قدم بہ قدم پاکستان - 36

آئیے!آج آپ کو پشاور کے عجائب گھر لیے چلتے ہیں

قدم بہ قدم پاکستان - 36

قدم قدم پاکستان - 36

آئیے!آج آپ کو پشاور کے عجائب گھر لیے چلتے ہیں۔

پشاور کے عجائب گھر کا شمار پاکستان کے قدیم ترین عجائب گھروں میں ہوتا ہے۔ 1906ءمیں یہ پہلے سے تعمیر شدہ میموریل ہال میں قائم کیا گیا تھا۔ آثار قدیمہ کے مشہور و معروف ماہر سرارل سٹین اس کے سب سے پہلے مہتمم تھے۔

یہ عجائب گھر گورنمنٹ ہاؤس کے قریب اس بڑی شاہراہ پر واقع ہے جو پرانے شہر کو چھاؤنی ریلوے اسٹیشن سے ملاتی ہے۔ عجائب گھر کے تین مشہور حصے گندھارا، مسلم اور قبائلی ہیں۔ اس کی شہرت گندھارا آرٹ کے خوبصورت اور قیمتی مجسموں کی مرہون منت ہے۔ یہاں تخت بھائی وغیرہ سے لائے ہوئے مہاتما بدھ کے مجسمے ملتے ہیں اس کے علاوہ ایسے مجسمے بھی ہیں جو فن سنگ تراشی کا شاہکار ہیں اور مہاتما بدھ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہیں۔ بدھ مت کے بادشاہ اشوک اور کنشک شہنشاہ کی مہریں اور نقوش نمایاں طور پر ملتے ہیں۔ مختلف سائز میں پتھر اور پلاسٹر کے بنے ہوئے گوتم بدھ کے مجسمے اس عجائب گھر کی اہمیت اور شہرت کا باعث ہیں۔ اس میں مختلف دور کے نادر سکوں کا بھی خزانہ موجود ہے تاہم اس کا انمول خزینہ پشاور کے نواح میں واقع شاہ جی کی ڈھیری سے 1908ءمیں آثار قدیمہ کی کھدائی کے دوران ملنے والا زیورات کا صندوقچہ ہے۔

اس منقش صندوقچے میں گوتم بدھ کی ہڈیوں کے تین ٹکڑے پائے گئے تھے۔ انگریزوں نے اسے برما کی بدھ سوسائٹی کو دے دیا تھا جس نے مانڈے کو ایک مقدس زیارت گاہ بنا دیا البتہ یہ نادر صندوقچہ بطور بے مثل یادگار اس عجائب گھر کی اب تک زینت ہے۔

پشاور عجائب گھر کے زیادہ ذخیرے گندھارا تہذیب سے متعلق ہیں اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے یہ علاقے آج سے اڑھائی ہزار برس پہلے بھی کسی عظیم الشان تہذیب کا مرکز تھے۔

سکندر اعظم کے حملے سے پہلے موجودہ وادی پشاور کو گندھارا کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔ دارالخلافہ پشکاراوتی تھا جسے ہم آج کل چارسدہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ واقعہ 327-326 قبل مسیح کا ہے۔ پشاور کے عجائب گھر میں زیادہ مجسمے چار سدہ، سری بہلول، سروان، تخت بھائی، شاہ جی کی ڈھیری اور جمال گڑھی کی کھدائیوں سے دستیاب ہوئے ہیں۔

عجائب گھر میں جو مجسمے ہیں ان سے رائج الوقت رسم و رواج کے متعلق بہت معلومات فراہم ہوتی ہیں۔ ان کے عقائد ہمیں تصویروں کی شکل میں نظر آتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان کی فنی قابلیت کے متعلق بھی علم ہو جاتا ہے۔ مہماتما بدھ کے مجسمے سب سے پہلے گندھارا ہی میں بنائے گئے اور بعد میں جنوبی ہندوستان میں ان مجسموں پر مزید ترقی کی گئی۔

امیر سے لے کر غریب تک کی پوشاک اور حالت کا اندازہ ان مجسموں سے لگایا جا سکتا ہے۔ گھروں کے حالات، جنگ کے ہتھیاروں زرہ بکتر، ہیرے جواہرات، ہودے، گاڑیاں، رتھیں، گھوڑے، ان کے سازو سامان، زرعی اوزار اور موسیقی کے آلات بھی دکھائے گئے ہیں۔ لوگ کام کر تے، کھیلتے، عبادت کرتے، شادیوں میں مشغول ،قربانیاں ادا کرتے وغیرہ جیسی حالتوں میں نظر آتے ہیں۔ عام رسومات میں رقص کرتے ہوئے گانے والے سیاح پہلوان وغیرہ بھی اپنی اپنی جگہ اہمیت واضح کرتے ہیں۔ یہ مجسمے واقعات، رومان اور عقیدت سے لبریز دکھائی دیتے ہیں۔

پشاور عجائب گھر گندھارا کے بہترین ذخائر کا مجموعہ رکھتا ہے ان کے علاوہ عجائب گھر میں پرانے سکے موجود ہیں۔ ایک طرف قدیم کتبے ہیں۔ پتھر میں کندہ کتبے کسی کنوئیں کی تعمیر کی یادگار ہیں۔ پرانے زمانے کی مٹی کے برتن جن پر نقش و نگار بھی ہیں۔ قدیم صنعت کاروں کی فنی قابلیت کا پتہ دیتے ہیں۔

آئندہ ہفتے آپ کو پاکستان کے کسی اور خوبصورت مقام کی سیر کروائیں گے۔ تب تک کے لیے اپنے میزبان محمد شعیب کو اجازت دیجئے۔اللہ حافظ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 



متعللقہ خبریں