عالمی نقطہ نظر34

امریکہ تو ہے کہاں ؟

عالمی نقطہ نظر34

عالمی نقطہ نظر34

 

Küresel Perspektif  / 34

                ABD Nereye

Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL

 

 ترکی میں  دہشتگردوں کی معاونت کے الزام میں نظر بند امریکی پادری   برونسن  کے حوالے سے امریکہ اور ترکی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی  کا احوال        بحث  کا باعث بنی ہوئی ہے  جس میں  دن بدن مزید   تلخی پیدا ہو رہی ہے ۔

امریکی نقطہ  نگاہ سے ان تعلقات میں خرابی کی وجہ   دراصل  روس سے ایس 400 میزائل کی خریداری  اور  القدس کو اسرائیلی دارالحکومت قبول کرنے کے امریکی فیصلےکی مخالفت    ہے  مگر ترکی   اس کی نفی کرتا ہے  جس  کے  مطابق ،  یہ مسئلہ امریکہ کی طرف سے پی کےکے   کو ایک آزاد ریاست کے قیام     میں تعاون  دینے  کا سبب ہے   جسے  ترکی  دہشتگرد تنظیم کے طور پر قبول کرتا ہے ۔    فیتو تنظیم کا سرغنہ امریکہ میں ایک پر تعیش محل میں  درجنوں محافظوں  کی نگرانی میں  زندگی گزار رہا ہے  جس کی گرفتاری کےلیے ترکی نے  واشنگٹن کو  ہزاروں دلائل پیش کیے  مگر امریکہ بہادر  اس معاملے پر چوں تک نہیں کر رہا ۔

 قابل فہم اسباب کے باوجود  اس بحران    کو  امریکہ ۔ترک تعلقات سے جوڑنا   خام خیالی ہوگی  کیونکہ   امریکہ اس وقت ترکی  کے علاوہ دیگر ممالک سے بھی    اپنے تعلقات خراب کیے بیٹھا ہے جن میں روس ، چین   اور یورپی ممالک   قابل ذکر ہیں حتی  میکسیکو اور کینیڈا     کے ساتھ بھی امریکی تعلقات کچھ اچھے نہیں ہیں۔ ایران اور شمالی کوریا  سے تعلقات  تو ویسے ہی ڈھکی چھپی بات نہیں  ۔

 ان بحرانوں   کی اصل وجہ ٹرمپ  انتظامیہ کو ٹہرانا  صحیح نہیں  کیونکہ  اس کے پس پردہ اسباب    میں  دیگر  عوامل بھی شامل ہیں مگر  ٹرمپ انتظامیہ کا ان میں ہاتھ  زیادہ ہے  جس نے  اس وقت ساری دنیا کو تگنی کا ناچ کروانے کا ذمہ لے رکھا ہے ۔

امریکہ کی رونما ان بحرانوں کو ہوا دینے  کی  اہم وجہ    عالمی مقابلے  بازی  میں امریکی کمپنیوں     کی ناقص کارکردگی ہے  ۔یہ ایک حقیقت ہے اس وقت امریکی اور یورپی کمپنیوں کے بجائے  چینی،بھارتی ،برازیلی اور ترک کمپنیاں   ترقی میں نمایاں ہیں ۔ ماضی میں امریکہ شدید ا معاشی بحرانوں کا سامنا کرتا رہا جس  کے  بر عکس متعلقہ  ممالک نے ترقی کی منازل طے کیں جنہیں امریکہ کی طرف سے ہضم نہیں کیا گیا ۔

 بالخصوص   آزاد منڈیوں میں دیگر ممالک کے مقابلے میں  امریکی  کارکردگی انتہائی ناقص  رہی ہے  جس سے اس کا پارہ ساتویں آسمان  پر پہنچ رہا ہے  معض ماہرین کے خیال میں امریکہ دنیا پر اپنی بالا دستی کھو تا جار ہا ہے    کیونکہ اس  کے   متعارف کردہ نظام   کے تحت  صورت حال ہی ہے  امیر    کی دولت  میں فراوانی اور غریب کی زندگی پسماندگی کی دلدل میں مزید دھنستی   جا رہی ہے ۔

