ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 35

قزاق صدر نظار بایف ترک برادری کی سیاسی شخصیات کے بزرگ ہیں، صدر ایردوان

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ  35

یوریشیا اور ترک برادری  کے سڑیٹیجک ممالک کی صف میں شامل  جمہوریہ قزاقستان  میں  اعلانِ آزادی کے بعد  سے ابتک اس ملک کی قیادت  نور سلطان نظار بایف کر رہے ہیں قزاق ماڈل کی نشاط کرنے والی نظار بایف کی انتظامیہ اور اس کے خطے پر اثرات کا جائزہ اتاترک یونیورسٹی  کے شعبہ  بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کے قلم سے۔۔۔

نور سلطان نظار بایف  قزاقستان   کے دوبارہ سے آزادی حاصل کرنے کے برس 1991 سے ابتک ملکی لیڈر کے  فرائض پر براجمان ہیں۔ انہوں نے اس طویل عرصے میں نہ صرف قزاقستان بلکہ ترک  برادری اور کئی  دیگر ملکوں کا بھی   اعتماد حاصل کر رکھا ہے، آپ امن کے  علم بردار لیڈر کی حیثیت سے پوری دنیا میں  جانے  پہنچانے جاتے ہیں اور  ان کو اس بنا پر خاصی پذیرائی بھی حاصل ہے۔

نظار بایف  نے  الماتہ کے جوار میں واقع چمولگان  میں ایک  معتبر خاندان  کے  فرد کی حیثیت سے  1940 میں   جنم لیا۔ سرد جنگ چھڑنے کے دور   میں یہ پرائمری  اسکول میں زیر تعلیم تھے۔ ہائی اسکول  میں انہوں  نے دھاتوں کے علوم کی تعلیم حاصل کی اور سن 1962 میں قارا گاندے  یونیورسٹی سے  میٹلرجیکل  انجنیئرنگ کی ڈگری حاصل کی، 1984 تک اہم سطح کے بیوروکریٹک عہدوں پر مزدوروں کے انفرادی مسائل   کو حل کرنے میں  کوششیں صرف کیں۔ صنعتی مسائل کے حل میں بھی اہم کردار ادا کیا اور محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو تجاویز پیش کیں۔

یکم دسمبر 1991  کے انتخابات میں واحد امیدوار کے طور پر حصہ لینے والے نظار بایف   نے 21 دسمبر کو الماتہ میں قزاقستان کو آزادی دلانے والے پروٹوکول پر دستخط کیے۔  سن 1991  کے بعد 1999، 2005، 2011 ا ور 2015  کے انتخابات میں   بھی انہوں نے عوام کی ایک بڑی اکثریت کے ووٹوں کو حاصل کرتے  ہوئے اپنے عہدے کو برقرار رکھا۔  سن 1997 میں دارالحکومت کو الماتہ سے آستانہ منتقل کیا۔  نظار بایف نے اس دورانیہ میں روس کے ساتھ اقتصادی و سیاسی روابط کو جاری  رکھا تا ہم  اس کے ساتھ ساتھ امریکہ، ترکی، ترک برادری، یورپی یونین اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات  کو فروغ دیا۔

قزاق لیڈر خارجہ پالیسی میں واحد رخی   پر عمل درآمد کے بجائے    ہر ملک کے ساتھ مساوی فاصلہ قائم کرنے پر عمل پیرا ہیں۔  ان کی خارجہ پالیسیاں کثیرالجہتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہیں  عالمی رائے عامہ میں 'مصالحتی رہنما' کی نگاہ سے دیکھا  جاتا ہے۔ خیال رہے کہ نظار بایف نے شامی بحران اور شام میں در پیش انسانی المیہ کے خاتمے  کے لیے بھی خدمات ادا کیں۔ روس ، ایران  اور ترکی کے تعاون سے  منعقدہ آستانہ اجلاس  کی انہوں نے میزبانی کی۔ قزاقستان  کا ان  اجلاس  کی میزبانی کرنا شام کے اہم طبقوں میں سے ایک ترکمانوں کے بھی  آستانہ مذاکرات میں شراکت  کرنے کا وسیلہ ثابت ہوا۔

