عالمی نقطہ نظر44

20 ویں صدی،عالمی اضطراب کی داستان کا احوال

عالمی نقطہ نظر44

عالمی نقطہ نظر44

KURESEL PERSPEKTIF

44/18

PROF DR. KUDRET BULBUL

 

20 ویں صدی  وہ عصرہے جس میں انسان کو   انتہائی  ظلم و برداشت کا سامنا ہے. تاریخ  کی  دو خونریز جنگیں اس بات کی گواہ ہیں  کہ  جوہری بم  ایک ایسا تباہ کن اسلحہ  ہے جس کے استعمال کے بھیانک نتائج   زندہ  نسلوں کے لیے  عبرت ناک بن چکے  ہیں ۔

  دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم کردہ نظام   امن کا نہیں  بلکہ  سامراجیت   کے  تحفظ کا ایک  منصوبہ ہے. بریٹن ووڈس کا   یہ نظام    بین الاقوامی مالیاتی  منصوبے  کا  ترجمان ہے  جس کا مقصد   امریکی ڈالر کو دنیا کی  واحد قابل  قدر کرنسی بنانا ہے ۔

سرد جنگ کے دور میں   اس نظام کو کافی ترویج حاصل رہی    جس کے قیام میں   اقوام متحدہ   کی کوششیں بھی قابل ذکر ہیں۔

 دراصل یہ ڈھکی چھپی بات نہیں کہ  سلامتی کونسل کے 5 بنیادی ارکان  ملک  امریکہ،روس،برطانیہ،فرانس اور چین  کا آپس میں کافی گٹھ جوڑ ہے  جو کہ اس  عالمی نظام کی ڈور اپنے ہاتھوں میں تھامنے  کی  مکمل کوشش میں  ہیں۔ ان طاقتوں   کے اس میل جول کے نتیجے میں   افغانستان، عراق،بوسنیا،کریمیا،شام اور رخائن میں کس قسم کی ظلم و بربریت کا ماحول گرم ہوا یہ ہم سب کے سامنے کی بات ہے ۔

 سرد جنگ     کی  باقیات  یعنی  عالمی نظام    میں اب  اعتراضات  کے باعث تنقید کا سلسلہ  بڑھتا جا رہا  ہے   جس کی وجہ سے ترک صدر رجب طیب ایردوان   ہر موقع پر یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ  اس غیر منصفانہ عالمی نظام   کو ختم کرتےہوئے   اقوام متحدہ  کی از سر نو  تنظیم   ناگزیر بن چکی ہے کیونکہ اس فرسودہ نظام کی بدولت  دنیا میں ہر گزرتے روز امن کا  گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ باور رہے کہ آج کی  اس  جدید دنیا میں   پرانے سرد جنگی نظام کی وقعت  کچھ نہیں ہے ۔

 آج ہم ایک غیر  متوقع صورت حال سے دوچار دنیا    میں  ہیں  جسے اگر پرانی ترک کہاوت سے تعبیر کیا جائے تو  مناسب   ہوگایعنی  "پرانا  دور محال ہوا سو ہوا نیا دور بھی  آمریت   سے کم نہیں"۔   اس وقت صورت حال یہ ہے کہ  عالمی طاقتوں نے  انسانی نہیں بلکہ دیگر جانداروں   کی نسل ختم کرنے کےلیے جوہری ،کیمیائی اور دیگر  خطرناک   اسلحے کے انبار لگا دیئے ہیں   جن   کا بٹن  اگر ایک  غیر سنجیدہ سیاسی شخص کے ہاتھ میں  آجائے تو سوچیں دنیا کا حشر کیا ہوگا۔ اگر  ماضی  کی اس سرد جنگ کی باقیات    سے بچنا  ہے تو ہمیں  امن و آشتی کے پھیلاو کےلیے   عالمی انصاف کے مقدس  اصولوں  کا قیام  عمل میں لانا ہوگا ۔

 عالمی مستقبل   کی تلاش میں سرگرداں موجودہ دور میں  مخلوط اتحاد ضروری ہے  تاکہ   ہر سطح  پر انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے اس سلسلے میں  دنیا کے مفکرین،علمائے کرام ،دینی شخصیات،کاروباری حضرات،تکنیکی ماہرین،یونینوں،بار تنظیموں، نظریاتی  و سماجی اداروں ،کھلاڑیوں،فنون لطیفہ  سے وابستہ شخصیات اور  طلبہ تنظیموں   کا فرض بنتاہے کہ وہ  اس کاوش میں دل کھول کر اپنا کردار  ادا کریں ۔ماضی میں سرد جنگ کے حامی میڈیا کے  خلاف آواز بلند کرنا  ایک  جان جوکھم کا کام تھا  مگر آج کی اس جدید دنیا میں  یہ قدرے آسان ہے  کیونکہ  خود انحصاری کا رحجان اب ایک  عالمی اتحاد کی شکل اختیار کر چکا ہے جو کہ ہر شعبے میں  موجود ہے ۔

 یہ دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر ہے کہ جہاں انسانی عقائد  خواہ جو بھی ہوں   عالمی ماحول کو بچانے  میں  ہمیں یکجا ضمیر  کی آواز  بننا پڑے گا تاکہ  اس رہتی دنیا کو  آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔

حال ہی میں  بیت المقدس   کو اسرائیلی صدر مقام  بنانے کے امریکی فیصلے کے خلاف  دنیا کے بیشتر  ممالک   نے جس طرح کا موقف اپنایا وہ قابل تعریف ہے   ۔

اس فیصلے سے امریکہ کو اپنی من مانی کرنے  سے روکنے میں مدد ملی  حتی گزشتہ  دنوں  استنبول میں  سعودی صحافی  جمال خاشقجی کے  قتل کے واقعے نے بھی عالمی سطح پر ایک مشترکہ موقف اپنانے میں دنیا کی مدد کی  جو کہ ظاہر کرتا ہے کہ امید کا دامن ابھی چُھوٹا نہیں ہے ۔

 ہمارا  نظریہ یہی ہے  کہ  دنیا  اس کے تسلسل  میں  القدس، رخائن،شام ،حقوق انسانی اور اسلام دشمنی، نازی ازم ،فاشزم ،انسداد کیمیائی اسلحہ اور عالمی اجارہ داری  جیسے مسائل  پر سر جوڑ کر بیٹھے اور ان کا  پر امن حل نکالے۔

   دنیا میں عالمی انصاف کے مقدس اصولوں  کا قیام   بلا تفریق ناگزیر ہے  کیونکہ عالمی مشکلات  سے سینہ سپر ہونا  کسی  مملکت واحد کے بس کی بات نہیں ،اس کےلیے عالمی اتحاد کی ضرورت ہے ۔

دور حاضر میں   منصفانہ عالمی نظام کا فقدان  ضرورہے  لیکن  مواقعوں کی کمی نہیں ہے ۔ یہ ہمارا مشترکہ فریضہ ہے کہ ہم اس دنیا کو  امن کا گہوارہ بنانے میں  اپنا کردار ادا کریں بصورت دیگر جوہری اور کیمیائی  اسلحے کے انبار پر بیٹھا ھا  ایک  جنونی  سیاسی لیڈر   دنیا کو موجودہ اور آنے والی نسلوں کےلیے تباہی کو سامان بنا سکتا ہے۔

 یہ جائزہ آپ کی خدمت میں  انقرہ کی یلدرم بایزید یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر قدرت بلبل کے قلم سے پیش کیا گیا



متعللقہ خبریں