عالمی نقطہ نظر35

"نظریہ کافی مگر ضرور ت صحیح سمت کی "

عالمی نقطہ نظر35

عالمی نقطہ نظر35

Küresel Perspektif  / 35

Sadece Doğru Konumlanma/Vizyon Yeterli midir

 

Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL

 

 اگر  اپنے نظریات  کو     حقیقت کا روپ دینے  اور ہر مسئلے کا حل  تلاش کرنا ہے تو اس کےلیے  ضروری ہے  کہ  صحیح سمت کا تعین کیا جائے   کیونکہ اس کے بغیر  کامیابی ملنا مشکل کام ہے ۔

دوسری جانب   اگر غلط  اہداف      کی تقرری  اور ان سے نابلدی بھی ایک مسئلہ ہے کیونکہ یہ اہداف  ایک ایسے   بحری جہاز کی مانند ہوتےہیں  جو کہ  ہوا کے رخ سے  لاعلمی  پر  اپنی منزل کھو بیٹھتا ہے ۔ اسی وجہ سے  زندگی کی اس دوڑ میں  صحیح سمت کا تعین   ناگزیر ہے ۔    بعض اوقات  ان نظریات  کے تناظر میں وہ عوامل پوشیدہ ہوتے ہیں جو کہ ہم    روزمرہ کی  زندگی میں  چائے خانوں کے باہر یا  محلے کے کونوں میں      موضوعات   میں  شامل کرتے ہیں ۔

 نظریات  قابل قدر ہوتے ہیں  جو کہ انسانی تاریخ   میں ایک انقلاب برپا کرنے  کا سبب  اور صلاحیت  رکھتے ہیں جن کا اطلاق لفظی نہیں  عملی ہوتا ہے۔

 ایک دیگر  مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر نظریاتی  ہدف   کو صحیح  راستے پر  نہ ڈالا جائے یا   اس  کی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش نہ کی جائے  تو یہ نظریہ بے کار ثابت ہوگا  لہذا  بات اس امر کی ہے کہ  اپنے نظریات  پر ثابت قدم  رہتےہوئے ان  میں  صورت حال کے مطابق  تبدیلی لائی جائے۔

دریں اثنا٫   خام خیالی یا عرف عام میں خیالی پلاو ہمارے لیے نقصان دہ بھی بن سکتے ہیں کیونکہ زندگی کے نشیب و فراز  اور  تلخ تجربات  سے  نصیحت اگر نہ لی جائے   تو ان مقرر کردہ اہداف تک رسائی میں  دقت حتی   نظریات   کی ناکامی کا بھی سامنا ہو سکتا ہے لہذا  نظریات  کا صحیح تعین اور ان    کی تکمیل  پر  اپنے  تجربات  کی روشنی میں متوجہ رہنا  ضروری ہے ۔ مذہب اسلام کی تعلیمات بھی اس بات کی غمازی کرتی ہیں۔

 آج کی دنیا میں    نظریات پر عمل درآمد   وضع کر دہ اصولوں پر  کافی حد تک ممکن ہے  لیکن   بعض اوقات  نظریات اور بیانات آپس میں  میل نہیں کھاتے  جن  کا  نتیجہ ہمیں      دکھائی دے جاتا ہے۔

 زندگی کا اصل مقصد جد وجہد   اور ایمان   میں  پوشیدہ ہے  ،جدوجہد درحقیقت عمل، یقین کامل،ہمت اور کوشش کا نام ہے    اور جہاں تک جہاد کا تعلق ہے تو جدید زندگی میں اس کی ضرورت کافی کم  رہتی ہے ۔ اس کے جواب میں  ہم اپنے یومیہ امور  میں جو   بھی کام سر انجام دیت ےہیں   ان  کےلیے اگر درست طریقے سے کوشش کی جائے تو یہ  بھی ایک قسم کا جہاد ہی کہلاتا ہے۔

 نظریاتی  ہدف کا تعین  ایک ناگزیر اصول ہے  کیونکہ  غلط نظریاتی اصول  آپ کو  اپنے مقصد سے دور کر سکتے ہیں۔

 یاد رکھیے صحیح  نظریہ ایک ابتدائی  قدم ہے جس  کا مثبت نتیجہ اس پر مناسب   وقت  میں عمل درآمد کرنے سے ملتا ہے ۔

 یہ جائزہ آپ کی خدمت میں  انقرہ کی  یلدرم بایزید یونیورسٹی  کے شعبہ سیاسی علوم    کے پروفیسر ڈاکٹر قدرت بلبل کے قلم سے  پیش کیا گیا ۔

 

 



متعللقہ خبریں