ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 42

عراقی کردی علاقائی انتظامیہ میں پارلیمانی انتخابات اور اس کے ترک خارجہ پالیسی پر ممکنہ اثرات

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 42

قلیل مدت پیشتر عراقی کردی علاقائی انتظامیہ  کے پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ہوا۔ آج کی اس کڑی میں شمالی عراق میں منعقد ہونے والے ان انتخابات اور اس کے ترک خارجہ پالیسی پر اثرات کا جائزہ

قارا تیکن یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کے قلم سے ۔۔۔

تیس ستمبر 2018 کو عراقی کردی علاقائی انتظامیہ کا تعین کرنے کے لیے انتخابات منعقد ہوئے۔ اس مقصد کے تحت عربیل۔ سلیمانیہ اور دوخوق میں مقیم عراقی شہریوں نے  پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کیا۔ان  انتخابات  میں ا س سے قبل کے  پارلیمانی انتخابات کے مقابلے میں  شراکت کی شرح کافی کم رہی  تو اس کے  علاوہ الیکشن کے روز رونما ہونے والے واقعات بھی وسیع  پیمانے کی بحث چھیڑنے کا موجب بنے۔

ان  انتخابات  کے اغراض و مقاصد اور منعقد ہونے والے ماحول کے اعتبار سے ان کے  2009 اور 2013 کے انتخابات کے  ساتھ دو فرق پائے جاتے ہیں۔ ان  انتخابات  کا اس سے  قبل کے انتخابات سے اہم ترین فرق ؛ گزشتہ دو انتخابات کے بر عکس ؛ علاقائی چیئرمین کے  انتخابات کے ساتھ بیک وقت منعقد نہ ہونا ہے۔  سن 2017 کی پیش رفت کے بعد مسعود برزانی  کے اپنے عہدے سے دستبردار ہونے  سے پیدا ہونے والا خلاء ،عراقی کردی علاقائی انتظامیہ  کے "بنیادی قانون" اور چیئرمین کی مدت فرائض  اور دوبارہ منتخب ہونے سے متعلق بحث و مباحثہ  چھڑنے کی بنا پر اس دور میں پورا نہیں ہو سکا۔ یہی وجہ ہے کہ تیس ستمبر کو محض علاقائی پارلیمانی انتخابات کا ہی قیام عمل میں آسکا۔ مذکورہ انتخابات اور اس سے پیشتر کے انتخابات کے درمیان دوسرا اہم فرق ، ان کا  کہیں زیادہ مختلف اقتصادی و سماجی پیش رفت کے سامنے آنے والے ایک دور میں  منعقد ہونا ہے۔ حالیہ 6 ماہ میں خاصکر سلیمانیہ اور اس کے مشرقی علاقہ جات میں معاشی مسائل  کے جواز میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو  طاقت کے بل بوتے  دبا دیا گیا ۔ اس بنا پر طول پکڑنے والے اقتصادی مسائل کے سامنے عوام کے  رد عمل کی نوعیت کے بارے میں تجسس پایا جاتا تھا۔

انتخابات کے حوالے سے توجہ طلب  ایک دوسرا معاملہ  اس سے قبل کے پارلیمانی انتخابات کے مقابلے میں  شرح شراکت میں حد درجے کی کمی ہے۔ سن 2013  میں شرح شراکت 73 فیصد  تھی تو حالیہ انتخابات میں یہ شرح محض 58 فیصد تک رہی۔ دراصل  انتخابات کے دن بعض ذرائعوں  نے  مختلف جائزوں میں اس سے کہیں زیادہ کم سطح کی شراکت کا دعوی کیا  تھا۔  عربیل اور سلیمانیہ میں پولنگ کے عمل  کے خاتمے کے بعد  ابتدائی اعلانات میں شراکت کے تناسب  اور بعد میں سرکاری اعلانات میں پیش کردہ تناسب  میں 10 فیصد کے لگ بھگ فرق موجود تھا۔ اس صورتحال نے فطری طور پر شراکت کے معاملے پر شک و شبہات کو شہہ دی۔ علاوہ ازیں عراقی کردی علاقائی انتظامیہ  میں سر گرم عمل کردی محبان  وطن یونین ، نئی نسل کی  طرح کی سیاسی جماعتوں نے عربیل اور سلیمانیہ میں جعلی شناختی کارڈوں کے ذریعے انتخابی  نتائج کو متاثر کر سکنے کی حد تک دھاندلی ہونے کا دعوی کیا۔  اسی طرح  خود مختار ذرائعوں   کی جانب سے شائع کردہ تصاویر اور ویڈیو مناظر میں پولنگ ختم ہونے کے بعد مسلح افراد کے انتخابی دفاتر پر دھاوا بولنے ، پولنگ افسران کو جبراً بے بس کرنے اور سیاسی جماعتوں کے نگرانوں کو زود و کوب کرنے کا  واضح طور پر مشاہدہ ہوتا ہے۔  اس بنا پر انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد اور تناسب کا جائزہ لینے سے  عراقی کردی علاقائی انتظامیہ  کو حقیقی عوامی حمایت کا اندازہ کرنا کافی مشکل ہے۔ دوسری جانب  عوام کی ترجیح اور خاصکر مخالف سیاسی  جماعتوں  کی حمایت کا جائزہ  لینے کے حوالے  سے یہ نتائج کچھ حد تک بارآور ثابت ہو ئے ہیں۔

