ترکی کے جدید دفاعی منصوبے - 05

ترکی مختلف   خطرات  کے سامنے   اپنی قومی سلامتی   کے تحفظ کے لیے  دہشت گردی کے خلاف جدو جہد کو جاری رکھے ہوئے ہے

ترکی کے  جدید دفاعی  منصوبے - 05

ترک دفاعی صنعت   میں  پیش رفت کے حوالے سے  پندرہ روزہ پروگرام کے ساتھ پیش خدمت ہیں ۔

ترکی مختلف   خطرات  کے سامنے   اپنی قومی سلامتی   کے تحفظ کے لیے  دہشت گردی کے خلاف جدو جہد کو جاری رکھے ہوئے ہے لیکن اس دوران اس کو اپنے اتحادی ممالک سے اسلحہ حاصل کرنے میں اکثر  و بیشتر  رکاوٹوں اور پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے۔رقوم کے عوض  حاصل کردہ اسلحے کی خریداری  پر بھی ان کی جانب سے مشکلات کھری کی جا رہی ہیں۔ ترکی اس قسم کی پابندیوں   سےخوف محسوس کرنے کی بجائے   ان حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے  مقامی سطح پر اس قسم کے اسلحے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔  ترکی کے نام  نہاد اتحادی ممالک ترکی کو  بغیر پائلٹ کے  طیارے یعنی ڈرون  فروخت کرنے سے ہچکچا رہے ہیں ۔ اس لیے ترکی نے  ان ڈر اون کو اپنے ہاں مقامی سطح پر ہی تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔  ترکی نے اپنے دفاعی مقاصد کے لیے ڈراون  تیار کرنے کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک کو بھی ڈر اون فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسی مقصد کے لیے ڈر اون  تیار کررہا ہے۔ ہمارے نام نہاد اتحادی ممالک  جنگی طیاروں میں استعمال کیے جانے والی سمارٹ  بم  کو ترکی کے حوالے کرنے  کی بجائے  اس  کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے پر ترکی نے بڑی سرعت سے  اس قسم  سمارٹ بم بھی تیار کرنا شروع کردیے ہیں۔

اس قسم  کے  سمارٹ  جنگی سازو سامان  کو غیر ممالک سے حاصل کرنے کی بجائے انہیں ترکی ہی میں تیار کرنا ترکی کے لحاظ  سے  بڑی   اسٹریٹجیک  اہمیت رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر  امریکہ،  ترکی کو فروخت کردہ  سمارٹ  جنگی سازو سامان  اکثر و بیشتر  اس کی چیکنگ کرنے  کا بھی اختیار رکھتا ہے۔  وہ اس قسم کے جنگی سازو سامان کے کب استعمال کیے جانے  اور  کٹینی تعداد اور مقدار میں ڈپو میں موجود رہنے سے۷ متعلق بھی آگاہی حاصل کرتا رہتا ہے۔  یعنی دوسرے الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ  ترکی کی جانب سے دہشت گرد تنظیم  کے خلاف اپنےجنگی سازو سامان کو  استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور اس پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ 

حتی  بعض اوقات  امریکہ نے ،  ترکی  کی  جانب سے PKK اور پی وائے ڈی کی طرح کی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف  استعمال کرنے کا سد باب کرنے کے  لیے   اسے  سمارٹ فوجی سازو سامان فراہم  کرنے سے انکار کر دیا تھا۔  اس بنا پر ترکی کا   کسی خود مختار اور آزاد مملکت کی طرح  حرکت کرنا اور سمارٹ فوجی آلات کو قومی امکانات کے ساتھ تیار کرنا انتہائی  اہم ہے۔

خاصکر  بعض ممالک  ترک دفاعی صنعت کو قومی شناخت حاصل کرنے  سے باز رکھنے کے لیے مختلف حکمتِ عملی اور حربوں پر  عمل پیرا ہیں۔ یہ  ممالک بعض اوقات  اپنی متعلقہ مصنوعات کی فروخت سے انکار کرتے ہوئے، بعض اوقات فروخت کردہ آلات کے استعمال  کی راہ میں رکاوٹیں  کھڑی کرتے ہوئے اور بعض اوقات قومی پیداوار کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لیے  قابلِ ذکر حد تک نرخوں میں  گراوٹ لاتے ہیں۔  خاصکر جب ترکی نے اپنی ضرورت کے مطابق دفاعی مصنوعات کی تیاری شروع کی  تو انہوں نے اپنی متبادل مصنوعات کو انتہائی سستے داموں فروخت کرنا شروع کر دیا۔

