حالات کے آئینے میں ۔ 41

حالات کے آئینے میں ۔ 41

حالات کے آئینے میں ۔ 41

پروگرام "حالات کے آئینے میں" کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ تقریباً 6 ملین آبادی پر مشتمل عراقی علاقائی کرد انتظامیہ میں 3 ملین سے زائد رجسٹرڈ ووٹروں نے 30 ستمبر بروز اتوار  کو عام انتخابات کے لئے اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ انتخابات میں شرکت کی شرح 57 فیصد  کے لگ بھگ رہی۔ عمومی معنوں میں انتخابات  پُر امن ماحول میں ہوئے تاہم بعض علاقوں سے مسلح افراد اور پیش مرگہ فورسز کی موجودگی  اہم مباحث کا سبب بنی۔ کردستان محب وطن پارٹی اور کردستان ڈیموکریٹک پارٹی نے ایک دوسرے کو انتخابات میں دھاندلی کا قصور وار ٹھہرایا۔ گوران اور گرین جنریشن  موومنٹ نے خاص طور پر کردستان محب وطن یونین کو انتخابات میں دھاندلی کا قصوروار ٹھہرایا۔ جاری کردہ تمام  بیانات کے باوجود عراقی علاقائی کرد انتظامیہ  کے انتخابات عمومی معنوں میں کامیابی کے ساتھ سرانجام پائے ہیں۔ ترکی کی وزارت خارجہ کے ترجمان حامی آق سوئے نے اس حوالے سے کہا ہے کہ " عراقی علاقائی کرد انتظامیہ  کے پارلیمانی انتخابات کے پُر امن شکل میں  طے پانے پر ہمیں خوشی ہے اور ہم انتخابی نتائج  کے عراقی اتحاد و سالمیت  کے تحفظ کے لئے اور ملکی استحکام کے لئے خیر و برکت کا وسیلہ بننے کے متمنی ہیں"۔

سیاست، اقتصادیات اور معاشرتی تحقیقاتی وقف  کے محقق اور مصنف جان آجُون  کا موضوع سے متعلق  جائزہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

غیر سرکاری انتخابی نتائج  کے مطابق کردستان ڈیموکریٹک پارٹی نے 45 فیصد ووٹوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم  کردستان محب وطن پارٹی 19 فیصد ووٹ حاصل کر سکی ہے۔ گوران مومنٹ نے 8.3 فیصد، اسلامی پارٹیوں نے 7 فیصد اور 5 فیصد کے لگ بھگ ووٹ حاصل کئے ہیں  اور سیردیم اتحاد ایک فیصد ووٹ حاصل کر سکا ہے۔

غیر سرکاری نتائج کی رُو سے بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کرنے والی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کو اس کامیابی کے ساتھ ساتھ کردستان محب وطن پارٹی کو بائے پاس کر کے کسی دوسری چھوٹی پارٹی کے ساتھ حکومت بنانے کا امکان بھی حاصل ہو گیا ہے۔ ووٹوں کی گنتی کا کام جاری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عراقی پارلیمنٹ  میں صدارتی انتخابات کا عمل جاری ہے۔ عراقی آئین کی رُو سے کردوں سے منتخب ہونے والے صدارتی امیدوار کردستان محب وطن پارٹی اور کردستان ڈیموکریٹک پارٹی  کے مشترکہ امیدوار پیش نہ کر سکنے اور دونوں پارٹیوں کے درمیان ایک رقابت اور بحران پیدا ہونے   کا سبب بنے۔

