حالات کے آئینے میں ۔ 43

حالات کے آئینے میں ۔ 43

حالات کے آئینے میں ۔ 43

پروگرام " حالات کے آئینے میں " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔  ترکی کے سیاست، اقتصادیات  اور معاشرتی تحقیقات کے وقف SETA کے مصنف اور محقق جان آجُون کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

2 اکتوبر کو روزنامہ واشنگٹن پوسٹ کے سعودی صحافی جمال خاشقجی اپنی شادی  کے دفتری امور  کے لئے استنبول کے سعودی قونصل خانے میں داخل ہوئے۔ کافی دیر تک قونصل خانے سے باہر نہ نکلنے پر ان کی منگیتر خدیجہ جنگیز نے ترک حکام کو معاملے کی اطلاع دی جس کے بعد  خاشقجی کی تلاش کے لئے وسیع پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کروا دیا گیا۔

عالمی ذرائع ابلاغ خاشقجی  واقعے پر بغور نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ ترک حکام کی طرف سے وقفے وقفے سے ذرائع ابلاغ کو واقعے کے بارے میں  دلائل سے آگاہ کرنے کے بعد سعودی فریق  بھی کچھ عرصے کے بعد خاشقجی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے سے متعلق  اپنے بیانات کو تبدیل کرنے پر مجبور ہو گیا۔ ابتدا میں سعودی فریق کا دعوی تھا کہ خاشقجی قونصل خانے سے نکل گئے ہیں ۔ قونصل خانے نے کیمرہ ریکارڈنگ  کی عدم موجودگی کے دعوے کے ساتھ خاشقجی کے قونصل خانے سے نکلنے کی ویڈیو ٹیپ کو رائے عامہ میں پیش کرنے سے انکار کر دیا۔ سعودی عرب سے خاشقجی کے قتل کے لئے استنبول آنے والی 15 رکنی ٹیم کو قونصل خانے نے ٹوئرسٹ کے طور پر پیش کیا لیکن بعد ازاں قتل کا اعتراف کر کے 15 افراد پر مشتمل ٹیم اور قونصل خانے میں اس کام میں ملوث 3 افراد کو خاشقجی قتل کی وجہ سے حراست میں لے لیا۔ صدر رجب طیب ایردوان  کی سعودی شاہ سلمان کے ساتھ ٹیلی فونک  ملاقات کے بعد  سعودی فریق نے اگرچہ خاشقجی کے قونصل خانے میں پیش آنے والی ہاتھا پائی کے نتیجے میں ہلاک ہونے کا دعوی کیا  لیکن ترک حکام  کی طرف سے رائے عامہ کے سامنے پیش کی گئی خاشقجی کے ڈُپلیکیٹ  کی ویڈیو  اور دیگر شواہد  کے ساتھ یہ پہلو  زیادہ حتمی  شکل میں سامنے آیا  کہ خاشقجی قتل باقاعدہ منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا۔

