ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 43

ترکمانستان کی نیٹو رکنیت اور اس کے ترک خارجہ پالیسی پر اثرات

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 43

! یوریشیا ممالک کی سٹریٹیجک اہمیت کے مالک ممالک میں سے ایک ترکمانستان  کے نیٹو کے ساتھ تعلقات میں پیش رفت  جاری ہے۔ آج کی اس کڑی میں  ترکمانستان۔ نیٹو تعلقات اور  ان کے ترک  خارجہ پالیسی  پر ممکنہ اثرات  کا جائزہ  قارا تیکن یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی  تعلقات  کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک  کے قلم سے۔۔۔

یوریشیا کے کلیدی ممالک میں سے ایک ترکمانستان کی شمالی اٹلانٹک معاہدہ تنظیم  نیٹو کے ساتھ  باہمی تعلقات کی ابتدا سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے فوراً بعد 1192 کے ماہ مارچ میں ہوئی۔ترکمانستان  نے بھی  سوویت یونین  سے علیحدگی اختیار کرنے والی دیگر مملکتوں کی طرح  شمالی  اٹلانٹک  تعاون کونسل میں  شمولیت اختیار کر لی۔  اس تنظیم کو  بعد ازاں یورپی اٹلانٹک شراکت داری کونسل EAPC  کا نام  دیا گیا۔

جولائی سن 1192 میں یورپی سلامتی و تعاون  کانفرس کے ہیلسنکی سربراہی اجلاس میں ترکمانستان کے پہلے صد ر سپار مراد ترکمین باشے نے اعلان کیا کہ ترکمانستان  خارجہ پالیسیوں  کی بنیاد کے طور پر مثبت غیر جانبدار اصولوں پر کار بند رہے گا۔ تا ہم   اس عمل نے  مئی سن 1994 میں ترکمانستان  کے نیٹو کے شراکت داری برائے امن  پروگرام میں شامل ہونے والے وسطی ایشیا کے پہلے ملک ہونے کی راہ میں رکاوٹ کھڑی نہ کی۔

مثبت غیر جانبداری  سے مستقل غیر جانبداری میں بدلنے والی حیثیت  کو دسمبر 1995 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سرکاری طور پر  تسلیم کر لیا۔ اس کے باوجود  ترکمانستان نے اسی برس شراکت داری برائے امن  کے دائرہ کار میں پہلے انفرادی حصہ داری پروگرام کو قبول کرتے ہوئے  نیٹو کے ساتھ مل کر کام کرنے کو جاری رکھا۔

نیٹو کی ترکمانستان  میں  بڑھتی ہوئی دلچسپی  کے معاملے میں ہمارے مشاہدے میں آنے والا معاملہ  یہ تھا۔ اگست 2003 میں بحیرہ کیسپیئن  کےساحلو ں پر واقع  ترکمین باشے شہر میں 2500 ترکمان  فوجیوں کے حصہ لینےو الی "آسودہ وطن" نامی  انسداد ِ دہشت گردی فوجی مشقوں میں نیٹو کے مبصرین نے بھی شرکت کی۔ تا ہم ، وسطی ایشیا کے دیگر ممالک کے بر عکس ترکمانستان   نے نیٹو کی چھت تلے منعقدہ  کسی بھی فوجی مشقوں میں شرکت نہیں کی اور محض بعض اوقات اپنے مبصرین کو ہی بھیجنے پر اکتفا کیا۔ یہ عمل ہر طرح کے علاقائی اقتصادی، سیاسی یا پھر سیکورٹی تعاون    امور میں شراکت کو رد کرنے والے صدر ترکمین  باشے  کی  عمل پیرا ہونےو الی تنہائی پر مبنی خارجہ پالیسیوں اور غیر جانبداری کی حیثیت کے عین مطابق تھا۔ دیگر  وسطی ایشیائی  جمہورتوں  کے مقابلے میں ترکمانستان   اور میثاق کے درمیان دو طرفہ تعلقات   کافی  محدود  سطح تک رہے۔

ترکمین باشے کی وفات کے بعد 11 فروری سن 2007 میں ہونے والے عام انتخابات میں ووٹوں کے 82٫23 فیصد  تناسب کو حاصل کرنے والے قربان گلی بردی مہمدوف  ترکمانستان کے دوسرے صدر منتخب ہوئے۔

بردی مہمدوف نے ترکمانستان   کے نیٹو  پر بھی مبنی بیرونی دنیا کے ساتھ تعلقات کو ازسر نو جانبر  کرنے کے زیر مقصد بعض       اقدام اٹھائے۔ نومبر 2007 میں بردی مہمدوف نے برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کرتے ہوئے وہاں پر نیٹو کے سیکرٹری جنرل جاپ دی ہوپ شیفر  سے ملاقات کی۔ سر انجام پانے والے مذاکرات کے دوران طرفین نے وسطی ایشیا  کی علاقائی سلامتی  صورتحال  کا بھی جائزہ لیا۔ علاوہ   ازیں طرفین  نے شراکت داری برائے امن پروگرام کے دائرہ کار میں میثاق کے  افغانستان میں  ایساف مشن کے ایک حصے کے طور پر ترکمانستان اور نیٹو کے مابین عملی تعاون کو فروغ دینے کی منظوری دے دی۔

