پاکستان ڈائری - 44

پاکستان کی بات کریں تو ملک میں ہر سال ڈیڑھ لاکھ کینسر کے نئےمریض سامنے آتے ہیں۔جن میں سے ایک لاکھ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔اس کی بڑی وجہ علاج کا مہنگا ہونا، طبی سہولیات کا فقدان، تمباکو نوشی ، شراب نوشی ،چھالیہ،شیشہ،نسوار اور گٹکے کا استعمال ہے

پاکستان ڈائری - 44

پاکستان ڈائری - 44


کینسر ہونے کے پچھے بہت سے عوامل کارفرما ہیں۔اگر پاکستان کی بات کریں تو ملک میں ہر سال ڈیڑھ لاکھ کینسر کے نئےمریض سامنے آتے ہیں۔جن میں سے ایک لاکھ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔اس کی بڑی وجہ علاج کا مہنگا ہونا، طبی سہولیات کا فقدان، تمباکو نوشی ، شراب نوشی ،چھالیہ،شیشہ،نسوار اور گٹکے کا استعمال ہے۔اس کے ساتھ وزن کی زیادتی ورزش کا نا کرنا اور ماحولیاتی آلودگی بھی اس کی پھیلنے کا سبب ہے ہے۔ٹریفک اور صنعتوں کا دھواں،موبائیل  کا مسلسل استعمال، تابکاری اور ملاوٹ بھی کینسر کا باعث ہے۔کچھ کیسز میں کینسر کی وجہموروثیت بھی ہے اگر خاندان میں یہ بیماری عام ہے تو آگے آنے والی نسل بھی خطرے کی زد میں ہے۔

پاکستانی خواتین میں منہ ناک گلا ، سرویکس ،اوریز، بریسٹ  اور خون کا سرطان زیادہ ہوتا ہے ۔جبکے پاکستانی مردوں میں سراور گردن کا سرطان،پھیپھڑوں کا سرطان ،بڑی آنت کا سرطان،جگر کا سرطان اور خون کا سرطان زیادہ ہوتا ہے۔پاکستانی خواتین بریسٹ کینسر جس کو ہم اردو میں چھاتی کا سرطان کہتے ہیں اس کی زد میں زیادہ آرہی ہیں۔ہر آٹھ میں ایک خاتون پر کینسر کی تلوار لٹک رہی ہے۔خواتین کو باقاعدگی سے اپنا معائنہ کرنا چاہیے۔کسی بھی نا ٹھیک ہونے والے زخم یا گلٹی کی صورت میں فوری طورپر ڈاکٹر سے رابطہ کریں ۔

بریسٹ کینسر جیسے موذی مرض سے معتلق شعور اجاگر کرنے کے لیےعالمی دنیا اور پاکستان بھر میں ماہ اکتوبر بریسٹ کینسر سے بچاو کے طور پر منایا جاتاہے۔ایشایی ممالک میں پاکستان میں چھاتی کے کینسر کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ہر سال چالیس ہزار سے زاید خواتین اس مرض کا شکار ہوکر موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔پاکستان میں چھاتی کے سرطان سے ہلاکت کی بڑی وجہ خواتین کا اس مرض کی تشخیص،علاج میں اور اس پر بات ہی کرنے سے کترانا ہے۔لیڈی ڈاکٹرز اور خواتین میڈیکل اسٹاف کی کمی کی وجہ مریضہ گھبراتی ہیں کہ وہ اپنا علاج کس طرح کروائیں ۔صحت کے ماہرین کے مطابق اگر اس مرض کی جلد تشخیص ہوجایے تو اس کا مکمل علاج ممکن ہے۔

چھاتی کے کینسر کی شناخت اور تشخیص خود خواتین سب سے پہلے کر سکتی ہیں۔خواتین اپنا معاینہ خود کریں اگر انہیں چھاتی میم کوئی تبدیلی محسوس ہو تو فوری علاج پر توجہ دیں۔ ۔مغربی ممالک میں بڑی عمر کی خواتین اس کا شکار ہوتی ہیں جن کی عمر پچاس اور ساٹھ کے درمیان ہو لیکن پاکستان میں کم عمر خواتین میں اس کی شرح زیادہ ہے اور تیس سے چالیس کی عمر کی خواتین اسکا زیادہ شکار بنتی ہیں۔اس کے ساتھ دیگر بہت سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے خواتین اس مرض میں مبتلا ہوتی ہیں اگر یہ بیماری موروثی ہو اور خاندان کی دیگر خواتین اسکا شکار ہوچکی ہوں،اگر خاتون کا وزن زیادہ ہو اور وہ سہل پسندی کا شکار ہو،جن خواتین کو ماہواری بہت کم عمری میں شروع ہویی ہوجسیے آٹھ یا نو سال اور جن کا ماہانہ ایام کا دور پچاس سال کی عمر کے بعد بھی جاری رہے،جن خواتین کے ہاں بچوں کی پیدایش تیس سال کے بعد ہو ان سب میں چھاتی کے سرطان کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے۔اس کے لیے ضروری کے خواتین اپنی تشخیص خود کریں اگر چھاتی یا بغل کی طرف گلٹی نمودار ہو ،جلد پرزخم اور خراشیں جو ٹھیک نا ہو رہی ہوں،کھال کی ساخت یا رنگ میں تبدیلی آجایے، تو طبی ماہرین سے فوری رابطہ کریں۔ضروری نہیں کہ تمام زخم یا گلٹیاں سرطان کی ہی علامات ہوں لیکن احتیاط بہترہے۔اگر اس مرض کی تشخیص بروقت ہوجایے تو علاج کے ذریعے سےمکمل صحت یاب ہونے کی شرح 80 فیصد ہے۔

 خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ تیس سال کی عمر کے بعد کم ازکم پانچ سال میں ایک مرتبہ میمو گرافی ضرور کروایں۔ چالیس سال کی عمر کے بعد ہر دو سال بعد اور پچاس سال عمر ہوجانے کے بعد ہر سال میمو گرافی کروانی چاہیے ۔ میمو گرافی ایک خاص قسم کا ایکسرے ہوتا ہے جس سے چھاتی میں موجود ہر طرح کے سرطان کی تشخیص ہوجاتی ہے۔

۔کینسر پہلے مرحلے میں تو مخصوص خلیوں میں ہی رہتا ہے لیکن دوسرے مرحلے کے آغاز سے یہ جسم کے دیگر حصوں میں پھیلانا شروع ہوجاتا ہے جو بہت خطر ناک ثابت ہوتا ہے۔چھاتی کے کینسر کے ابتدایی دنوں میں درد نہیں محسوس نہیں ہوتا اس کی وجہ سے علاج میں تاخیر ہوجاتی ہے۔اس لیے کسی بھی قسم کے زخم رطوبت یا گلٹی کی صورت میں دیر نا کریں ڈاکٹر کے پاس جایں اور ٹیسٹ کروایں۔پاکستان میں چھاتی کے سرطان کے لیے مختلف طریقہ موجود ہیں جن میں سرجری،ریڈیشن،آپریشن،کمیو تھراپی شامل ہیں۔سکرینگ ،مختلف ٹسیٹ ، الٹرا ساونڈ ،خون کا ٹیسٹ،انڈو سکوپی ،سٹی سکین ،بایوپیسی کے ٹیسٹ کے ذریعے سے کینسر کی تشخیص کی جاتی ہے ۔ہر کینسر کی ادویات اور علاج الگ ہیں اور معالج ہی تشخص کے بعد علاج  شروع کرسکتا ہے۔علاج ادویات ، ریڈیو تھراپی  ، کمیو تھراپی کے زریعے سے کیا جاتا ہے۔ کینسر سے بچنے کی احتیاطی تدابیر یہ ہیں تمباکو نوشی سے پرہیز کریں کیونکہ یہ صرف آپ کو نہیں آپ کے اہل خانہ کو بھی کینسر میں مبتلا کرسکتا ہے۔سگرٹ کا پینا اور اسکا دھواں دونوں کینسر کا باعث بنتے ہیں،تیس فیصد سے زائد کینسر کا خطرہ صرف تمباکو نوشی چھوڑ کر ختم کیا جاسکتا ہے۔شراب نوشی سے مکمل پرہیز کریں ۔بازار کا کھانا کھانے سے پرہیز کریں پانی ابال کر پیئں۔خواتین معیاری میک اپ پراڈکٹس لیں اور غیر ضروری بیوٹی ٹریٹمنٹ نا کروائیں خاص تو پر بریسٹ امپلانٹس نا کرائیں جائیں ۔فریزی سوڈا ڈرنک ہرگز نا پیں،ہر ہفتے ایک سو پچاس منٹ واک کریں خود کو موٹاپے سے بچائیں،غذا کو سادہ رکھیں۔تازہ پھل سبزیاں،انڈا،مچھلی،دودھ، بکرے کا گوشت اور چکی کا آٹا استعمال کریں۔ڈبے میں بند کھانے،سرخ گوشت، فارمی مرغی ،مصنوعی رنگ والی اشیاء کھانے سے پرہیز کریں۔گھی جب اپنی سنہری رنگت تبدیل کرلے اس میں چیزیں تلنا بندکردیں اور گھی تیل کو پھینک دیں۔

۔دھوپ میں سن اسکرین کریم کا استعمال کریں۔کالے رنگ کے زیر جامے دھوپ میں نکلتے وقت ہرگز بھی نا پہنیں ۔ زیادہ تر پاکستانی خواتین تمباکو نوشی کی عادی نہیں لیکن آجکل فیشن میں شیشے کا استعمال بڑھ رہا ہے اس سے پرہیز کیا جایے کیونکہ کہ تمباکو کے دھوایں سے کینسر کا امکان بڑھ جاتاہے۔جو مائیں اپنے بچوں کو ایک سال تک اپنا دودھ پلاتی ہیں ان میں بریسٹ کینسر کاخطرہ کم ہوجاتا ہے۔

حکومت کو چاہیے اس کے حوالے سے عوام الناس میں آگاہی پھیلائے۔حفظان صحت کے اصولوں کو اپنایا جائے،چھالیہ ، پان گٹکے سگرٹ شیشے پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ اسکے ساتھ پبلک مقامات پر تمباکو نوشی کی ممانعت ہونی چاہیے۔ماحول دوست اقدامات کیے جائیں زمینی فضائی آلودگی اور پانی کی آلودگی کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں اور شجرکاری کی جائے ۔سب سے آخر میں جہاں ہسپتال میں بریسٹ کینسر کا علاج ہوتا ہےوہاں کے عملے کو خواتین پر مشتمل ہونا چاہئے تاکہ مریضہ جھجک محسوس نا کریں ۔



متعللقہ خبریں