ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 38

عالمی سطح پر اور ملک کے قریبی حلقوں میں رونما ہونے والے واقعات، سیاسی واقتصادی اعتبار سے خطرات و مواقع   کے بھی جنم لینے کا موجب  بنے ہیں

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 38

عالمی و علاقائی  سطح پر  حالیہ ایام میں ترک ڈپلومیسی میں گہما  گہمی  کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔ علاقائی و عالمی پیش رفت  ایک جانب ترک خارجہ پالیسی کے لیے  خطرات  تشکیل دے رہی ہے تو دوسری جانب یہ مختلف مواقع بھی سامنے لا رہی ہے۔ آج کے اس سلسلے میں خطرات و مواقع کے حوالے سے ترک خارجہ پالیسی  کا تجزیہ  کیا جائیگا۔

قاراتیکن یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی  تعلقات کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کا   اس موضوع پر جائزہ  پیش  خدمت ہے۔

Geçiş

گزشتہ چند ہفتوں سے ترکی  کی خارجہ پالیسی میں  ایک غیر معمولی سطح  کی پیش رفت کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔ عالمی سطح پر اور ملک کے قریبی حلقوں میں رونما ہونے والے واقعات، سیاسی واقتصادی اعتبار سے خطرات و مواقع   کے بھی جنم لینے کا موجب  بنے ہیں۔اس  چیز کو شہہ دینے والے نمایاں عناصر بلا شبہہ امریکی انتظامیہ  کی پالیسیاں ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کے کئی پہلوؤں سے  نکتہ چینی کے حامل فیصلے،  پرانے اتحادیوں  کے ساتھ باہمی تعلقات اور تعاون  کو کسی ڈآئنا میٹ کے کنارے لا کھڑا کرنے  کا  باعث بنے ہیں۔ اس کے پیچھے دو اسباب کار فرما ہونے کا دعوی کیا جا سکتا ہے کہ جن میں سے ایک  محض دکھاوے کا  ہے۔ ترکی  کی سرحدوں کے اندر ایک طویل عرصے سے مشنری  سرگرمیوں کو جاری رکھنے والے اور دہشت گرد تنظیم فیتو کے ساتھ روابط کےالزامات کے ساتھ  نظر بند  پادری برنسن کی صورتحال کے  باعث امریکہ کا ترکی مخالف مؤقف موجودہ بحران   کا اسکرین  پر دکھائی دینے والا سبب ہے۔ تا ہم  اس کے علاوہ ترکی  کی شام میں  دہشت گرد تنظیم PKK/ پی وائے ڈی  کی  تحریکوں کے خلاف رکاوٹیں پیدا کرنے والی کاروائیاں، واشنگٹن کے خطے کے حوالے سے منصوبوں  کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔

شامی جنگ کے پیدا کردہ خطرات، نہ صرف  ترک ۔ا مریکی تعلقات بلکہ روس، ایران اور یورپی یونین کے رکن ممالک  کے خطے   سے متعلقہ نقطہ نظر کو متاثر کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال مذکورہ اداکاروں کے  درمیان  کشیدگی کو شہہ دینے  کے  سلسلے  کو جاری رکھے ہوئے ہے۔  ترکی کو درپیش مسائل   میں قومی سلامتی کے خدشات سمیت دیگر عالمی  اداکاروں کے مابین سفارتی توازن کے تحفظ  کولازم و ملزوم بنا رہے ہیں۔

ترکی  کو در پیش خطرات  شام میں   ڈھیرے جمانے والی  اتحادو استحکام کو نقصان پہنچانے والی وائے پی جی /PKK  دہشت گرد تنظیم  تک ہی   محدود نہیں ۔ ترک مسلح افواج تا حال شمالی عراق میں  واقع قندیل پہاڑی سلسلوں  میں  PKK کے خلاف آپریشنز سمیت اندرون ِ ملک   بھی اسی  تنظیم کی  کاروائیوں کے خلاف نبردِ آزما ہے۔ دوسری جانب  دہشت گرد تنظیم فیتو کے ڈھانچے کے خلاف اندرون و بیرونِ ملک  جدوجہد  ملکی وسائل و توانائی کو  وسیع پیمانے پر بروئے کار لایا جانے والا ایک دوسرا عنصر ہے۔

اس سلسلے میں امریکہ کے ساتھ رونما ہونے والے بحران  کے بعد  سے ترک لیرے کی قدر میں سرعت سے  گرواٹ  کو بھی شامل کرنے سے  ترکی کے اس وقت کثیر المحاذ جنگ کی حالت میں ہونے کا واضح  اور نمایاں  طور پر مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ ترک معیشت   کو در پیش مسائل  ملک  کی اندرونی و بیرونی سلامتی  کے خلاف خطرات کو    بھی جنم دے رہے ہیں۔

