حالات کے آئینے میں ۔ 35

حالات کے آئینے میں ۔ 35

حالات کے آئینے میں ۔ 35

پروگرام " حالات کے آئینے میں " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ سال 2011 سے لے کر اب تک جاری  شامی بحران میں ادلب کا علاقہ مخالفین کے آخری قلعے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ادلب کے ساتھ ساتھ اس کے اطراف کے مغربی اور جنوبی حلب  ، شمالی حاما اور شمالی لازکیہ میں ترکمان پہاڑوں  کے جوار  پر محیط علاقہ اسد انتظامیہ  کے خلاف مصروف پیکار مخالفین  کے زیر کنٹرول آخری علاقہ ہے۔   حلب، مشرقی الغوطہ، درعا، کنیترا اور شمالی حمص جیسے علاقوں سے محروم ہونے کے بعد ادلب میں مخالفین کی موجودگی زیادہ اہمیت حاصل کر گئی ہے۔ ادلب کی آبادی 3 ملین تک پہنچ چکی ہے اور آستانہ مذاکراتی مرحلے  کے حوالے سے اس علاقے کو جھڑپوں سے آزاد علاقے  میں شامل کیا گیا ہے۔  ترکی کے روس اور ایران کے ساتھ طے کردہ سمجھوتے کے دائرہ کار میں قائم کی گئیں 12 عدد کنٹرول چوکیاں علاقے کی تقدیر کے حوالے سے نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ 

سیاست، اقتصادیات اور معاشرتی تحقیقات  کے وقف SETA  کے محقق اور مصنف جان آجُون  کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

ادلب کے مخالفین وقتاً فوقتاً آپس میں جھڑپیں کر رہے ہیں۔ مخالفین  کی ان جھڑپوں کی وجہ نظریاتی اختلافات  اور طاقت  کا حصول ہے۔ علاقے کی حالیہ پیش رفتوں   کے حوالے سے دیکھا جائے تو ادلب میں ہیت تحریر الشام اور قومی آزادی فرنٹ  کے پلیٹ فورم پر دو بنیادی کیمپوں کے بارے میں بات کی جا سکتی ہے۔ ہیت تحریر الشام کو امریکہ دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے جبکہ قومی آزدی فرنٹ  کو ترکی کی حمایت حاصل ہے۔ ہیت تحریر الشام آستانہ مذاکرات میں شامل نہیں تھی جبکہ قومی آزادی فرنٹ مذاکرات کا حصہ تھی۔

انتظامیہ اور اس کے اتحادیوں  کی طرف سے علاقے میں مداخلت  کے لئے بہانے کے طور پر سامنے لائے گئے متعصب گروپ بھی موجود ہیں ۔ تاہم ترکی سیاسی کوششوں کے ساتھ ان گروپوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آستانہ مذاکراتی مرحلے  میں ادلب کے  جھڑپوں سے آزاد علاقہ تسلیم کئے جانے کے باوجود انتظامیہ اور اس کے اتحادیوں  نے ادلب کو براہ راست اور وسیع شکل میں ہدف بنانے  کے بارے میں  بیانات  میں اضافہ کر دیا ہے۔ ادلب  پر کوئی ممکنہ فوجی حملہ ترکی کے حوالے سے بڑے پیمانے کے خطرات  کا حامل ہے۔ اقوام متحدہ کے شام کے لئے نمائندہ خصوصی سٹیفن ڈی مستورا کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ادلب میں مشرقی الغوطہ  جیسے منظر  کی تکرار ہوئی تو یہاں کی انسانی صورتحال مشرقی الغوطہ  سے چھ گنا زیادہ بُری ہو گی۔ ادلب اور اس کے اطراف  کے مخالف عناصر  کا خاتمہ ایک ایسی حقیقت کی شکل اختیار کر سکتا ہے کہ جو  ترکی کے زیرِ اثر  عفرین، عزیز، باب اور جرابلس جیسے علاقوں کے لئے براہ راست خطرہ بن جائے گی۔

