قدم قدم پاکستان - 42

آئیے! آج آپ کو پشاور کے محلہ سیٹھیاں لیے چلتے ہیں

قدم قدم پاکستان - 42

قدم قدم پاکستان - 42

آئیے! آج آپ کو پشاور کے محلہ سیٹھیاں لیے چلتے ہیں۔

پشاور کے”گھنٹہ گھر بازار“سے چند قدم آگے” محلہ سیٹھیاں“ ہے جہاں کی عمارا ت قدیم طرزِ تعمیرکے حوالے سے تہذیبی اور تاریخی اہمیت کی حامل ہیں۔ محلہ سیٹھیاں کی وجہ تسمیہ قیام پاکستان سے قبل یہاں آ کر آباد ہونے والا سیٹھی خاندان ہے۔

اپنے عہد کے امیر ترین سیٹھیوں نے پشاور میں اپنی رہائش گاہوں کی تعمیر کے لیے دوردراز ریاستوں سے نہ صرف ماہر کاری گروں کو بلوایا بلکہ انہوں نے اپنی رہائش گاہوں کی تزئین و آرائش میں بھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور وسط ایشیائی ریاستوں سے آرائش سامان بھی منگوایا۔شیخ نوید اسلم اپنی کتاب ”پاکستان کے آثار قدیمہ“ میں لکھتے ہیں کہ

سیٹھی خاندان“ کی بنائی ہوئی عمارتیں دیکھنے کے لائق ہیں۔ان گھروں کی تعمیر میں لکڑی کا کام دو طرح کا ہے۔ ایک میں لکڑی پر کندہ گل بوٹے ہیں اور نہایت ہی نفیس آرپار کی جالیاں ہیں جبکہ دوسری قسم میں لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو جوڑ کر دروازوں اور چوکھٹوں کو سجایا گیا ہے ۔ ان گھروں میں چارپائیوں کے پایوں سے لے کرنعمت خانے (جالی کی بنی ہوئی الماری جو باورچی خانے میں استعمال ہوتی ہے) تک اورگھروں کے صدردروازے ، روشن دان اور چھت پر لگے ہوئے شہتیروں، چینی خانوں کے فریموں اور دیواروں میں لگی ہوئی الماریوں سمیت ایک ایک انچ بڑی مہارت اور کمال فن سے تراشی گئی ہیں۔سیٹھیوں کے گھروں کی ایک اور خاص بات ان مکانات کے وسط میں بنے ہوئے کشادہ صحن ہیں۔ ان گھروں کی تعمیر اور اینٹوں کی چنائی وغیرہ کے لیے جو مسالا استعمال کیا گیا ہے اسے”گچ“ کہتے ہیں ۔ جولاکھ اورچونے کا آمیزہ ہوتا ہے۔بعد ازاں اس میں روئی یا پٹ سن کا ریشہ بھی ملایا گیا ہے۔ پشاورکی قدیم تعمیرات میں دو طرح کی اینٹوں کے نمونے ملتے ہیں۔ ایک قسم کو ”بادشاہی اینٹ“ کہا جاتا ہے جو ایک سے ڈیڑھ فٹ لمبی ہوتی ہے ۔ عام طورپر ان اینٹوں کا استعمال بڑی دیواروں کی چنائی میں ملتا ہے ، دوسری قسم کی اینٹ کو ”وزیری اینٹ “ کہا جاتا ہے جو زیادہ سے زیادہ چھ انچ لمبی، تین انچ چوڑی اور اس کی موٹائی ایک سے ڈیڑھ انچ تک ہوتی ہے ۔ یہ اینٹ نفیس کاموں کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ سیٹھی گھروں میں یہی وزیری اینٹ کا استعمال بہ کثرت کیا گیا ہے۔جو اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ان گھروں کی تعمیر میں کس قدر نفاست کا خیال رکھا گیا ۔یہی وجہ ہے کہ 1880ءسے1901ءکے درمیان تعمیر ہونے والے مکانات کی شان و شوکت اور رعب و دبدبہ آج بھی ” محلہ سیٹھیاں “ سے گزرنے والوں کے قدم تھام لیتا ہے۔

پشاور کے امیر ترین خاندان” سیٹھیوں“ نے اپنی کثیر مال و دولت صرف اپنی ذاتی ر ہائش گاہوں کی تعمیر پر ہی صرف نہیں کی بلکہ انہوں نے پشاور میں کئی مساجد کی تزئین و آرائش اور ضروری تعمیر و مرمت کے لیے بھی وقتاَ فوقتاَ مالی معاونت کی تھی۔ جس کا ایک نمونہ محلہ سیٹھیاں میں موجود پانچ سو نمازیوں کے لیے بنائی جانے والی مسجد سیٹھیاں ہے۔ علاوہ ازیں انقلاب روس سے پہلے سیٹھی کریم بخش نے پشاور سے چند میل کے فاصلے پر ایک باغ تعمیر کروایا تھا اب اس باغ کے آثار نہیں ملتے لیکن آج بھی اس علاقے میں اس باغ کے حوالے سے لوگوں کی یاداشتیں اس کی شان و شوکت کا نقشہ کھینچتی ہیں۔

سیٹھی خاندان کے عمدہ ذوق تعمیر کا منہ بولتا ثبوت یہ عمارتیں آج کے پشاور کی پہچان ہیں۔ جس کے تحفظ اور بقاءکے لیے حکومتی سطح پر کی جانے والی کوششوں میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ لکڑی پربنے بیل بوٹے اوردیواروں پر کاشی گری کے نمونوں سے گزر کردروازوں اور کھڑکیوں میں لگے رنگ برنگے شیشوں سے منعکس ہوتی ہوئی روشن صبح پشاور کے نور کو رنگوں میں ڈھال کر مزید خوبصورت کر دیتی ہے۔

یہ دلکش عمارتیں نہ صرف سیاحت کے نکتہ نظر سے اہم ہیں بلکہ” اصل پشاور“ کے ماضی سے قائم رشتوں کی شناخت کا باعث بھی ہیں۔

آئندہ آپ کو پاکستان کے کسی اور خوبصورت مقام کی سیر کروائیں گے تب تک کے لیے اپنے میزبان محمد شعیب کو اجازت دیجئے۔ اللہ حافظ۔

 



متعللقہ خبریں