عالمی نقطہ نظر37

شامی المیہ اور عالمی برداری

عالمی نقطہ نظر37

عالمی نقطہ نظر 37

 

Küresel Perspektif  / 37

                  SURİYE NEREYE?

Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL

 

7 سال سے شام کی خانہ جنگی جاری ہے ۔آستانہ معاہدے کے نتیجے میں  محفوظ علاقے کے قیام  کے اعلان اور بعد ازاں     ادلب پر روسی اور شامی فوج کے حملوں سے یہ  خطرہ پیدا ہور ہا ہے  کہ  ان کے نتیجے میں  لاکھوں افراد نقل مکانی  پر مجبور ہونگے مگر دنیا ہے کہ  اس بے آواز   تباہی   کی ممکنہ آمد پر چپ سادھے بیٹھی ہے۔

 آستانہ معاہدے کے تناطر میں گزشتہ دنوں تہران میں  ترکی،روس اور ایران کے درمیان ملاقات ہوئی جو کہ اس بات   کا بھی ثبو ت تھا کہ  مغربی دنیا  کی  اس مسئلے پر  عدم توجہ   نے   شامیوں کے مسئلے پر ترکی کو تنہا چھوڑ دیا ہے ۔اس مسئلے پر روس اور ایران  نے بھی اہم موقف اختیار کیا  مگر افسوس اجلاس کے دوران  ایرانی حکومت    نے شام کے انسانی المیئے پر  اُف تک نہ کی  اور نہ ہی کسی  خدشے کا اظہار کیا ۔ صدر ایردوان نے اس  اجلاس میں  متعدد بار جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا ۔ دیگر ممالک بالخصوص یورپی یونین  کی   بے حسی  کے باوجود ترکی نے    45 لاکھ شامیوں  کو ملک میں پناہ دی  جو کہ اس کی   اخلاقی ،مذہبی اور معاشرتی روایات   کی  مکمل عکاسی کرتا ہے ۔

 شامی خانہ جنگی کے  7 سالہ عرصے میں  طرفین کے درمیان موقف کی تبدیلی  جوں کی توں ہے ،روس  شام میں موجود اڈوں کی وجہ سے  بحیرہ روم  میں اپنی دھاک  بٹھانا چاہتا   ہے تاکہ وہ   کریمیا ،جارجیا اور یوکرین کے بجائے  مغرب  سے میلوں  دور شامی حکومت     کے سر پر  ہاتھ بھی رکھ سکے ۔

 ایران   کی  علیحدگی پسند پالیسیاں شام  میں بھی جاری ہیں مذہبی رہنما آیت اللہ خامنہ آئی  کے   حامی  تہران رکن پارلیمان    علی رضا زکانی کا کہنا ہے کہ  3 عرب ممالک آج ایران   کے محتاج  اور اسلامی انقلاب       کی  جانب گامزن ہیں جس میں صنعا ٫بھی شامل ہو گیا ہے یہ ممالک  لبنان،عراق،یمن اور شام  ہیں    ہمیں یہ تو نہیں معلوم کہ  ان کی  تقدیر ایران کےہاتھوں میں ہے یا نہیں  البتہ اتنا ضرور ہے کہ   ان ممالک میں جاری خون ریزی  کا وبال ایران پر عائد ہوتا ہے۔حال ہی میں  شیعہ اکثریتی عراقی شہر بصرہ    میں  مظاہرین نے جس طرح سے  سڑکوں پر  غل  ایرانی کے خلاف غپاڑہ مچایا اور ایرانی  قونصل خانے کی  عمارت جلائی  یہ  ایران کی اس ملک میں مداخلت  اور  نفاق کا نتیجہ نظر آتی ہے ۔ کیا   خوب ہے کہ   شامی  حکومت   کی حمایت میں پیش پیش  ایران    کا دروازہ   ایک بھی پناہ گزین  کھٹکھٹاتا ہوا نظر نہیں آتا۔

