ترکی کے جدید دفاعی منصوبے ۔ 4

ترکی کے جدید دفاعی منصوبے ۔ 4

ترکی کے جدید دفاعی منصوبے ۔ 4

 ترک جنگی امور یونین کے تربیتی منیجر طارقان زنگین  کا ترکی کے جدید دفاعی منصوبوں پر جائزہ پیش خدمت  ہے۔

حکومتیں اپنے اپنے ملکوں کے شہریوں کے تحفظ کی خاطر دفاعی شعبے میں اہم سطح کی سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ ترکی،  دنیا میں طاقت کے توازن میں دشمن کو باز رکھنے کی خاطر سرمایہ کاری کرنے والے اہم ممالک میں سے ایک ہے۔ سال 2014 میں ترکی سب سے زیادہ عسکری اخراجات کرنے والے دنیا کے  پہلے پندرہ ممالک میں شامل تھا۔ سن 2017 میں اس نے 29 ارب لیرے  کے دفاعی مصارف  برداشت کیے تھے جو کہ مرکزی بجٹ کے 4.62  فیصد کو تشکیل دیتے تھے۔ ترکی ایک اہم محل و وقوع میں واقع ہونے کی بنا پر علاقائی خطرات سے براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ یہ علاوہ ازیں PKK، پی وائے ڈی/ وائے پی جی، داعش  اور DHKP-C سمیت متعدد مسلح دہشت گرد تنظیموں کے خلاف تنہا نبردِ آزما ہے۔ اس جنگ پر عمل پیرا ہونے کے وقت ٹیکنالوجی کے تقاضے کے مطابق دفاعی  مصنوعات اور  سسٹمز کا استعمال نا گزیر بن  چکا ہے۔ حالیہ دور میں دفاعی اسلحہ کی تیاری میں اہم اقدام اٹھانے والا ترکی ہر گزرتے دن اس شعبے میں کہیں زیادہ بہتر سطح پر آیا ہے۔

دفاعی صنعتی  شعبے میں سن 2004 میں شروع کیے جانے والے قومی و مقامی پیداواری ماڈل کے ساتھ  اس  شعبے میں مقامی پیداواری شرح بیس سے 65 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔ یہ مقامی شرح  ڈراون کی طرح کی انتہائی سڑیٹیجک مصنوعات میں نوے فیصد سے زیادہ ہے۔ ترکی کئی ایک دفاعی مصنوعات  میں دنیا میں پیداوار  کرنے والے چند ممالک  میں  سے ایک  ہے۔ یہ مثال کے طور پر کامی کازے ڈراون Alpagu Kargu) )  کے نام سے یاد کی جانے والی مصنوعات میں پیداوار کر سکنے والے تین ممالک  میں  شامل ہے۔ ترکی ڈراون ٹیکنالوجی میں دنیا میں  طیاروں کے پلیٹ فارم  اور بموں کے ساتھ ساتھ  اسلحہ سے لیس بلا پائلٹ کے اڑن   آلے کو فروغ دیتے ہوئے  پیداوار کرنے والے پہلے  چھ ممالک کی فہرست میں  جگہ پا چکا ہے۔  ہمارا ملک نہ صرف اپنی ضرورت کے مطابق  اسلحہ و عسکری آلات بناتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی مصنوعات کو دوست و اتحادی ممالک کو بھی برآمد کرتا ہے ۔ ترکی  عصر حاضر میں بیرون ملک کو قومی بحری جہاز، قومی ہیلی کاپٹر، بکتر بند گاڑیاں، کوسٹل بوٹس، فضائی دفاعی نظام، راکٹ، عسکری خبر رسانی و کمان کنڑول سسٹمزکو فروخت کرنے  والا ملک بھی ہے۔

ترکی نے سن 2002میں تقریباً ساڑھے پانچ ارب ڈالر کے 66 دفاعی منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا  تھا تو اسوقت  اس کا دفاعی بجٹ  گیارہ گنا اضافے کے ساتھ 60ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ دفاعی منصوبوں کی تعداد  میں  نو گنا اضافہ ہوا ہے ، موجودہ دور میں یہ تعداد ساٹھ سے زیادہ ہے۔ مثلاً قومی پیادہ بندوق  اب باقاعدہ پیداوار کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس کو ترک مسلح افواج، جنڈارمیری اور محکمہ پولیس سمیت اعلی سطحی سرکاری حکام کے حفاظتی اہلکار استعمال کرتے ہیں۔محض حالیہ چار برسوں میں 46  عدد بائراکتار ٹی بی ٹو  اسلحہ سے لیس اڑان بھرنے والے نظام سے  انسدادِ دہشت گردی اور سرحد پار کاروائیوں میں تقریباً  ساٹھ ہزار گھنٹوں تک فضا میں  خدمات لی گئی ہیں۔

ترکی  نے سیٹلائٹس  کے ذریعے  خلا سے متعلق  تجربہ حاصل کیا۔ ترک انجنیئر کی جانب سے  ڈیزائن کردہ   اور ترکی ہی میں تیار کردہ   RASAT   سیٹلائٹ 2011ء میں،  گیوک ترک  سیٹلائٹ   2012ء   میں ، گیوک ترک-2  سیٹلائٹ 2016  خلا روانہ کیے گئے   اور یہ سیٹلایٹ  ابھی تک اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔  ان سیٹلائٹس میں سے  سب سے زیادہ مستفید ہونے والا اداروں میں بلاشبہ ترک مسلح افواج  سر فہرست ہے جو  سیٹلائٹس سےتصاویر حاصل کرتے ہوئے  دہشت گردوں کے بارے میں معلومات یکجا کرتی ہے۔   ترکی نے اس کے علاوہ  USET سسٹم  بھی قائم کیا ہے۔ 2020ء میں  ترکی کا   پہلا   ملی سیٹلائٹ   ترک سات 6اے  یہاں پر ہی تیار کیا جا رہا ہے۔ گیوک ترک -1 سیٹلائٹ  جسے اسرائیل کے شدید دباو کی وجہ سے فرانسیسی کمپنی نے  روک دیا تھا کے چار سال بعد  گیوک ترک -2 کے نام سے نیا سیٹلایٹ خلا روانہ کیا گیا تھا۔  اسرائیل نے فرانسیسی کمپنی پر اسرائیل کے علاقے  کی کورریج نہ کرنے  کی شرط عا ئد کی تھی جس کی بنا پر  نئے سیٹلایٹ  کو روانہ کرنے میں کافی وقت لگا اور ترکی نے چین کے ساتھ   اشتراک کرتے  ہوئے  گیوک ترک سیٹلایٹ کو خلا  کو  2012 میں روانہ کیا تھا۔

وزیر صنعت   و ٹکنولوجی مصطفےٰ  وارانک  نے کہا ہے کہ امسال  ترکی اسپیس  ایجنسی کو تشکیل دے دیا جائے گا۔ ترک اسپیس ایجنسی  ترکی کی خلا سے متعلق تمام منصوبوں  کی کوارڈی نیشن    کرنے کے ساتھ  ساتھ  کام کرنے والوں کو تعلیمی معیار  کو بڑھانے  اور ترک آسٹرو نات کو تیار کرنا ہے ۔ ترک اسپیس ایجنسی  نام کا یہ ادارہ اس سال قائم کرلیا جائے گا اور یہ ادارہ  ترکی میں خلائی امور اور خلا نوردوں سے متعلق تمام امور کو سرانجام دے گا۔



متعللقہ خبریں