شامی انتظامیہ کی موجودہ فوجی صلاحیت سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ  ادلیب  پر کوئی ممکنہ وسیع پیمانے کا فوجی آپریشن  صرف روس کی منظوری اور آپریشن میں شمولیت  کے ساتھ ہی ممکن  ہو سکتا ہے۔ شام کے فرنٹ پر ترکی اور روس  کی موجودہ پوزیشنیں اور دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات ماسکو کے کسی ایسا قدم اٹھانے کے احتمال کو کمزور بنا رہے ہیں کہ جو انقرہ کے لئے براہ راست خطرہ تشکیل دے رہا ہو۔

تاہم علاقے پر کی جانے والی فضائی بمباری آستانہ مذاکراتی مرحلے کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے پر بھروسے کو نقصان پہنچا  رہی ہے اور علاقے  میں عدم استحکام پھیلانے میں کردار ادا کر رہی ہے۔ ترکی نے اپنی قائم کردہ 12 عدد کنٹرول چوکیوں کے ساتھ علاقے پر کسی بّری آپریشن کا سدباب کر دیا ہے نتیجتاً   توقع کی جا رہی ہے کہ   اگر ادلب  پر کوئی فوجی آپریشن  کیا جاتا ہے تو اس کے مقابل ترکی  کی کنٹرول چوکیوں کی مزاحمت کا آنے والے دنوں میں انتظامیہ بھی اور انتظامیہ کے حامی ملیشیا بھی تجربہ کر لیں گے۔

یہ واضح دکھائی دے رہا ہے کہ ادلب پر وسیع پیمانے کا فوجی آپریشن کرنے  کے لئے  شامی انتظامیہ کی فوجی صلاحیت ناکافی  ہے اور اس حوالے سے وہ مکمل طور پر روس اور ایران پر انحصار کر رہی ہے۔ لہٰذا  یہ کہا جا سکتا ہے کہ روس کے زیر اثر شامی انتظامیہ کا ادلب پر فوجی حملے کا فیصلہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب اسے روس کی حمایت اور وسیع پیمانے کی مدد حاصل ہو۔

ترکی ادلب کے موضوع پر روس کے ساتھ  جاری مذاکرات  کے ساتھ تقریباً 3 ملین شہریوں  کی رہائش کے علاقے  کو ایک بڑے انسانی بحران  سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ علاقے پر کئے جانے والے فضائی حملوں کی صورت میں روس اور انتظامیہ کی فضائیہ کو  شام کی فضائی حدود میں عملاً روکنا ممکن نہ ہونے کی وجہ سے ترکی سفارتی راستوں سے فضائی حملوں کو ہر ممکن حد تک کم کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ متعصب گروپوں کی  ادلب میں موجودگی کو کم کرنا  بھی ضروری ہے کیوں کہ علاقے پر فضائی آپریشن کے لئے انتظامیہ اور روس انہیں ایک بہانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

شام کی جھڑپوں کے خاتمے اور آستانہ مذاکراتی مرحلے  کے  کسی نتیجے پر پہنچ کر کوئی سیاسی حل سامنے لانے کے حوالے سے ترکی کا تمام مخالفین کو ایک واحد پلیٹ فورم پر جمع کرنا نہایت اہمیت کا حامل ہے۔  لیکن اس کے ساتھ ساتھ انتظامیہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ ادلب کے لئے اپنے جارحانہ روّیے  کو ختم کریں اور فضائی حملوں کو بھی بند کریں۔ لیکن جو نظر آ رہا ہے وہ یہ کہ انتظامیہ ادلب میں مخالفین کو کم کر کے فوجی حوالے سے شامی مخالفت اور انقلابی فورسز کو مکمل طور پر ختم کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔ آستانہ اور سوچی مذاکراتی مراحل کے دائرہ کار میں جاری نئے آئین  کی تیاری اور اس سے متعلقہ اقدامات  پر بھی انتظامیہ دباو ڈال رہی ہے۔ تاہم ترکی کے حوالے سے ادلب کا تحفظ بڑے پیمانے پر مہاجرین کے بہاو کے سدباب  سے لے کر  فرات ڈھال آپریشن اور شاخِ زیتون آپریشن کے علاقوں کی آبادی  تک اور پی کے کے کی شامی شاخ PYD/YPG  کے ساتھ جاری جدوجہد  سے شام کے مستقبل  سے متعلق مذاکرات میں اظہار خیال کا حق حاصل کرنے تک ایک وسیع احاطے میں اہمیت کا حامل ہے۔

 



متعللقہ خبریں