 شامی خانہ جنگی کے پس منظر میں   اسرائیل بھی  ایک کلیدی ملک نظر آتا ہے ۔ اسرائیل  علاقے میں  خاموشی سے اپنی پالیسیوں کو  کار آمد بنانے میں مصروف ہے   جس کا منصوبہ ہے کہ وہ ہمسایہ ممالک  کو کمزور کرتےہوئے  عظیم یہودی ریاست کا قیام اور اس کا  رقبہ  وسیع   کرے جس کا ذکر بارہا ہوتا رہا ہے۔

امریکہ بہادر بھی   شامی پالیسیوں میں  اسرائیل    کا ہمنوا نظر آتا ہے جس نے داعش کا صفایا تو کر دیا مگر دوسری جانب وہ  پی کےکے اور  پی وائی  ڈی   جیسی دہشتگرد تنظیموں کو اسلحہ دینے  اور ان کی ہر ممکنہ اعانت کر رہا ہے ۔

جہاں تک یورپی یونین کا معاملہ ہے  تو وہ   اس وقت صرف  ایسی پالیسیوں پر سر جوڑے بیٹھی ہے کہ جو  شامی پناہ گزینوں کو  یورپ آنے سے روک سکے ۔

یاد رہے کہ جب تک امریکہ  اسرائیل نواز   پالیسیوں سے اور یورپ اپنے کھوکھلے وعدوں  سے منہ نہیں موڑتا اُس وقت تک    روسی اور عجم  نواز اسد حکومت  کے شامی عوام پر حملے رکنا  خام خیالی ہوگا۔

  یہ واضح   ہے کہ دنیا  کے سامنے شام میں نسل کشی کا بازار گرم  ہے  اور ملک   کا آبادیاتی  ڈھانچہ  تبدیل کیا جا رہا ہے ،حکومت اور اس کے حامی   حتی بعض مغربی ممالک  منتخب شہروں  کو دہشتگردوں کی آماج گاہ بنا رہے ہیں جس کی وجہ سے لاکھوں  شامی نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں ۔  کیا یہ سوال  قبول ہو سکتا ہے  کہ شامی شہروں  میں بسے تمام شہری دہشتگرد ہو گئے ہیں مگر یہ صاف   عیاں ہے کہ  بعض عالمی طاقتیں  شام میں نسل کشی کرتےہوئے  شہروں کی جغرافیائی ساخت  تبدیل کرنے کے درپے  ہیں۔ اگر نیک نیتی سے دہشتگردی کا صفایا کرنا ہے تو اس کےلیے  دہشتگردوں اور عام شہریوں کے  درمیان  فرق  کرتےہوئے مقامی لوگوں کی مدد سے قدم اٹھانا پڑے گا۔

 اس ساری صورت حال  کا  خمیازہ   جنگجووں نے  نہیں بلکہ ترکی،  انسانیت کے نام  پر مدد کرتےہوئے بھگت رہا ہے۔ شام کی جنگ ختم ہو یہ ہر صاحب ضمیر اورانسان دوست کا مطالبہ ہے  کیونکہ معصوم بچوں کا خون  بہنا  کسی گوارا ہو سکتا ہے۔

 تاریخ انسانی کئی ظالموں سے بھری پڑی ہے جن میں ہٹلر،موسولینی،اسٹالن،پال پوٹ،،ایوان،رابس پیئر اور کاونٹ ڈریکولا  قابل ذکر ہیں لیکن  یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے مظالم      جزوی ثابت ہوئے تھے  اور جن سے ان کی  فرعونیت اور  خدائی دعووں   کے بت  پاش پاش ہو گئے تھے ۔

 یاد رہے کہ  آج کے  ان  ظالموں   کی اگر ہتک   اور لعنت ملامت کی جا رہی ہے تو اس   کا نتیجہ  یہ نکلتا ہے کہ  دنیا  طویل عرصے سے  انسانیت پرور رہی ہے ۔

لٹیرے کا دنیا  پر حکمرانی کرنا خام خیالی  کے سوا کچھ نہیں۔

 

یہ جائزہ  آپ کی خدمت میں  انقرہ یلدرم بایزید یونیورسٹی کے شعبہ سیاسی علوم کے  پروفیسر ڈاکٹر قدرت بلبل کے قلم سے پیش کیا گیا ۔

 

 

 

 

 



متعللقہ خبریں