حالات کے آئینے میں ۔ 38

حالات کے آئینے میں ۔ 38

حالات کے آئینے میں ۔ 38

پروگرام "حالات کے آئینے میں" کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ روس اور ایران  کے تعاون سے اسد انتظامیہ فوجی  طریقے سے شام کے متعدد علاقوں  کا کنٹرول سنبھال چکی ہے۔ شام میں فوجی مخالفین  اور علاقے میں رہائش پذیر شہریوں  کو حمص، غتّہ، درعا اور دیگر علاقوں سے نکال کر ادلیب منتقل کئے جانے کے بعد ادلب شامی فوجی مخالفین کے بھی اور شہری مخالفین کے بھی آخری قلعے کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ اطلاع کے مطابق جنگ سے قبل یہاں کی  7 لاکھ کے قریب آبادی اس وقت  3 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ آستانہ مذاکراتی مرحلے کے دوران اعلان کئے گئے 4 ایسے علاقوں میں سے کہ جہاں صفر کشیدگی کا اعلان کیا گیا تھا ادلب واحد علاقہ ہے کہ جو اپنی حیثیت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ آستانہ مذاکراتی مرحلے کے دائرہ کار میں ترک مسلح افواج نے ادلب کی پوری فرنٹ لائن پر  12 چیک پوسٹیں قائم کی ہیں۔

سیاست، اقتصادیات اور معاشرتی تحقیقات کے وقف SETA کے محقق اور مصنف جان آجُون کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

ادلب کے لئے روسی اور ایرانی حمایت کا حامل فوجی آپریشن ایک طویل عرصے سے ایجنڈے کو مصروف رکھے ہوئے ہے۔ کسی ممکنہ فوجی آپریشن کی وجہ سے ادلب  میں مہاجرین کی ایک نئی لہر کا انتظار کیا جا رہا ہے اور یہ بھی ایک معلوم صورتحال ہے کہ کئی ملین شہری ترکی کی طرف فرار ہونے اور پناہ حاصل کرنے کا پروگرام رکھتے ہیں۔ ترکی کا دنیا بھر میں سب سے زیادہ مہاجرین کو پناہ دینے والا ملک ہونا اس بات کی عکاسی کر رہا ہے کہ ترکی مہاجرین کی کسی نئی لہر کا بوجھ نہیں اُٹھا سکے گا۔ اگرچہ ادلب میں کسی ممکنہ  آپریشن سے جو تباہی اور انسانی بحران  کی صورتحال پیدا ہو گی اس پر پوری دنیا تشویش کا اظہار کر رہی ہے لیکن فیلڈ میں اور مذاکراتی میز پر اس ممکنہ انسانی بحران کے سدباب کے لئے صرف ترکی ہے جو اپنی کوششوں کی وجہ سے سرفہرست دکھائی دے رہا ہے۔

آستانہ مذاکراتی مرحلے کے حوالے سے ایران ، روس اور ترکی کے درمیان ہونے والے سربراہی اجلاسوں کے سلسلے کا حالیہ اجلاس تہران میں ہوا۔ روسی اور  ترک حکام کی بے خبری میں تہران اجلاس کے براہ راست نشر کئے جانے سے پوری دنیا نے علاقے میں فائر بندی کے قیام اور انسانی بحران کے سدباب کے لئے صدر رجب طیب ایردوان کی غیر معمولی کوششوں  کا مشاہدہ کیا۔ اگرچہ تہران سربراہی اجلاس میں روس اور ایران کے اعتراضات کی وجہ سے فائر بندی کا اطلاق نہیں ہو سکا لیکن اس کے باوجود صدر ایردوان نے   اسلحہ پھینکنے کی اپیل کی۔ علاوہ ازیں ترکی کے پُرعزم طرزعمل کے وسیلے سے اور کچھ نہیں تو ادلب میں کوئی ممکنہ فوجی آپریشن کم از کم ملتوی ہو گیا اور فیلڈ میں اقدامات کرنے  کے لئے مہلت حاصل کر لی گئی۔

ادلب کے مستقبل کے لئے ممکنہ متبادل  سیناریو موجود ہیں۔ ترکی کی چیک پوسٹوں  سے پیچھے ہٹ کر  ادلب کے لئے ایک وسیع اور جامع آپریشن  کو قبول کرنے کے لئے روس اور اس کے اتحادیوں پر دباو ڈالا جا رہا ہے۔ تاہم ترکی متبادل سیناریو پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان میں سے ایک سیناریو  یہ ہے کہ ترکی اور ترکی کے  معاون فوجی مخالفین  کے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا جائے اور  ہیت التحریر الشام  اور اس کے حامی گروپ کم ازکم شمال سے پیچھے ہٹ کر جنوب کی طرف چلے جائیں۔ علاوہ ازیں ترکستان اسلام پارٹی اور الحراش الدین جیسے گروپوں کو بھی حذف کیا جائے۔

کسی ممکنہ انسانی بحران کے مقابل ترکی کا بذاتِ خود اپنے معاون گروپوں  کے ساتھ فیلڈ میں آ کر سرعت کے ساتھ ایک سیکورٹی زون تشکیل دینا  کہ جس میں ادلب کا مرکز بھی شامل ہو،مثبت ترین سیناریو ہو گا۔ یہ سیناریو، مخالفین کے کسی علاقے کے کنٹرول سے مکمل طور پر محروم ہونے کا سدباب کئے جانے، کسی ممکنہ  انسانی بحران   پر قابو پائے جانے اور PKK/YPG کے اس مرحلے  سے استفادہ کر نے اور سیاسی مفادات حاصل کرنے کا سدباب کئے جانے کے حوالے سے یہ ایک اہم کامیابی ہو گا۔  ادلب میں کسی ممکنہ آپریشن کے حوالے سے PKK کی شامی شاخ  بھی ایک فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ خاص طور پر یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ  ایران سے منسلک ملیشیا فورسز  اور حزب اللہ نے فیلڈ میں موجود  شامی ڈیموکریٹک فورسز  سے منسلک  عسکریت پسندوں کو تربیت دی ہے اور یہ انہیں بھی آپریشن میں شامل کرنے کے  پلان رکھتے ہیں۔ ان کا پلان،  عسکریت پسندوں کے  بھی آپریشن کا حصہ بننے کی صورت میں، عفرین کی طرف ایک فرنٹ کھول کر  عفرین پر دوبارہ قبضہ کرنا ہے۔ یہ بھی  معلوم ہے کہ انہوں نے اس پلان کے لئے تل رفات میں  فورسز اکٹھی کر رکھی ہیں۔ نتیجتاً ایک ایسی صورت میں کہ جب یہ تمام خطرات موجود ہیں ترکی  کے لئے ضروری ہے کہ وہ پیش قدمی والا روّیہ اختیار کئے رکھے اور کسی صورت میں  بھی حالات کو اپنی من پسند ڈگر پر رواں ہونے کی اجازت نہ دے۔

 



متعللقہ خبریں