ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 40

ترکی جمہورتوں کے درمیان باہمی تعاون کے ترک خارجپ پالیسی پر اثرات کا جائزہ ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کے قلم سے

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 40

چند ہفتے پیشتر ترکی زبان بولنے والے ممالک کی تعاون کونسل کا چھٹا اجلاس منعقد ہوا۔ اس سربراہی اجلاس اور ترک خارجہ پالیسی  پر اس کے اثرات  کا جائزہ قاراتیکن یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات  کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کے قلم سے۔۔۔۔

3 ستمبر 2018 کو کرغزستان   کے چولپون  اتا شہر میں ترکی زبان بولنے والے ممالک کی تعاون کونسل کے  چھٹے  اجلاس   کا انعقاد کیا گیا۔  اس اجلاس کا مرکزی خیال "نوجوان اور قومی کھیل " تھا۔  یہ اجلاس کرغز صدر سورون بے  جین بیکووف  کی میزبانی میں  سر انجام پایا، جس میں ترک صدر رجب طیب ایردوان ، قزاق صدر  نور سلطان نظار بایف اور آذربائیجانی صدر الہام علی یف نے بھی شرکت کی۔ جبکہ  ازبیک صدر شوکت میر ضیا یف اور ہنگیرین صدر وکٹر اربان  اعزازی مہمان کی حیثیت سے اس پروگرام میں شریک ہوئے۔

سرد جنگ کے دور  کے نتائج کے بعد  ابھی تک مکمل نہ ہونے والی  تبدیلیوں  پیش رفت کے سلسلے میں شامل بین الاقوامی  نظام کے اندر تبدیلیوں اور پیش رفت  کے کس طرح نتیجہ خیز بننے کا ٹھیک طریقے سے تجزیہ نہیں کیا جا پا رہا۔   تا ہم بعض رحجان کے مستقبل قریب میں  اہمیت حاصل کرنے   کی حقیقت بھی آشکار ہو رہی ہے۔ سرمائے کا لین دین، تجارتی سرگرمیاں اور ٹیکنالوجی  میں پیش رفت  قومی  حدود کو پار کرتے ہوئے بتدریج وسعت پکڑتی جا رہی ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ساتھ زور پکڑنے والے  سرحد پار  مفاد گروہوں اور مختلف اقوام  کے فردوں کے مفاد روابط کو ایک دوسرے سے منسلک کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے ترک کونسل کے تجربات مختلف پہلوؤں کے ساتھ   زیر غور لائے جانے  کی ضرورت ہونے والے  اہم عوامل ہیں۔

ترک کونسل  ترکی زبان بولنے والے ممالک کے بیچ وسیع پیمانے کے تعاون کی حوصلہ افزائی کے زیر مقصد ایک بین الاقوامی تنظیم کی حیثیت سے 2009 میں معرضِ وجود میں آئی۔ ترک کونسل کے بانی ارکان آذربائیجان، قزاقستان، کرغزستان اور ترکی ہیں۔ ترکمانستان"دائمی غیر جانبدارمملکت"  حیثیت کی بنا پرجبکہ  ازبیکستان ماضی کی بعض سیاسی رکاوٹوں  کے  باعث کونسل کا رکن نہ بن سکا تھا۔ تا ہم ازبیکستان کے صدر شوکت میر ضیا یف ترک کونسل میں قریبی دلچسپی رکھتے ہیں۔ لہذا  میں مستقبل قریب میں ازبیکستان  کے بھی ترک  کونسل  کا رکن بننے کی توقع  رکھتا ہوں۔ ازبیکستان  کا ترک کونسل کا رکن بننے کے ارادے کا مظاہرہ کرنا ، ترک کونسل کے وسعت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ازبیکستان کے ترک برادری کے ساتھ مکمل الحاق کی راہ میں ایک اہم قدم ثابت ہو گا۔ خاصکرقزاقستان، کرغزستان، ترکمانستان اور ترکی کے ساتھ دو طرفہ تعلقات و تعاون کو تقویت دینے  کی کوشش میں ہونے والے  ازبیکستان کے قلیل مدت کے اندر  ترک کونسل کا رکن بننا ممکن دکھائی دیتا ہے۔ در اصل یورپی یونین کے رکن ہنگری کو مبصر  کی حیثیت دیا جانا، ترک کونسل کی علاقائی و عالمی اہمیت میں اضافے میں معاون ثابت ہو گا۔ علاوہ ازیں سربراہی اجلاس  میں ترک کونسل کی اقوام متحدہ کی چھت تلے مبصر  کی حیثیت  حاصل کرنے   کی خواہش  کی حمایت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو بالائے طاق رکھنے سے  آئندہ کے ایام میں ترک کونسل  کو ممکنہ رکنیت اور مبصرکی پوزیشن سنبھالنے کے امور کو اہمیت دینی چاہیے۔ لہذا چھٹا سربراہی اجلاس ترک کونسل کی وسعت اور ترک برادری کے درمیان سالمیت کے اعتبار سے  وسیع پیمانے کی اہمیت کا حامل ہے۔