ان مسائل  کے  تناظر میں ترکی  کے دوسری جنگ ِعظیم کے  بعد  جگہ پانے والے بین الاقوامی روابط  پر بھی سوالات  اٹھنے لگے ہیں۔ کیونکہ نیٹو  کے اتحادی امریکہ اور یورپی یونین  کے ممالک  ترکی کے ہمراہ  بنیادی عالمی اتحاد     میں جگہ پانے کے ساتھ ساتھ کئی ایک بین الاقوامی تنظیموں اور معاہدوں  کے  ذریعے  منسلک  ممالک  ہیں۔ اس کے باوجود فیتو اور  PKK دہشت گرد تنظیموں کے  خلاف جدوجہد میں ان ممالک کا ترکی سے مطلوبہ  سطح پر عدم تعاون   حتیٰ اس کے بر خلاف مؤقف  اور حالیہ اقتصادی اتار چڑھاؤ میں  امریکی پالیسیاں،  ترکی   کو اس اتحاد  پر سوالات اٹھانے پر  مجبور کر رہی ہیں۔ شام کی جنگ کے دوران جنوبی علاقوں سے ممکنہ خطرات  کے وقت نیٹو کی چھت  کے طور پر تشریح کیے جا سکنے والے فضائی دفاعی نظام  کو ترکی کے  لیے کسی بھی شکل میں  بروئے کار نہ لائے جانے  اور اس کے بعد انقرہ کی جانب سے روس سے   خریدے  جانے والے ایس۔400 میزائل ، امریکی اور یورپی دوستوں کے ساتھ تناؤ  کی تازہ دراڑوں  میں سے ایک  ثابت ہوئے ہیں۔

خطے میں  طول پکڑنے والے عدم  استحکام اور تصادم  کے خطرات کے باوجود ترکی کے  لیے نیٹو کی ذمہ داریوں کو   ایک طرف چھوڑیں ، ملک کے جائز دفاعی  حربوں کے  برخلاف یہ سخت گیر مؤقف اس ملک کو روس اور چین کے ساتھ نئی معاہدوں کی زمین ہموار کرنے کا موجب بن رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ زمین محض عسکری خریدو فروخت تک محدود  نہیں ہو گی۔  ترک اور روسی صدور  و سفارت کاروں کے روسی اور ایرانی  ہم منصبوں سے  سر انجام دیے گئے مذاکرات کی تعداد اور خصوصیت، ماضی کے ادوار   میں امریکی حکام کے ساتھ ہونے والے رابطوں کی  جگہ  لیتی  ہوئی دکھائی دیتی ہے۔  شام میں خاصکر ادلیب  بحران  کے معاملے میں  انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان ۔ کم ازکم ظاہری  طور پر۔  کسی رابطے و  تعاون کی موجودگی کا ذکر  کرنا زیر بحث نہیں ہو سکتا۔

مسئلہ شام سمیت  روس ، چین اور قریبی تجارتی شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی تعاون  کی پالیسیاں  ترکی  کی بین  الاقوامی تعلقات میں زمین کی تلاش کےسوچ سے  کہیں زیادہ بنیادی ہونے کی جانب اشارہ کرتے  ہیں۔ خاصکر  ان ممالک  کے ساتھ لین دین میں  ڈالر کی بجائے مقامی کرنسی کے استعمال کی تجویز پر روس اور  چین کی مثبت رائے  اس  حقیقت  کا نمایاں  طور پر مظاہرہ کرتی ہے۔ ڈالر کے ساتھ ہونےو الی  بین الاقوامی تجارت میں سونے  یا پھر مقامی کرنسی کے استعمال   سمیت فری   ٹریڈ زون  کی تعداد ودائرے کو وسعت دیے جانے کی کوششوں کو قابلِ توجہ دیگر  مثبت اقدامات کے طور پر شمار کیا جا سکتا ہے۔

ترکی کوزر مبادلہ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث  سامنے آنے والے بحران سے قریبی اور درمیانی مدت  پر مبنی حل چاروں میں اوپر ذکر آنے والی کوششوں سمیت مستقبل قریب میں   یورپی یونین کے ساتھ  شروع کردہ کسٹم یونین سے مشابہہ ڈھانچے  تجارتی حصہ دار ہونے والے دیگر ممالک کے ساتھ   بھی تشکیل  دینے  کا مشاہدہ کرنا ممکن ہے۔ بلا شبہہ اور بلا بحث اس چیز کا دارو مدار ، یورپی یونین  کی رکنیت  کے ترکی کے اعتبار سے قطعی طور پر"بس یا پھر دوام" فیصلوں   پر   ہے۔  اپنے  علاوہ کسی  دوسرے کسٹم یونین متبادل   کی   قانونی طور پر اجازت نہ دینے والے یورپی یونین  کے ڈھانچہ کو  ترکی کے سلسلہ رکنیت  کے نا پائدار   رہنے کی صورت میں انقرہ کی جانب سے اپنے دیگر حصہ داروں کے سامنے  پیش کیا جا سکتا ہے۔

مختصراً چاروں  اطراف سے  خطرات  کے خلاف نبردِ آزما  ترکی کو در پیش صورتحال خطرات کے ساتھ ساتھ مواقع اور نئے پیش نظر کو بھی  ظہور پذیر کر رہا ہے۔  اس صورتحال کا ترکی کے  اتحادی ہونے والے  ممالک کے مؤقف  پر دارومدار ہونے   کا سوچا جائے تو بحرانوں کی  ڈگر  کے مطابق   انقرہ کے کثیر الاجہتی  نازک سفارتی  فیصلے کرنے کا احتمال قوی  دکھائی دیتا ہے۔



متعللقہ خبریں