ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 44

ترک صدر کا دورہ مولڈووا اور گاگواز خود مختار جمہوریہ کے ترک خارجہ پالیسی پر اثرات

ترک خارجہ پالیسی پر ایک  نگاہ 44

جمہوریہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے گزشتہ دنوں موولڈووا اور اس ملک کے اندر واقع گاگواز ترکوں کے مقیم ہونے والے گاگواز خود مختار انتظامیہ کا دورہ کیا اس دورے اور اس کے ترک خارجہ پالیسی پر اثرات کا جائزہ قارا تیکن یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی  تعلقات کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کے قلم سے ۔۔۔۔۔

گزشتہ دنوں مولڈووا کے ترک علاقے گاگواز  نے ایک تاریخی دورے کی میزبانی کی۔ جمہوریہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان   نےگزشتہ انیس برسوں میں مولڈووا کا دورہ کرنے والے پہلے ترک صدر کی حیثیت سے دورے کے دوسرے دن کو  گاگواز خود مختار  مقام کے لیے مختص کیا۔اٹھارہ اکتوبر 2018 کو مولڈووا کے صدر اگور دودون کے ہمراہ  ہیلی کاپٹر سے اترنے کے وقت گاگواز خود مختار مقام کی  صدر ایرینا  ولاہ   کی جانب سے خیر مقدم کرنے والے ایردوان  سے مقامی ترک لوگوں نے ترک پرچم لہراتے ہوئے اظہارِ محبت کیا۔ اس شہر میں مصروفیات کے دائرہ کار میں اجراء کمیٹی کے دفتر کو تشریف لیجانے والے صدر ایردوان نے  یہاں پر دودون اور ولاہ کے ساتھ سہہ فریقی مذاکرات کیے۔

جناب ایردوان نے اقتصادی و ثقافتی اعتبار سے عظیم سطح کی اہمیت کے حامل منصوبوں کا افتتاح کیا۔ علاوہ ازیں  دیے گئے پیغامات  اعلان کردہ نئے منصوبوں کے ذریعے سابق سوویت یونین کے اس  چھوٹے  مگر سیاسی اعتبار سے ایک پیچیدہ ملک  میں ترکی کے طاقت  کے طور پر  اثرات پر زور دیا۔

صدر  ایردوان نے  اس دورے کے دائرہ کار میں گاگواز  خود مختار مقام کے دارالحکومت کومرات میں ترکی کی جانب سے تعمیر کردہ چائلڈ ڈویلپمنٹ سنٹر ، اسپتال اور کنڈر گارٹن،  مکمل طور پر جدت دیے گئے مرکزِ ثقافت  اور علاقے کے ثقافتی مرکز چادر  لونگا  میں اولڈ ہا­­  ­وس کا افتتاح کیا۔ وُلکانشت کے پانی کے مسئلے کا حل نکالنے میں بار آور ثابت ہونے والے بنیادی ڈھانچے  منصوبے پر عمل درآمد کے آغاز کے بارے میں صدر ِ ترکی نے آگاہی حاصل کی۔ آپ نے آئندہ برس کومرات میں ایک بڑے ایجوکیشن کمپلیکس کی تعمیر ات کے عنقریب شروع ہونے کا اعلان بھی کیا۔ جناب ایردوان نے ایک دوسرا اہم اعلان بھی کرتے ہوئے کہا کہ کومرات میں عنقریب ترک قونصل خانہ کھولا جائیگا۔

صدر نے اس دورے کی بڑے ہیجان  کے ساتھ تیاری کرنے والے عیسائی ترک طبقے گاگوازیوں کو اہم پیغامات دیے۔ ان پیغامات میں سب سے زیادہ توجہ طلب  زبان اور سالمیت سے متعلق تھا۔ آپ نے گاگوازیوں کے منسلک ہونے والے ملک موولڈووا کی زبان کو بہترین طریقے سے  سیکھنے اور استعمال کرنے کے معاملے پر خبردار کیا  اور اپنی مادری زبان کو بھی برقرار رکھنے کی اپیل کی۔  اس انتباہ اور اپیل کے عقب میں  گاگواز ترکی زبان کے استعمال  کے بارے میں ایک غیر موزوں صورتحال کار فرما  ہے۔ کیونکہ گاگواز  ترک کی مخلصانہ کوششوں اور وسیع پیمانے کے اقتصادی تعاون کے باوجود   اپنی زبان کا تقریباً بالکل استعمال نہ کیے جانے والے ایک مقام کی ماہیت اختیار کر لی  ہے۔

گاگواز خود مختار مقام تین سرکاری زبانوں کا وجود پایا جانے والا ایک علاقہ ہے۔ سن 1995 میں قبول کردہ ایک قانون کے ساتھ گاگواز ترکی زبان، موولڈووین اور روسی  زبان اس مقام کی تین سرکاری زبانیں ہیں۔  بیاسی فیصد آبادی کے گاگواز ترکوں پر مشتمل ہونے والے اس علاقے میں روسی زبان  کا زور پایا جاتا ہے۔ خاصکر شہروں میں  یہ صورتحال زیادہ نمایاں ہے، دیہاتوں میں مادری زبان زیادہ مقبول ہے۔ درمیانی اور ادھیڑ عمر کی نفوس  ترکی زبان سے واقفیت رکھتی ہے تو بچے اور نوجوان طبقہ ترکی زبان  بالکل نہیں جانتا، یا پھر  تھوڑی بہت جانتا ہے۔ گاگواز ترکی زبان  محض گیتوں، قصے کہانیوں، بزرگوں کے ساتھ بات چیت میں اور ترکی کے تعاون سے نشریات پیش کرنے والے میڈیا کے چند عناصر میں ہی اپنے وجود کو جاری رکھے ہو ئے ہے۔

