حالات کے آئینے میں ۔ 36

حالات کے آئینے میں ۔ 36

حالات کے آئینے میں ۔ 36

پروگرام " حالات کے آئینے میں " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ ترکی اور روس کے درمیان سال 2015 میں طیارے کے بحران کے بعد دو طرفہ تعلقات دوبارہ سے بحال ہو گئے۔ بحالی کے فوراً بعد دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں سیاسی، سفارتی، فوجی اور اقتصادی  شعبوں میں اہم پیش رفتیں ہوئیں۔ ترکی اور روس کے باہمی تعلقات  کے تیز رفتار فروغ   میں دونوں ملکوں کے رہنماوں کے درمیان شخصی تعلق، مشترکہ مفادات  کی حامل شراکت داریاں اور حالیہ دنوں میں امریکی پالیسیوں پر محسوس کی جانے والی بے اطمینانی  جیسے عناصر نے اہم کردار ادا کیا۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان متعدد شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ کے باوجود متعدد  شعبے ایسے ہیں جن میں فکری تضاد جاری ہے۔

سیاست، اقتصادیات اور معاشرتی تحقیقات کے وقف SETA کے محقق اور مصنف جان آجون کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

روس کے صدر ولادی میر پوتن کے یہ الفاظ کے "ترکی اور روس کے درمیان تعلقات  نہ صرف فروغ پا رہے ہیں بلکہ ان میں نئے مندرجات کا بھی اضافہ ہو رہا ہے " اصل میں ترکی اور روس کے فروغ پاتے  باہمی تعلقات کا خلاصہ ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان خاص طور پر توانائی ا ور اقتصادیات کے شعبوں میں فروغ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس حوالے سے روس کے سابق وزیر خزانہ 'زادورنوف'  کا بیان بھی اہمیت کا حامل ہے کہ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ "ترکی کے ساتھ ہمارے اہم اقتصادی روابط ہیں  اور ترکی روس کے بڑے ترین 10 تجارتی ساجھے داروں میں سے ایک ہے"۔رشئین وفاقی کسٹم سروس FTS کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران 37 فیصد اضافے کے ساتھ 13.3 بلین ڈالر  کے تجارتی حجم کے ساتھ ترکی روس کا چوتھا بڑا تجارتی ساجھے دار ہے۔ اسی دورانیے میں روسی سیاحوں کا ترکی آنا  بھی دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے نہایت اہم ہے۔ روس سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں مستقل اضافے پر ممنونیت کا اظہار کرتے ہوئے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ رواں سال میں 6 ملین روسی سیاحوں کی میزبانی کر کے  ہمیں خوشی ہو گی۔

تونائی کے شعبے میں بھی آق قویو جوہری پاور پلانٹ اور ترک رو گیس پائپ لائن ایسے منصوبے ہیں جنہیں دونوں ممالک مل کر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آق قویو جوہری پاور پلانٹ ترکی کی توانائی کی ضرورت کے 10 فیصد کو پورا کرے گا علاوہ ازیں ترقی پاتی ترک اقتصادیات کی توانائی کی ضرورت کو ضمانت میں لینے کے حوالے سے بھی اسٹریٹجک  اہمیت کا حامل ہو گا۔ اسی طرح ترک رو گیس پائپ لائن بھی ترکی کی  توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے اور اسے ضمانت میں لینے کی وجہ سے اہم ہے۔ ترک رو  منصوبے  کے دوسرے مرحلے میں  اسے بالقانی ممالک کی طرف پھیلایا جائے گا اور اس طرح ترکی کے توانائی  ٹرانزٹ بننے  کی اسٹریٹجک پلاننگ میں ایک اہم قدم اٹھایا جائے گا۔

توانائی ا ور اقتصادی تعاون کے ساتھ ساتھ ترکی اور روس کے درمیان فوجی تعاون میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ خاص طو ر پر ترکی کی روس سے  ایس۔400 ائیر ڈیفنس سسٹم کی خرید سے دونوں ممالک کے فوجی تعلقات کو تقویت ملی ہے۔ اس حوالے سے روس کی سرکاری دفاعی صنعت  کی کمپنی 'روستے  ' کے بین الاقوامی تعاون اور علاقائی پالیسیوں کے ڈائریکٹر وکٹر کلادوف نے کہا ہے کہ میں  یہ بات کھلے الفاظ میں کہہ سکتا ہوں کہ ایس۔400 کا سمجھوتہ دونوں ملکوں  کے مابین فوجی و تکنیکی  تعاون کو تقویت  اور فروغ دینے کے لئے ایک اہم قدم ہے۔ میرے خیال میں دیگر صنعتوں میں بھی تعاون کے راستے میں کوئی رکاوٹ موجود نہیں ہے۔

روس اور ترکی کے درمیان فروغ پاتے تعلقات پر سب سے زیادہ امریکہ کو بے اطمینانی ہے۔ روس سے ایس۔400 سسٹم کی خرید  کی وجہ سے امریکی حکام ترک حکام کو ایف۔35 لڑاکا طیاروں کی فروخت روکنے کی دھمکی دے رہے ہیں اس کے باوجود کہ ترکی ایف۔35 طیاروں کے منصوبے کا شرکت دار بھی ہے۔ اس معاملے میں ترکی کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو کا یہ بیان اہم ہے کہ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ایس۔400 کی خرید ترکی کی ترجیح نہیں ایک ضرورت ہے۔ یورپی یونین کے ممالک ترکی کی طرف سے طلب کے باوجود ترکی کے ہاتھ دفاعی سسٹم کی فروخت نہیں کر رہے۔ اس کے علاوہ فیتو، پی کے کے اور وائے پی جی  دہشتگرد تنظیمیں اور امریکی راہب برنسن  بحران دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں تناو پیدا کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے  ترکی پر پابندیاں لگانے نے بھی دو نیٹو اتحادیوں کے درمیان کشیدگی پیدا کی ہے۔ وزیر خارجہ میولود چاوش اولو  کے ماسکو میں  جاری کردہ  بیان  کو بھی اسی پس منظر میں دیکھنا چاہیے کہ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ "روس اور ترکی  کے باہمی تعلقات بعض  کو جلا رہے ہیں"۔

تاہم روس اور ترکی کے درمیان  مثبت تعلقات کے باوجود بعض فکری تضادات کی موجودگی سے بھی انکار ممکن نہیں ہے۔ خاص طور پر مسئلہ شام کے حوالے سے آستانہ مرحلے میں دونوں ممالک باہم مل کر حرکت کرنے کے باوجود بنیادی نقطہ نظر کے حوالے سے ایک دوسرے سے بالکل متضاد ہیں۔ روس کے شامی انتظامیہ کے  ادلب پر  حملے کی اجازت دینے اور اس کی حمایت کرنے  کی صورت میں  ترکی کو نہایت سنجیدہ سطح پر مہاجرین کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا اور دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اس سے مشابہہ شکل میں ترکی روس کے کریمیا کا الحاق کرنے  کی اور کریمین ترکوں  کے خلاف اختیار کردہ پالیسیوں  کی بھی مخالفت کر رہا ہے۔ ترکی مسئلہ یوکرائن میں بھی روسی پالیسیوں  کی حمایت نہیں کرتا ۔ اور آخر میں  یہ کہ دونوں ملکوں کے درمیان  تعلقات خواہ کیسے ہی فروغ پائیں ترکی نیٹو  کا رکن  ملک ہے۔

 



متعللقہ خبریں