ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 34

ترکی اور عوامی جمہوریہ چین کی وسطی ایشیائی ممالک میں خارجہ پالیسیوں کے اثرات

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 34

عوامی ڈپلومیسی کو  وسطی ایشیائی علاقے میں  خارجہ پالیسی کے ایک اہم عنصر کی حیثیت حاصل ہے۔ ترکی اور چین کی وسطی ایشیا میں عوامی ڈپلومیسی  کاروائیوں اور امور پر جائزہ  اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کے قلم سے۔۔۔

عوامی جمہوریہ چین ایشیا کو تاریخی اثرات  کے حامل علاقہ جات میں سے ایک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اقتصادیات سمیت توانائی کی ضرورت   میں بھی سرعت سے اضافہ ہونے والے چین کے لیے وسطی ایشیا بیک وقت (ملک کے مغرب میں واقع اعغر خود مختار  علاقے  کے ساتھ سرحدیں واقع ہونے کی بنا پر)  سلامتی پالیسیوں کے اعتبار سے بھی اہم ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے لحاظ سے چین اور روس  کی مشترکہ وسطی ایشیا پالیسیاں موجود ہونے  کا تاثر پایا جاتا ہے۔ تا ہم دونوں ملکوں کے مابین سنجیدہ سطح کی اقتصادی حاکمیت کی کشمکش  کا بھی  وجود ملتا ہے۔

ترکی کی خطے کے حوالے سے عمومی پالیسی، علاقائی ممالک کی آزادی، سیاسی و اقتصادی استحکام کے مالک  بننے، اپنے درمیان اور ہمسایوں سے تعاو ن کے ماحول میں عالمی برادری  کے ساتھ یکسانیت  اور جمہوری اقدار کو اپنانے والی مملکتوں کے طور پراپنے اپنے وجود کو جاری رکھنے  کی  طرح کے عوامل کی حمایت  پر مبنی ہے۔ ترکی نے   ان پالیسیوں کی بدولت  علاقائی ممالک کے ایک اہم حصہ دار کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ ترکی  کی علاقے  سے متعلق پبلک ڈیموکریسی فعلیت ثقافتی، تعلیمی، میڈیا  اور ترقیاتی امداد و تعاون  پر مبنی ہے۔ اس  اعتبار سے اٹھائے گئے اقدامات میں سے ایک سن 1993  میں بین الاقوامی ثقافتِ ترک تنظیم (ترک سوئے) کا قیام تھا۔ ترکی، آذربائیجان، قزاقستان، کرغزستان، ازبیکستان اور ترکمانستان ترکسوئے کے مرکزی ارکان ہیں تو شمالی قبرصی ترک جمہوریہ، ریشین فیڈریشن سے منسلک چھ خود مختار جمہورتیں اور مولڈووا سے منسلک غاغوز خود مختار جمہوریہ   مبصر ملک  کی صفت سے ترک سوئے کے رکن ہیں۔

چین  خطے میں نرم گوشے کی حامل طاقت کی نشاط میں سرگرداں ہے۔  چین کے وسطی  ایشیا کے علاقے میں اپنے مفادات کے تحفظ  کے    مہرے، شنگھائی تعاون تنظیم، فوجی مشقوں، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد،سرحدی علاقوں پر  تجارتی علاقے،  وسطی ایشیا فری ٹریڈ زون اور نیا  شاہراہ ریشم منصوبہ ہیں۔ چین کی جانب سے تعمیر کردہ قدرتی گیس پائپ لائن،  وسطی ایشیا  کے علاقائی  الحاق  میں  معاونت  فراہم  کر رہی ہے تو  اس نے  خطے کی ریاستوں کی  خود مختاری اور حاکمیت کے خلاف براہ راست کسی خطرے کو تشکیل نہیں دیا۔ قزاقستان اور ترکمانستان نے چین کی تیل اور قدرتی گیس  کی پائپ لائنوں  کی بدولت روس پر انحصار میں گراوٹ لائی ہے۔ سال 2020 سے چین کے وسطی ایشیائی علاقے سے نکالے جانے والے تیل اور قدرتی گیس کے  سب سے بڑے خریدار بننے کی توقع کی جاتی ہے۔ کرغزستان میں چین کی مالی اعانت کے ساتھ قائم کردہ پیٹرولیم ریفائنری  کے بھی روس کی  ایندھن کی سپلائی میں  اجارہ داری کو توڑنے کی توقعات  پائی جاتی ہیں۔

عوامی ڈپلومیسی نظریے کو کسی  پراپیگنڈے  کے طور پر تصور کرنے والے چین  کے اس میدان میں قائد ادارےسرکاری کونسل دفترِ اطلاعات و خان بان   یعنی بین الاقوامی چینی زبان کونسل ہیں۔خان بان، کنفیوشی   انسٹیٹیوٹس  کے مرکزی دفاتر کی حیثیت سے  اپنے امور سر انجام دیتا ہے۔ اپنے واقع ہونے والے مقامات پر چینی زبان کی درس و تدریسی  اور چینی ثقافت کے تعارف سے متعلق  سرگرمیوں کا انعقاد کرنے والے  یہ مراکزوظائف  فراہم کرتے ہوئے  عالمی  طلباو طالبات کو چین  میں تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دینے کا بھی  ہدف رکھتے ہیں۔ یہ  اسٹوڈنٹ ایکسچینج پروگرامز اور  مختلف وظیفوں کے ذریعے  75 فیصدایشیائی نژاد  سمیت سالانہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد  طالب علموں کے حصولِ تعلیم کے زیر ِ مقصد چین  آنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ فارن افیئرز یونیورسٹی کے قیام کے ساتھ ہی  غیر ملکی سفارتکاروں کے لیے تین ماہ کے عرصے پر محیط فارمیشن پروگرامز کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔  اس طریقے سے  مستقبل کی پالیسیوں کا تعین کرنے والوں کی نظر میں چین کے حوالے سے ایک مثبت تاثر  اور سوچ پیدا کرنے کا مقصد بنایا گیا ہے۔