ترک فضائیہ نے سمارٹ   عسکری آلات  کے معاملے میں بیرونی انحصار سے نجات پانے کے  لیے سن 2005 سے  کام کرنا شروع کیا۔ اس دور کے  متعلقہ حکام نے سمارٹ  جنگی سازو سامان  کو قومی وسائل سے تیار کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ قلیل مدت  میں   ہی  پریسژن   گائیڈڈکٹ کی تیاری میں کامیابی حاصل کر لی گئی۔تا ہم اس سے پیشتر کئی دوسری مصنوعات کی طرح ترکی   کو قومی سطح پر جنگی سازو سامان کی تیار ی سے باز رکھنے کے  لیے ہمارے نام  نہاد  اتحادیوں نے مختلف چالیں چلنی شروع کر دیں۔

ترکی کی ضرورت ہونے والی پریسژن   گائیڈڈکٹ  کو 1 لاکھ بیس  ہزار ڈالر  کے عوض خریدا جاتا تھا۔ ترکی  نے سن 2006 میں اس کٹ کو 90 ہزار ڈالر کی مالیت سے تیار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی، اور باقاعدہ    پیداوار  کی صورت میں  اس   کی مالیت میں مزید کمی آنی تھی۔  جب ترکی نے اُن ایام میں اس کٹ کی باقاعدہ  پیداوار کے آغاز کی صدائیں بلند کیں  تو امریکہ  نے اس کی تیار ی پر آنے والی لاگت  سے بھی کم  نرخوں پر  اسے فروخت کرنے کی پیش کش کر ڈالی، اس نے  1 لاکھ بیس ہزار ڈالر سے یک دم اس کی قیمت کو ایک لاکھ ڈالر تک گرا دیا۔ مالیت میں کمی نہ آنے کے باوجود اس کی نرخوں میں اہم سطح پر گراوٹ  لانا کافی  تعجب کی بات تھا۔امریکہ کے اس اقدام کی ایک وجہ ترکی کو کٹ کی باقاعدہ  تیاری سے باز رکھنا  تھی۔  قیمت میں کمی لانے  سے قومی پیداوار کی مالیت میں 4 تا 5 گنا   تک اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس بنا پر   اس پر عمل درآمد  کے دورانیہ میں  طوالت آجاتی ہے۔ تا ہم  ترکی نے  ایک آزاد قومی دفاعی پالیسی کے تقاضے کے مطابق   قلیل  مدت میں ہی   اس کی  بڑی تعداد میں پیداوار کو شروع کر دیا۔

"پری سیشن گائیڈنس  سسٹم"   ترک دفاعی صنعت  کے  ماہرین  کی 5 سالہ کاوشوں کا نتیجہ ہے    جن کی پہلی کھیپ ترک فضائیہ   کو پہنچا دی گئی ہے ۔ اس نظام     کو ایک عسکری  کارخانے میں  اعلی فوجی ماہرین   کے اشتراک سے  سن 2013 میں تیار  کیا   گیا تھا۔ سابق وزیر سائنس و ٹیکنالوجی  فاروق اوزلو  نے  نومبر 2017  کو ترک پارلیمان کے  منصوبہ ندی و بجٹ  کمیشن   سے خطاب کے دوران  اس بات کا اظہار کیا تھا کہ  اس نظام کی مسلسل تیاری شروع کر دی گئی ہے ۔ اس سے پیشتر یہ نظام  امریکہ ،روس اور اسرائیل   تیار کر رہے تھے  مگر ترکی نے اپنے مقامی وسائل کو بروئے کارلا تے ہوئے  اس کی تیاری میں کامیابی حاصل کی اور دنیا کے چنندہ ممالک میں شامل ہوگیا ہے ۔  اس نظام  کو   فرات  ڈھال،شاخ زیتون  اور انسداد دہشت گردی کی دیگر کاروائیوں میں استعمال کیا گیا ۔

 ماہرین کے مطابق ، جنگی طیارے عام طور  پر    5 تا 6 کلومیٹر  کے فاصلے سے بم پھینک سکتے ہیں مگر  اس نظام کی بدولت یہ فاصلہ 25 کلومیٹر طویل ہو سکتا ہے۔ اس نظام کی خاصیت یہ بھی   کہ بمباری کرتے وقت بموں      کی اپنے اہداف کی جانب  روانگی  بل کھاتے ہوئے ہوتی ہے ۔

  اس  گائیڈنس  سسٹم  کی مدد سے  جو غلاف بموں پر  چڑھایا جاتا ہے ان کی مدد سے  یہ بم  اپنے اہداف    کو  تلاش کرتےہوئے  6میٹر      کی معمولی   اور نیچی پرواز  سے بھی  تباہ کرنے کی  صلاحیت رکھتےہیں جس سے اطراف    نقصان سے بچ جاتا ہے۔

 یہ نظام اپنی کم مالیت  اور خصوصیات کی بنا پر    اس وقت  عرب ممالک،ایشیا اور شمالی افریقی ممالک  کی توجہ  حاصل کر رہا ہے۔

 

 

 



متعللقہ خبریں