عراقی کردی علاقائی انتظامیہ کی چھت تلے سر گرم عمل کردی ڈیموکریٹ پارٹی KDP توقعات کے مطابق انتخابات  میں اول نمبر پر رہی۔ قطعی نتائج کااس پروگرام کی ریکارڈنگ کے وقت تک اعلان نہ کیا گیا تھا تا ہم موجودہ نتائج کے مطابق KDP   پینتالیس نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی۔اضافی طور پر اقلیتی کوٹے  کے مطابق  اسمبلی کی نشستیں حاصل کرنے والے گیارہ ممبران اسمبلی  میں سے کم از کم نو  کے KDP کے حامیوں میں سے چنے جانے کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔ نتائج کے حتمی  ماہیت اختیار کرنے کے بعد KDP کے دو یا پھر تین نشستوں  کے ذریعے اسمبلی  میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے لازمی 56 کی تعداد  تک پہنچ سکے گی۔ اس بنا پر انتخابات کے اہم ترین فاتح کے KDP ہونے کا واضح طور پر مشاہدہ  کرنا ممکن ہے۔

کردی محبان ِ وطن یونینKYB تمام تر اعتراضات اور انتخابات کے روز  پیش آنے والے تمام تر مسائل کے باوجود  دوبارہ دوسری بڑی پارٹی کی حیثیت حاصل کر گئی ہے۔ لہذا یہ حکومت میں جگہ پانے کے لیے ہر ممکنہ کوششیں صرف کرے گی۔پارلیمنٹ میں اس کی طاقت  کو ایک طرف چھوڑیں تو بھی پیشمرگوں کی تعداد کے اعتبار سے  اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ KYB  کا دیگر سیاسی جماعتوں سے اہم ترین فرق، اس کی فوجی طاقت اور منظم ڈھانچے کی بدولت KDP یا پھر دیگر جماعتوں کے دباو کے سامنے گردن خم نہ کر نے کی طاقت کامالک ہونا ہے۔ دوسری جانب بہرام صالح کے عراق کے صدر منتخب  ہونے  کے بعد ایک طویل عرصے سے KYB میں جاری کشمکش   کے خاتمے کا احتمال قوی ہے۔

اس سے قبل کے انتخابات میں اہم سطح کی گرفت  حاصل کرنے ہونے والے  گوران  علاقے میں اس کا زوال جاری ہے۔ گوران کے لیڈر نوشیران  مصطفی  کی موت کے بعد پارٹی کے اندر لیڈرشپ کی کشمکش اور  پرانی نسل اور نئے امیدواران کے درمیان بحث و مباحثہ نے تیزی پکڑ لی ۔ 

اس سے پیشتر کے انتخابات کے مقابلے میں نشستوں کی تعداد  میں پچاس فیصد کی گراوٹ اور شرح ووٹ موجودہ پارٹی رہنما عمر سعید علی کی گدی کو ہلانے کا موجب بنے گی۔ دوسری جانب عراقی کردی علاقائی انتظامیہ کے پارلیمانی انتخابات میں پہلی بار حصہ لینے والی نئی نسل تحریک نے  مئی 2018 کے الیکشن کے مقابلے میں ووٹوں کی تعداد میں کمی آنے کے باوجود اپنے دوام کا تحفظ کیا ہے۔ تحریکِ گوران  کے کمزور پڑنے پر KDP اور KYB  کو ناپسند کرنے والوں کا رخ نئی نسل تحریک کی جانب مڑ سکتا ہے۔

سلسلہ انتخابات اور اس کے نتائج نے مندرجہ ذیل حقائق کو واضح کیا ہے: عراقی کردی  علاقائی انتظامیہ کے موجودہ سوشیو اکانومک ماحول کے جاری رہنے کی صورت میں  علاقے میں موجودہ سیاسی اداروں کی جانب سے مسائل کا حل تلاش  نہ کر سکنے اور افراتفری پیدا ہونے کا احتمال قوی دکھائی دیتا ہے۔ عوام کا بتدریج سیاسی اداروں پر اعتماد میں فقدان  بھی الیکشن میں شراکت کے تناسب میں کمی آنے کا موجب بن رہا ہے۔ اس بنا پر شمالی عراق  میں اب کے بعد منظر عام پر آنے والے احتجاجی مظاہرے سیاسی جماعتوں  کے کنٹرول سے باہر  نکلنے  اور ان کو خون بہانے کے ذریعے دبائے جانے کا احتمال بھی پایا جاتا ہے۔

اس معاملے کا ترک خارجہ پالیسی کے نچوڑ کے مطابق جائزہ لینے اور علاقائی، مقامی اور عالمی تبدیلیوں کو بالائے طاق رکھنے سے انقرہ۔ عربیل تعلقات کے موجودہ حالات کے دائرہ عمل میں ایک نئی ماہیت اختیار کرنے کا کہنا ممکن ہے۔ ہر چیز کو فراموش کرتے ہوئے ماضی کی جانب لوٹنا بین الاقوامی تعلقات کی فطرت کے تقاضے کی رُو سے نا ممکن ہے تا ہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ  دونوں طرفین کے درمیان تعلقات اور مشترکہ مستقبل ، دو طرفہ مفادات کی بنیادوں اور شرائط کے دائرہ کار میں از سر نو قائم ہوں گے۔



متعللقہ خبریں