سعودی عرب نے ابتدا میں قتل سے انکار کیا لیکن  خدیجہ جنگیز کے قونصل خانے کے سامنے اپنے منگیتر خاشقجی  کا انتظار کرنے، خاشقجی کے قونصل خانے سے نہ نکلنے پر سکیورٹی فورسز کو اطلاع دینے اور اس کے بعد تحقیقاتی کاموں کے نتیجے میں قتل سے متعلق نہایت اہم دلائل کے سامنے آنے سے یہ معاملہ ایک بالکل مختلف نقطے پر پہنچ گیا۔ سعودی فریق نے ایک طویل عرصے تک مزاحمت کی اور قتل سے انکار کیا لیکن ترک فریق کی حالات کو کنٹرول میں لینے کی قابلیت اور عالمی ذرائع ابلاغ کو ان حالات سے آگاہ کرنے کے بعد عالمی دباو کے  نتیجے میں سعودی فریق نے اپنی پوزیشن تبدیل کرنا شروع کر دی۔ سعودی فریق نے ابتدا میں  رد کئے گئے واقعے کو اعتراف کے بعد مختلف سیناریو کے ساتھ  پیش کرنے کی کوشش کی۔ تاہم اس وقت تک جتنے بھی دعوے ان کی طرف سے کئے گئے ہیں انہیں عالمی رائے عامہ کی طرف سے قبول نہیں کیا گیا۔ صدر رجب طیب ایردوان نے موضوع سے متعلق خطاب میں پیش کردہ اعداد و شمار  کے ساتھ ثابت کیا کہ یہ قتل باقاعدہ منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا۔ استنبول کے سعودی حکام  کا قتل سے قبل  ریاض جانا ، قتل کا منصوبہ تیار کرنا، 15 رکنی ٹیم کا استنبول آنا،  ٹیم میں عدلیہ کے ڈاکٹر تک کی موجودگی یہ سب نہایت اہم دلائل تھے جنہیں ترکی منظر عام پر لایا۔ ان دلائل  کے حوالے سے سعودی فریق  کے پیش کردہ مختلف سیناریوز کو دیکھا جائے تو یہ سب ایک دوسرے سے متضاد دکھائی دیتے ہیں۔ جیسے جیسے سعودی فریق پر دباو میں اضافہ ہو رہا ہے سعودی انتظامیہ مختلف شکلیں اختیار کر رہی ہے۔ سعودی حوالے سے اصل مسئلہ پرنس محمد بن سلمان کو اس معاملے سے اور اس کی ذمہ داری سے باہر رکھنا ہے۔ ترکی بھی اس پہلو کو  سمجھ رہا ہے جس کی وجہ سے صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے خطاب میں شاہ سلمان اور پرنس محمد کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا اور پرنس کو باہر رکھتے ہوئے شاہ سلمان کے لئے ایک راستہ کھول دیا۔ خاشقجی واقعے سے پہلے بھی  جیسا کہ سعودی ذرائع کی خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ پرنس محمد بن سلمان جمال خاشقجی کو ایک شخصی ہدف کی شکل دے چکے تھے۔ پہلے بھی خاشقجی کو خاموش کرنے کے لئے اقدامات کئے گئے۔ سعودی خفیہ خبر رساں ایجنسی  کے سربراہ عاصیری  نے خاشقجی کے ساتھ ملاقات  میں انہیں ملک واپس لوٹنے پر رضا مند کرنے کی کوشش کی۔

ترکی کے حالات کو اسٹریٹجک شکل میں چلانے کے نتیجے میں سعودی عرب پر بین الاقوامی دباو پڑ گیا۔ امریکہ میں خاص طور پر وائٹ ہاوس پرنس محمد بن سلمان کو واقعے سے باہر رکھنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن امریکی سینت کا طرز عمل اور ترکی کے پاس موجود اور تاحال رائے   عامہ سے مخفی دلائل کے ساتھ پرنس محمد کے گرد حلقہ بتدریج تنگ ہو رہا ہے۔

ترکی کے خاشقجی واقعے میں شاہ سلمان  کو ایک طرف رکھنے کے طرز عمل کا وائٹ ہاوس کی طرف سے  بھی زبان پر لایا جانا اور پرنس  محمد بن سلمان کے  معاملے سے تعلق  کا امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے زبان پر لایا جانا  پرنس کے گرد حلقے کے کس قدر تنگ ہونے کی عکاسی کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے شاہ سلمان کے اس معاملے میں ملوث نہ ہونے اور معصوم ہونے  پر یقین ہونے کے بارے میں جاری کردہ بیان  کے بعد کہا کہ " موجودہ حالات میں وہاں   انتظام   پرنس چلا رہے ہیں اگر اس واقعے کا  کسی سے تعلق ہونا  ضروری ہے تو وہ پرنس ہیں"۔

آنے والے دنوں میں ترکی کے نئے دلائل تک رسائی حاصل  کرنے ، موجودہ دلائل کو رائے عامہ کے سامنے پیش کرنے سے ایک قوی احتمال کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد پرنس کی حیثیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ سعودی  شاہی خاندان میں پرنس محمد بن سلمان  کی طاقت کا منبع ان کے والد شاہ سلمان  ہیں جسے انہوں نے بیرون ملک حاصل  کردہ حمایت سے زیادہ مضبوط  بنا رکھا تھا۔ تاہم اب پرنس محمد اپنے والد کے ساتھ ساتھ اپنے بیرون ملک حامیوں کے تعاون سے بھی محروم ہونے والے ہیں۔

 



متعللقہ خبریں