اپریل 2008 میں صدر برد مہمدوف نے بخارسٹ میں  منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔ اس صورتحال کو ترکمانستان  کی عالمی سطح پر ساکھ کو فروغ دینے، تنہائی میں تحفیف ا ور اس ملک کے   خارجہ پالیسی متبادل کو فروغ دینے  کی کوششوں کے طور پر بیان کیا گیا۔

عصرِ حاضر میں بھی ترکمانستان مشترکہ  دلچسپی کے حامل شعبہ جات کے معاملے  میں نیٹو کے ساتھ باہمی تعاون کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ترکمان حکام نیٹو اور رکن ممالک کی جانب سے منعقدہ  مختلف تربیتی پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں۔ یہ ملک میثاق کے امن و سلامتی کے لیے علوم  پروگرام کے دائرہ عمل میں نیٹو کے ساتھ فعال طور پر تعاون کر رہا ہے۔ اس پروگرام کے نتیجے میں منظرِ عام پر آنے والی پیش رفت نے ترکمانستان میں انٹرنیٹ کیمیونیکشن کے بنیادی ڈھانچے  کے قیام میں  اہم سطح ک پر بار آور ثابت ہوئی۔ علاوہ ازیں  اس نے ترکمان  اکیڈمیشنز اور نوجوان سائنسدانوں کو بین الاقوامی سائنسی و علمی سوسائٹیوں  کے ہمراہ تحقیقاتی  شراکت داری قائم کرنے کے مواقع فراہم کیے۔

ترکمانستان  کی غیر جانبدار ملک کی حیثیت  اس کے نیٹو کے ساتھ تعاون میں رکاوٹ تشکیل نہیں دیتی۔ تا ہم ،  میرا نہیں خیال کہ مستقبل قریب میں  ترکمانستان، محدود سطح کی شراکت  پالیسیوں پر نظر ِ ثانی کرے  گا اور  میثاق کے ساتھ اپنے باہمی تعلقات میں مضبوطی لانے کی کوشش کرے گا۔کیونکہ مستقل غیر جانبدار حیثیت ، ترکمانستان کو روس ، چین اور مغربی ممالک کے ساتھ باہمی تعلقات میں توازن  قائم کرنے اور کسی بھی علاقائی بلاک کی رکنیت  سے گریز کرنے  میں ممدو معاون ثابت ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ  ملک کی عالمی معیشت کے ساتھ یکسانیت   حاصل کرنے اور  ہمسایہ ممالک کے  اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ کہیں زیادہ تعاون اور ڈائیلاگ قائم کرنے کی کوششوں کو بھی نظرِ انداز نہیں کیا جا نا چاہیے۔ اس لحاظ سے صدر م بردی مہمدوف کی فوجی اصلاحات اور جدت   کے حصول کی خواہشات، نیٹو کے ساتھ باہمی تعاون کو مزید تقویت دینے میں بعض اہم مواقع فراہم   کر سکتی ہیں۔

نیٹو کی دوسری  بڑی فوج   کا مالک ترکی ، ترکمانستان کے نیٹو کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کو مثبت نگاہ سے دیکھتا  ہے اور اس کی حمایت کرتا  ہے۔ ترکی اور ترکمانستان   ترک برادری کے اندر  اعوز  قبیلے سے تعلق رکھنے والی دو مملکتیں ہیں۔ آئندہ کے  سلسلے میں دونوں ملکوں کے بیچ  سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات میں   گہرے تعاون کا ہدف   رکھنے والی  وسیع پیمانے کی حکمت عملی قائم کی جانی  چاہیے۔ اس  حکمت عملی  درمیانی اور طویل مدت کے پیش نظر  پر مملکتی پالیسیوں کے طور پر عمل  درآمد کرنا لازمی ہے۔  علاقائی اقتصادی پالیسیوں کے فروغ میں سول سوسائیٹیز ، سرکاری اداروں، یونیورسٹیوں اور تھنک ٹینکس  کے درمیان مؤثر تعاون اور رابطہ قائم ہونا چاہیے۔

جمہوریہ ترکی کو  ترکمانستان میں  سر گرم عمل اور اہم منصوبوں پر مہر ثبت کرنے والی ترک نجی فرموں سے تعاون کرنا چاہیے اور ان پر نظر رکھنی چاہیے۔  کامیاب  اور ناکام رہنے والوں کے درمیان تفریق کرتے ہوئے   ان  کے کاموں میں نکھار لانے میں معاونت فراہم کرنی  چاہیے۔  ترکی کوچاہیے کہ وہ ان فرموں  کے منتظمین اعلی اور فنی عملے کو پبلک ڈپلومیسی کے زیر مقصد  استعمال کرے اور ان کو لابی سرگرمیوں  میں  بروئے کار لائے۔

نتیجتاً ترکمانستان   کے بھی شامل ہونےو الی ترکی جمہورتیں بلا شبہہ ترک خارجہ پالیسی کی توازن قائم کرنے کی کوششوں میں اہم مقام کی حامل ہیں۔ اس اعتبار سے  ماضی سے چلے آنے والے روابط سمیت ترکی  کی غیر جانبدار خارجہ پالیسیوں کی ترجیح میں ترکمانستان کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔



متعللقہ خبریں