خطے کے ممالک کے ساتھ باہمی تعلقات میں تعلیمی سرگرمیوں کو خصوصی اہمیت دینے والے ترکی نے  سن 1992 سے ابتک ترکی جمہورتوں سے  ہزاروں کی تعداد میں  طالب علموں کی میزبانی کی۔ علاوہ ازیں، ترکی زبان کی ترویج و تفہیم   کے حوالے سے امور کی بدولت   ترکی کے عوامی ڈپلومیسی  میں ایک اہم آلہ کار کی ماہیت اختیار کرنے والے  یونس ایمرے انسٹیٹیوٹ؛ آستانہ اور باقو میں سرگرم اپنے مراکز کے ذریعے  علاقے میں اپنی سرگرمیوں پر عمل پیرا ہے۔ ترک وزارت ِ تعلیم کی سرپرستی میں  خطے میں مختلف تعلیمی ادارے  خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ  کرغزستان ۔ ترکی مناس یونیورسٹی سن 1997 سے ابتک بشکیک میں تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ ترک برادری کی پہلی مشترکہ سرکاری یونیورسٹی کی حیثیت رکھنے والی  احمد یسیوی یونیورسٹی  درس و تدریسی سمیت تحقیقاتی سرگرمیوں کو قزاقستان میں  واقع کیمپس میں  سر انجام دے رہی ہے۔

چین کی اعغر خود مختار علاقے میں مقیم اعغر باشندوں کو اپنے زیر دباو رکھنے کی  کاروائیاں اکثر و بیشتر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے ایجنڈے میں آتی رہتی ہیں۔ علاوہ ازیں  اس بات کا بھی دعوی کیا جاتا ہے  کہ چین اس علاقے میں مقیم قزاق اور کرغز اقلیتوں  کو امتیازی حیثیت دیتے ہوئے نسلی تفریق بازی کو  شہہ دے رہا ہے۔ وظیفے کے مختلف پروگراموں کے ذریعے  چین    آنے والے وسطی ایشیائی  نژاد  طالب علموں کی اکثریت کو  زیادہ تر اعغر خود مختار علاقے کی یونیورسٹیوں میں داخلہ دیا جاتا ہے۔اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ چین ان پالیسیوں کے ذریعے  علاقے میں اعغر شناخت کو کم سے کم سطح تک  کرنے اور وسطی ایشیا  کے ساتھ اقتصادی   انضمام قائم کرتے ہوئے  شاہراہ ِ ریشم منصوبے کے بنیادی ڈھانچے کو تیار  کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں سنجان اعغر  علاقے کے پراپیگنڈا دفتر  کی جانب سے قائم کردہ  اور چین  کے علاقے کے  بارے میں پراپیگنڈا  کو پھیلانے والی ویب سائٹ   تیان شان نیٹ ترکی، روسی اور اعغر زبانوں میں اپنی  خبریں  نشر کرتی ہے۔

ترک تعاون و رابطہ  ایجنسی ۔ تیکا  کے قزاقستان، ترکمانستان، کرغزستان اور ازبیکستان میں وسیع پیمانے کے  تعلیمی ، ہیلتھ،  ٹورزم، جنگلات امور، زراعت اور غلہ بانی منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ اکیس مارچ سن 2009 سے ابتک  اپنی نشریات کو پیش کرنے والا ٹی آرٹی آواز چینل  ترکی  کی خطے میں اہم ترین سرمایہ کاریوں میں سے ایک ہے۔ ٹی آرٹی کی ایکسٹرنل سروس  کی آذربائیجانی ترکی، قزاق، کرغز، ترکمانی، ازبیک، تاتاری  اور اعغر زبانوں میں ریڈیو و ویب نشریات  اس شعبے میں   ایک اہم عوامی ڈپلومیسی کی خدمات فراہم کر رہی ہیں۔

کرغزستان میں پندرہ، قزاقستان میں 4، ازبیکستان  میں 2 اور تاجکستان  میں ایک کنفیوشی مراکز قائم کرنے والا چین علاوہ ازیں چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کی مقامی زبانوں میں نشریات کی بدولت  علاقے کو اپنے زیر اثر لینے کا ہدف رکھتا ہے۔

عوامی جمہوریہ چین اور جمہوریہ ترکی   کے تجربات کا جائزہ لینے سے  چین کے براہ راست سرکاری  عناصر کے ساتھ وسطی ایشیا میں  سرکاری ڈپلومیسی سرگرمیوں پر عمل پیرا ہونے کا مشاہدہ ہوتاہے ،  جبکہ  ترکی اپنے تاریخی  رسم و رواج  کے بل بوتے اپنے ایک منفرد ماڈل کو تشکیل دینے میں  کوشاں ہے۔



متعللقہ خبریں