ترک کونسل  کی عبوری صدارت کو قزاقستان  سے کرغزستان کے سپرد کیے جانے والے اس جلاس میں ترک کونسل کے 2014 تا 2018  کے درمیانی عرصے پر محیط امور کا خلاصہ تیار کرتے ہوئے  مستقبل کے حوالے سے اہم کامیابیوں کے حصول کے لیے نئے فیصلے کیے گئے ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر طرفین نے  چولپون۔اتا اعلامیہ  اور ہنگری کو ترک کونسل  کی مبصر حیثیت دینے کی قرار داد پر دستخط کیے ۔

علاوہ ازیں "ترکی زبان بولنے والے ممالک کی الحاق نظریہ  دستاویز"،  ترک کونسل  کی اقوام متحدہ  کی مبصر رکنیت کے حصول کی کوششوں کو تقویت دینے کے فیصلے اور نوجوانوں و قومی کھیلوں کے شعبوں میں باہمی تعاون  کے فروغ  پر مبنی مشترکہ اعلامیہ کی  بھی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ صدور کے مشترکہ فیصلے کے ساتھ ترک کونسل کے سیکریٹری  جنرل  کے عہدے پر قزاقستان کے اسلامی جمہوریہ ایران  میں سفیر بغداد عامرے یف ،  اسسٹنٹ سیکریٹری کے عہدے پر عمر کوجامان اور بین الاقوامی ترک اکیڈمی کے صدر کے عہدے پر دارک خان حضر علی کی از سر نو تقرری کی گئی ہے۔

سربراہی اجلاس میں صدر رجب طیب ایردوان کی  جانب سے رکن ممالک کو دو  طرفہ تجارت میں قومی کرنسیوں کے ساتھ لین دین کی تجویز کافی توجہ طلب تھی۔ یہ کہنا ممکن ہے کہ  عالمی و علاقائی جیو پولیٹک رقابت میں اور اقتصادی پابندیوں سمیت  تجارتی جنگ  میں   تیزی آنے  والے ان  ایام میں پیش کردہ یہ تجویز پوری دنیا کے ممالک کے اعتبار سے اہمیت کی حامل ہے۔ کیونکہ  حالیہ چند برسوں میں تیل کے نرخوں میں گراوٹ اورعالمی اقتصادی صورتحال کے اثر سے آذربائیجان، قزاقستان، کرغزستان اور ازبیکستان  کی قومی کرنسیوں کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں  اہم سطح کی کمی آئی ہے۔

سربراہی  اجلاس میں قزاقستان کے صدر نور سطان نظار بایف کی طرف سے تجویز کردہ "عالم ِ ترک نے سو نئے اسم" اور"ترک دنیا کے مقدس مقامات" منصوبے  ترکی جمہورتوں  کے تاریخی روابط اور تعاون کو پختگی دلانے سمیت ترک عوام کی مشترکہ ثقافتی اقدار کو دنیا بھر میں متعارف کرانے کے اعتبار سے  اہم ہوں گے۔  اگر مذکورہ منصوبوں کو  ترک کونسل کی جانب سے عمل  پذیر  کردہ "جدید شاہراہ ریشم مشترکہ ٹورزم  پیکیج"  منصوبے سے ملا لیا جاتا ہے تو یہ تمام تر رکن ممالک کےشعبہ سیاحت کے فروغ میں  اہم سطح کی خدمات فراہم کر سکتا ہے۔

اجلاس میں ترک کونسل  کے ساتویں اجلاس میں پیش کیے جانے والے "ترکی زبان بولنے والے ممالک کی الحاق نظریہ  دستاویز" کی منظوری اہمیت کی حامل ہے۔ اس طرح  ترک برادری اور ترک کونسل کے تعاون کے معاملے میں  سنجیدہ سطح کے اقدامات اٹھائے جائینگے۔ علاوہ ازیں ترک کونسل کے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر اثرِ رسوخ میں اضافے کی خاطر تنظیم کو اور  رکن ممالک  کو تنظیم سے متعلق قلیل، درمیانے اور طویل دورانیہ کے حامل حکمتِ عملی فیصلوں اور منصوبوں کا تعین کرنا ہو گا۔

اس سربراہی اجلاس میں ترکی زبان  بولنے والے ممالک کے بیچ سیاسی، تجارتی، اقتصادی، سماجی اور ثقافتی تعاون کے فروغ کی خاطر متعدد اہم فیصلے کیے گئے ۔ ان کی بدولت ہم اس اجلاس کو ترک کونسل کے مستقبل کے اعتبار سے ایک تاریخی اجلاس   سے منسوب کر سکتے ہیں۔ ترک کونسل،  کئی ایک حکومتوں کےمابین ثقافتی و تعاون تنظیموں کے روابط  کی ذمہ  دار  روف   آرگنائزیشن  کی حیثیت سے  اقتصادی و توانائی کی استعداد  کے لحاظ سے یورپی یونین کی طرز کے ڈھانچے  کو حاصل کر سکنے کی صلاحیت کی مالک ہے۔  تاہم رکن  ممالک  کو موجودہ اقتصادی و سیاسی طاقت  اور عالمی صورتحال  کی بنا پر اس کا یک طویل المدت ہدف  کے طور پر  جائزہ لینا چاہیے۔



متعللقہ خبریں