قزاقستان  کے سر پر ترک برادری کو اہمیت  اور وقعت دینے والے اور ترکوں کے لیے  بہترین خیالات کے  مالک نظار بایف کی طرح   کے رہنماؤں  کی موجودگی  ترک برادری کے لیے ایک اہم موقع تشکیل دیتی ہے۔ آپ کے عالمِ ترک  میں باہمی تعاون  سے متعلق  شاندار افکار آذربائیجان، قزاقستان، کرغزستان اور ترکی کے رکن ہونے والے ترک کونسل کے  لیے نواع و اقسام کے مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔  اس حوالے سے قزاقستان اور ترکی  کی قوی حمایت و تعاون حاصل ہونےو الی ترک کونسل کو ترکمانستان اور ازبیکستان کی بھی شراکت  سے مزید طاقت دلانے کی ضرورت ہے۔ اگر ترک برادری نے  اپنے درمیان  مضبوط تعاون قائم کر لیا تو  اس کے بین الاقوامی تنظیموں کی سطح پر مثبت اثرات  قطعی طور پر ہوں گے۔ عصر حاضر میں جیسا کہ فرانس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فرانکوفون ممالک کے نمائندے کے طور پر  دکھائی دیتا ہے   اسی طرح آئندہ کے برسوں میں  ترکو فون  ممالک  کے نمائندے کی حیثیت سے ترک کونسل کے کسی ایک رکن کی سلامتی کونسل میں  موجودگی  کامطالبہ ترک برادری کی جانب سے اقوام متحدہ کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔

نظار بایف نے دہشت گرد تنظیم فیتو  کی 15 جولائی سن 2016 میں بغاوت کی کوشش کے بعد ترکی کی صف میں  جگہ پائی اور انقرہ کا دورہ کرنے والے پہلے صدرِ مملکت ثابت ہوئے، آپ کا  ترکی میں ناکام بغاوت اقدام کے بعد پہلا  سرکاری مہمان بننا معنی خیز تھا۔ نظار بایف کا بیان کہ"ترکی کا دشمن ہمارا بھی دشمن ہے"  حقیقی بھائی چارے  کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان  بھی نورسلطان نظار بایف کو "عالم ترک کی بزرگ ہستی"  کے طور پر بیان کرتے ہیں جس کا مشاہدہ قزاق صدر کے  دورہ ترکی کے دوران  جناب ایردوان کی مندرجہ ذیل تقریر   میں بھی ہوتاہے: "گرامی صدر ترک برادری کے تجربہ کار ترین  بزرگ کا درجہ رکھتے ہیں،  محترم  کی عقل مندانہ و متوازن پالیسیوں کی بدولت قزاقستان آج  خطے اور دنیا   کی جانب سے تعاون  مطلوب ہونے والا ایک معتبر اداکار  بن چکا ہے۔ مشترکہ لسان، ماضی اور ثقافت کے  حامل برادر ملک قزاقستان  نے حصول ِ آزادی کے بعد  اپنے سیاسی استحکام کو تقویت  دی اور سرعت سے اقتصادی ترقی  سے ہمکناری کی ہے۔ "

 نور سلطان نظار بایف   کے  نقطہ نظر اور حکمت عملی  کی بدولت  معرضِ وجود میں آنے والے 'قزاق ماڈل'    کا اثاثہ ترک تہذیب کے قدیم ورثوں  پر استوار ہے اور    یہ 'استحکام' اور 'اقتصادی ترقی'   کا مظاہرہ بھی کر رہا ہے۔ نتیجتاً قزاقستان سن 2018  سے ایک تاریخی قدم اٹھا رہا ہے، یہ دنیا کے 30 ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونے  کا ہدف رکھتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ملک نور سلطان نظار بایف کی قیادت میں  اپنے   پر عزم سفر کو جاری و ساری رکھے گا۔ آج نور سلطان نظار بایف اور رجب طیب ایردوان جیسے رہنماؤں کی موجودگی  دونوں ملکوں  سمیت ترک برادری کے  لیے   ایک بڑی خوشی قسمتی ہے۔



متعللقہ خبریں