سن 1991 میں اعلان آزادی کرنے والے جمہوریہ موولڈووا کو ترکی نے اسی برس کے ماہ دسمبر میں تسلیم کیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کا قیام تین فروری سن 1992کو عمل میں آیا۔ اس ملک کے ساتھ قانونی بنیاد تصور کیا جانے والا "دوستی و تعاون پیکٹ" ترکی کے نویں صدر سلیمان دیمرل کے دو تا تین جون 1994 میں دورہ موولڈوا کے دوران طے پایا۔ دونو ں مملکتوں کے بیچ دو طرفہ طور پر ویزوں کی پابندی کا خاتمہ یکم نومبر سن 2012 میں دستخط  ہونے والے ایک معاہدے  کے دائرہ کار میں ہوا۔

حالیہ دور میں دو طرفہ تعلقات میں تیزی آئی ہے، اس دورانیہ میں بھاری تعداد میں دو طرفہ دورے سر انجام پائے۔ صدر ترکی رجب طیب ایردوان کا دورہ بھی اس اعتبار سے خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ سن 2016 کے اعداد و شمار کے مطابق  ترکی کی مولڈووا کو برآمدات 189 ملین ڈالر  جبکہ اس ملک سے درآمدات 124 ملین ڈالر تک تھیں۔ دونوں ملکوں کے بیچ طے پانے والے فری ٹریڈ معاہدے کا نفاذ یکم  نومبر سن 2016 سے ہوا۔

ترکی گاگواز خود مختار علاقے کو  بلا مفاد اور مخلصانہ امداد فراہم کرنے والا واحد ملک  ہے۔ اس صورتحال سے علاقے کے بارے میں تھوڑی بہت معلومات رکھنے والے سب لوگ آگاہ ہیں۔ علاقے میں موثر ترین امدادی تنظیم تیکا کی وساطت سے گوگواز کو فراہم کردہ امداد کافی وسیع پیمانے کی ہے۔ اس مقام کا سنگین ترین مسئلہ ہونے والے صاف پانی  کی عدم دستیابی کو تیکا کی مدد سے حل کیا گیا ہے۔ گاگواز ریڈیو ٹیلی ویژن کارپوریشن کے  بنیادی ڈھانچے کو تقویت دلانے سے لیکر اتاترک لائبریری کے قیام، کومرات یونیورسٹی  میں امدادی سرگرمیوں سے لیکر اولڈ ہاوس کی تعمیر تک ، عوامی مجلس کی عمارت کی مرمت سے  لیکر  اسٹیڈیم اور اسپتالوں کی دیکھ بھال  اور اسکولوں کی تعمیرات پر تیکا نے اپنی مہر ثبت کی ہے۔ ترکی ان تمام فلاحی کاموں پر عمل پیرا ہونے کے وقت گاگواز خود مختار مقام  یا پھر مولڈووا کے اندرونی معاملات میں قطعی طور پر مداخلت نہیں کرتا۔  بلکہ اس کے بر عکس خطے میں استحکام  کے قیام کے اداکار  کی حیثیت سے پیش  پیش رہتا ہے۔

صدر ِ ترکی کے کومرات میں خطاب میں صرف کردہ الفاظ کہ'مولڈووا کی زمینی سالمیت ہمارے لیے حیاتی اہمیت کی حامل ہے' کا بھی اسی دائرے میں جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ترکی، گاگواز خود مختار علاقے کو روس اور مغرب کے موولڈووا پر اثر  رسوخ کی  کشمکش میں ایک تنازعے کے آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کا متمنی نہیں ہے۔  ایسا دکھائی دیتا ہے کہ مولڈووا بھی  ترکی کے گاگواز  میں وجود کو استحکام کی ضمانت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس اعتبار سے صدر ایردوان کا گاگوازیوں کے مولڈوا سے  انضمام  اور مولڈووا کی سالمیت  پر دفعتاً زور دینا اہمیت کا حامل ہے۔ اس موقف کو اپنی مادری زبان کو فراموش کرنے کے خطرے سے دو چار گاگوازیو ں  ،  مولڈووا کے رومانیہ سے الحاق کے حامیوں  اور سابق سوویت یونین جغرافیہ میں اپنے اثر رسوخ کی جنگ  میں ہر طرح کا حربہ استعمال کرنے والے روس  کے لیے ایک پیغام  کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔

نتیجتاً  اس دورے نے یہ واضح کیا ہے کہ ترک صدر ایردوان  کی اس علاقے  میں دلچسپی  کا عزم اور واضح  موقف  ،یورپ اور روس کے درمیان پھنس کر رہ جانے والے  ترک باشندوں کے لیے ایک نجات کا ایک راستہ اور توازن کا عنصر ہے۔ لہذا  یہ کہا جا سکتا ہے کہ ترکی کا گاگواز ترکوں سے تعاون  آئندہ کے ایام میں بڑھتے ہوئے  جاری رہے گا۔



متعللقہ خبریں