہے.

یہ مدت بھی ایک جدید اور  نئی ریاستی  مدت بھی ہے جس میں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

اگر لوگ مختلف تاریخ کے ساتھ، مذہب اور معاشرے میں  ساتھ رہتے ہیں تو ان کا ماننا   ہوتا ہے کہ  ریاستوں، اداروں اور دانشوروں کو اس صورت حال کے نتائج کے لحاظ سے ان مسائل میں دلچسپی  ہو سکتی ہے ۔

زبان، ثقافت، طریقہ، یورپی اسلام کے لحاظ سےایک مخصوص مقام رکھتا ہے اس تناظر میں، ترکی میں اسلامی عقائد کی بنیاد وہی ہے جو کہ  بلقان، مشرق وسطی  اور مشرق بعید میں ہے  مگر ثقافتی و تہذیبی   رسومات  کے نتیجے میں    ان کی ادائیگی ذرا مختلف  نظر آتی ہے۔

یورپی اسلام کے تناظر میں ہمارا  یہ ایک اخلاقی رویہ نہیں ہے کہ  ہم  متعلقہ ممالک پر تنقید کرتے ر ہیں ۔ آج مغرب میں رہنے والے مسلمانوں کی تعلیم،معیشت ،سیاسی وابستگی ،   دانشوری   اور  دیگر شعبوں میں    شرکت   اور معاشروں میں جرائم کی شرح میں اضافہ اور کاہلی  کا دور دورہ  ہے جن کے خاتمے کےلیے   ہم پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے ۔

اسلام سے ہم آہنگ  یورپی معاشرہ  یورپ   میں بسنے والوں کےلیے نہیں بلکہ مقامی آبادی کےلیے بھی  اہم ہے۔اسلام سے ہم آہنگ معاشرے   کا مفہوم دراصل  یورپ    کے ثقافتی  رواج میں  رچی  ہوئی  نسل پرستی ، فاشزم   اور نازی ازم جیسے عناصر  میں پوشیدہ  ہے ۔

  حالیہ دور میں یورپ  آنے والوں کو امتیازانہ رویے ،  نفرت  اور  مذہب دشمنی جیسے  رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے  جس   کا ثبوت  تارکین وطن  کا حالیہ سیلاب ہے جن کے بارے میں آئے دن خبریں  دیکھنے  اور سننے کو ملتی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ  مہاجرین کو  وہاں   دوران ملازمت  یا ہمسایوں  کے طعنے بھی کثرت سے سننے کو ملتے ہیں۔

 اس بحث میں یورپی حکومتیں بھی پیش پیش ہیں جو کہ اس معاملے کو بڑھا چڑھا کر  میڈیا کے سامنے  بحث کا ذریعہ بنا رہی ہیں۔یہ قبول ہے کہ  ریاستیں اپنی سلامتی کی خاطر ضروری اقدامات اختیار کرنے کی اہل ہیں لیکن  ان کوششوں میں  جبر،ظلم اور  نفرت     کا عمل دخل نہیں ہونا چاہیئے۔

بعض طبقے   یورپ کو اسلام سے متعارف کروانے کی کوشش میں ہیں کہا جہاں  کا  باقی دنیا کے ساتھ موازنہ  کیا جائے تو معلوم  ہوتا ہے کہ وہاں    خاندانوں کی بربادی ، بچوں سے محرومیت، ہم جنس پرست تعلقات، منشیات کا استعمال بہت عام ہے.

اقتصادی   ترقی  کے نشے میں    وہاں ناجائز تعلقات اور غیر ازدواجی رشتے جوڑنا عام سے بات بن چکی ہے اور وہ اپنا اخلاقی کردار تیزی سے کھو رہا ہے۔

اسلامی اقدار  اس سلسلے میں    رہنمائی  فراہم کر سکتی   کیونکہ  یہ فی الوقت موجود  ہیں۔

     میرے خیال میں  اس وقت اقدار   و اخلاقی پستی کا یہ عالم یہودی اور مسیحی معاشروں میں بھی سرایت  کر چکا ہے جن سے عوام بھی بیزار ہیں۔

 اس تمام صورت حال کے باوجود  مسلمانوں کا یہ  فرض  ہے کہ وہ   افریقہ ، امریکہ،چین،بھارت یا مشرق وسطی کہیں بھی رہیں اپنے اخلاق و مذہبی تشخص کا پاس رکھیں۔

 

یہ جائزہ آپ کی  خدمت میں  انقرہ یلدرم بایزید یونیورسٹی کے   شعبہ سیاسی علوم کے پروفیسر ڈاکٹر قدرت بلبل کے قلم سے پیش کیا گیا ۔

 

 

 

 

 

 



متعللقہ خبریں