کردستان ڈیموکریٹک پارٹی نے فواد حسین کو اور کردستان محب وطن پارٹی نے برہم صالح کو صدارتی امیدوار کھڑا کیا۔ عراق کے اسمبلی کے دوسرے خفیہ رائے شماری کے مرحلے میں 329 اسمبلی ممبران میں سے 272 نے شرکت کی۔ رائے شماری میں کردستان محب وطن پارٹی کے امیدوار  برہم صالح 219 ووٹ حاصل کر کے عراق کے چوتھے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار فواد حسین 22 ووٹ حاصل کر سکے۔ صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں شامل 7 امیدواروں میں سے کوئی بھی انتخاب کے لئے  ضروری 220 ووٹ حاصل نہیں کر سکا تھا جس کی وجہ سے صدر کے انتخاب کے لئے رائے شماری کے دوسرے مرحلے کا انعقاد ہوا۔ صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں برہم صالح نے 165، فواد حسین نے 89 اور آزاد خاتون امیدوار  سروے عبدالواحد نے 18 ووٹ حاصل کئے تھے۔

ایک قوی احتمال کے مطابق صدارتی انتخابات میں کردستان محب وطن پارٹی  کے صدارتی امیدوار برہم صالح کی کامیابی، عراقی علاقائی کرد انتظامیہ کی داخلی سیاست  پر بھی اثر انداز ہو گی۔ نتیجتاً اسی روز منعقدہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کرنے والی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی  داخلہ سیاست میں کردستان محب وطن پارٹی کے مقابل زیادہ مضبوط اور سخت پالیسی پر عمل پیرا ہو سکتی ہے۔

یہ انتخابات ترکی۔عراقی علاقائی انتظامیہ کے باہمی تعلقات پر بھی اور ترکی کی دہشتگردی کے خلاف جدوجہد پر بھی  اثر انداز ہوں گے۔ عراقی علاقائی کرد انتظامیہ کے آزادی ریفرینڈم کے بعد عراق کی مرکزی حکومت کے سخت جواب  کے ساتھ  عراقی علاقائی کرد انتظامیہ کرکوک  جیسی کامیابی  سے محروم ہو گئی ہے اور ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانے کی خواہش مند ہے۔ ترکی کا کردستان محب وطن پارٹی کے زیر کنٹرول سلیمانیہ ائیر پورٹ  پر پابندیوں کو جاری رکھنا کردستان محب وطن پارٹی کے لئے ترکی کے طرز عمل کا اہم اظہار ہے۔ کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کی انتخابات میں کامیابی کے ترکی۔عراقی علاقائی انتظامیہ تعلقات پر مثبت اثرات مرتب کرنے کی امید کی جا سکتی ہے۔

دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کے حوالے سے ترکی کے شمالی عراق میں جاری فوجی آپریشن، PKK کے براستہ شمالی عراق   ترکی میں داخلے کی روک تھام کر رہے ہیں۔ کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کی انتخابات میں کامیابی سے ترکی کی شمالی عراق میں PKK کے خلاف جاری جدوجہد  زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے۔ کیونکہ کردستان محب وطن پارٹی  اور PKK کے درمیان تعلق زیادہ اچھا اور پی کے کے اور کردستان ڈیمو کریٹک پارٹی کے درمیان تعلق زیادہ بُرا ہے۔ ترکی ایک طرف عراقی علاقائی انتظامیہ  کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنا سکتا ہے اور دوسری طرف کردستان ڈیموکریٹک پارٹی سے، ترکی کے خلاف PKK کے خطرے  کے مقابل، ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

ایسے حالات میں کہ جب عراقی انتخابات کے انعقاد کے بعد کئی ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود عراق کی مرکزی حکومت کا قائم نہ ہو سکنا خود عراق کے لئے بھی اور ترکی کے لئے بھی اہم  مسائل پیدا کر رہا ہے عراقی علاقائی انتظامیہ کے انتخابی نتائج  کے تیزی سے حکومت کے قیام پر نتیجہ خیز ہونے کی صورت میں عراقی علاقائی کرد انتظامیہ ، عراق اور ترکی کے تحفظ کے لئے مثبت نتائج پیدا ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ عراق کی مرکزی حکومت کے بھی قیام کی صورت میں عراق  کے متعدد مسائل کے خلاف جدوجہد کو زیادہ موئثر  شکل میں جاری رکھا جا سکتا ہے۔

 



متعللقہ خبریں