حالات کے آئینے میں ۔ 44

حالات کے آئینے میں ۔ 44

حالات کے آئینے میں ۔ 44

پروگرام "حالات کے آئینے میں " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ استنبول میں فرانس، جرمنی، روس اور ترکی کی شرکت سے منعقدہ چار رکنی سربراہی اجلاس  میں شام میں قیام امن کے لئے آئینی کمیٹی کے قیام جیسے اہم فیصلے کئے گئے۔ یہ فیصلے ایک  اقدام کے طور پر خواہ کیسے ہی اہم کیوں نہ ہوں شام میں زیادہ اہم مسائل موجود ہیں۔ مثلاً شام۔عراق سرحد پر داعش اور وائے پی جی  دہشت گرد تنظیموں  کے درمیان جاری جھڑپیں، شام۔ترکی سرحدی لائن پر وائے پی جی کی طرف سے کی جانے والی  فائرنگ  اور ادلب کے علاقے میں گروپوں کے درمیان ہونے والی جھڑپیں یہ سب ایسے مسائل ہیں کہ جو اس پہلو کی عکاسی کرتے ہیں کہ شام میں قیام امن کے لئے ابھی اور بہت سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

سیاسیات، اقتصادیات اور معاشرتی تحقیقات کے وقف SETA کے محقق اور مصنف جان آجُون کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

استنبول میں مذاکرات کی میز پر آنے والے 4 رہنماوں نے قیام امن کے لئے اہم فیصلے کئے۔ خاص طور پر   ایک طویل عرصے سے زیرِ غور آئینی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ ایک ایسا فیصلہ ہے کہ جو شام  کے مستقبل  پر دور رس اثرات مرتب کرے گا۔ نئے آئین کی تیاری اگرچہ ایک اہم قدم ہے لیکن یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ یہ مسئلے کا مطلق حل نہیں ہے۔ آئین کی تیاری کے بعد شامی عوام کی طرف سے اس پر رائے شماری کا عمل ایک ایسا مرحلہ ہے کہ جو متعدد رکاوٹوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ایک ایسے ماحول میں کہ جس میں لاکھوں شامی ملک سے باہر ہیں،  لاکھوں شہری ملک کے اندر مہاجرین کی حالت میں ہیں اور اسد انتظامیہ کی  پالیسی کی وجہ سے شامیوں کے لئے پاسپورٹ جیسے اہم دستاویزات  تک رسائی  ممنوع ہے رائے شماری کا انعقاد کافی حد تک مشکل کام ہے۔ چار رکنی سربراہی اجلاس میں کئے جانے والے دیگر فیصلوں میں ادلب میں فائر بندی کو جاری رکھے جانے اور علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جدوجہد  کے فیصلے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ نتیجتاً وائے پی جی جیسی شام کی زمینی سالمیت کے لئے خطرہ بننے والی دہشت گرد تنظیموں کی شر انگیز کاروائیوں کے سدباب کے لئے ترکی کے ڈپلومیٹک  اقدامات  بھی کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔

شام  میں  فیلڈ  کے حالات کو دیکھیں تو شام۔عراق سرحد پر دہشت گرد تنظیموں وائے پی جی اور داعش  کے درمیان جاری جھڑپوں  میں تازہ پیش رفتیں ہوئی ہیں۔ وائے پی جی کی طرف سے  امریکہ، فرانس اور اٹلی کی اسپیشل فورسز کے تعاون سے داعش کے زیر کنٹرول علاقے حاجین کے لئے کئی ماہ پہلے سے آپریشن کا آغاز کروا دیا گیا تھا۔ علاقے میں ریت کے طوفان کا فائدہ اٹھا کر داعش نے ان علاقوں کو چند دنوں میں  ہی قبضے میں لے لیا ہے جنہیں کنٹرول میں لینے کے لئے وائے پی جی کئی مہینوں سے کوششیں کر رہی تھی۔ داعش کی حاصل کردہ کامیابیوں کے ساتھ داعش کے عسکریت پسند دوبارہ عراقی سرحد پر پہنچ گئے ہیں۔ تاہم عراق کی طرف سے داعش کے کسی ممکنہ حملے کے مقابل حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں اور ہشدی  شابی فورسز کو علاقے میں بھیج دیا گیا ہے۔ اب ایک طرف علاقے میں داعش کی پیش قدمی جاری ہے تو دوسری طرف علاقے میں اضافی فورسز بھیجنے اور بین الاقوامی کولیش  کے تعاون کے باوجود  وائے پی جی کے عسکریت پسند داعش کی پیش قدمی کو نہیں روک سکے۔ تاہم یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ داعش کے خلاف جدوجہد کے بہانے سے خود کو جائز بنانے والی دہشت گرد تنظیم وائے پی جی داعش کو ختم کرنے کے معاملے میں کس قدر مخلص ہے؟

شام کے جنوب مشرق میں داعش کے مقابل وائے پی جی کے اہم سطح پر نقصان اٹھانے  کے بعد شام کے شمال میں ترکی کے ساتھ سرحدی پٹی پر بعض چھوٹے پیمانے کی جھڑپیں ہوئیں اور ترک مسلح افواج کی طرف سے بمباری کی گئی ہے۔ عین العرب کی مغربی سرحد  کی اہم پہاڑیوں پر  ترکی کے لئے خطرہ  بننے والے وائے پی جی کے مورچوں کو ترکی کی طرف سے توپ فائرنگ کر کے تباہ کر دیا گیا۔ اس کے بعد تل العباد کی سرحدی لائن پر ترک فوجیوں اور وائے پی جی کے دہشت گردوں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ اس سے اگلے روز دوبارہ عین العرب  کے مغرب میں ترک فورسز کی طرف سے نشانہ بنائے گئے وائے پی جی کے مورچوں سے  ترکی کی سرحدوں  میں موجود بکتر بند گاڑیوں  کے خلاف گائیڈڈ اینٹی ٹینک میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔ وائے پی جی کے سرکاری انٹر نیٹ صفحے کی طرف سے حملے کی تصاویر شئیر کی گئیں۔ اس  واقعے کے بعد  وائے پی جی کی طرف سے یہ اعلان کہ حاجین  فرنٹ پر داعش کے خلاف آپریشن کو ترکی کی بمباری کی وجہ سے روک دیا گیا  ہے اصل میں  اس بات کی عکاسی کر رہا ہے کہ وائے پی جی اپنے مقاصد کے حصول کے لئے داعش کو کیسے ایک ہتھیار کی شکل دے چکی ہے۔

ایک اور موضوع ادلب کے علاقے میں ہونے والی جھڑپیں ہیں۔ سوچی سمجھوتے کے ساتھ ادلب پر کسی ممکنہ حملے کا سدباب کیا جا چکا تھا۔ تاہم گذشتہ دنوں میں ادلب کے علاقے میں دہشتگرد تنظیم  ہیت التحریر الشام اور نور الدین زنگی تحریک کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ شامی مخالفین کا ہیت التحریر الشام کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ دیر تک جاری نہ رہا ہو تو بھی علاقے کے توازن کے کس قدر الجھے ہوئے اور پیچیدہ ہونے کی عکاسی کر رہا ہے۔ اور یہ چیز واضح دکھائی دے رہی ہے کہ شام میں قیام امن کے لئے ادلب میں پائیدار امن کا قیام بہت اہمیت کا حامل ہو گا۔

 



متعللقہ خبریں