ٹرمپ انتظامیہ    امریکہ کی  عالمی  سطح پر   برتری    کھونے  سے واقف ہے اسی وجہ سے  آزاد منڈیوں  پر مشتمل  معیشت کے بر خلاف  اپنی من مانیوں میں مصروف ہے   جن میں ٹیکس میں بلا وجہ اضافہ ،  کمپنیوں کی ناقص صورت حال اور  سرمائے کا بیرونی ممالک  منتقل ہونا  اور اس کی غلط  پالیسیاں شامل  ہیں۔ امریکہ کی ان پالیسیوں کی بدولت عالمی معیشت   میں کساد بازاری  ہے   جو کہ امریکہ سمیت  دیگر ممالک    کو نقصان پہنچا رہی ہے  جن میں عام صارفین   زیادہ متاثر   ہیں کیونکہ بڑھتےہوئے محصولات  کا براہ راست اثر   ان پر ہی   پڑتا ہے۔

 دوسرا سبب ، امریکی مذہبی گروہوں ،جماعتوں  اور  تنظیموں کا امریکی ایوانوں  پر بڑھتا اثر و رسوخ ہے   جن کی وجہ سے  پادری برونسن کی رہائی کا مسئلہ  اور القدس کو اسرائیل کا صدر مقام تسلیم کروانا    سب کے سامنے ہے ۔

 ایک اور وجہ  امریکی ایوانوں میں  سنگین   انتظامی  بحران بھی  ہے ۔دنیا میں رونما ہونے والے بیشتر واقعات میں امریکی پینٹاگون   اور وائٹ ہاوس  کےدرمیان ایک چپقلش رہتی ہے      اور امریکی کردار پر  وہاں کے عوام بھی نکتہ چینی   کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

موجودہ  امریکی  پالسیوں کے حوالے سے  ایسا لگتا ہے کہ وہ دنیا کو ایک معاشی کوُزے میں بند کرنے کا خواہاں  ہے       جس پر آزاد منڈی کی  معیشت تنگ   اور محصولات کی دیواریں   اونچی کر دی گئی ہوں ۔ اگر یہ صورت حال   قائم رہی تو  پوری دنیا  نقصان اٹھائے گی ۔

 چین کے خلاف امریکی پالیسیاں  وقتی طور پر قابل فہم ضرور ہیں مگر   عالمی ادارہ تجارت، عالمی بینک  اور دیگر  بین الاقومی اداروں کا یہ فرض ہے کہ وہ ان  پالیسیوں کے خلاف واشنگٹن انتظامیہ کو   باز رکھیں    اور  مشترکہ موقف اپنائیں    کیونکہ  امریکی من مانی  کا خمیازہ دنیا اٹھائے یہ گوارہ نہیں ہوگا۔

 جنگ عظیم دوئم  کے دوران  ناز ی ازم اور فاشزم  جیسے  نظریات کا سر اٹھانا  مشرق وسطی میں دینی   بنیاد پرستوں  کی ہمت افزائی  کا سبب بنا   لہذا یہ کہنا درست ہوگا کہ    صیحونیت،عیسائیت  یا  ایوانگلیزم  کا امریکی ایوانوں پر    دباو   خدمتِ انسانیت سے دور ہوگا۔امریکہ  میں بسا روشن خیال  طبقہ  اس  خطرے سے ضرور واقف ہوگا  جو کہ انسانی اقدار کو  فوقیت دیتے ہیں۔

  سیاسی ،اقتصادی اور ثقافتی بحران کا سامنا  ہر ملک کو  وقتاً فوقتاً  رہتا ہے  مگر    ان سے نجات کا ذریعہ   تلاش کرنا  ہی  درحقیقت اعلی قابلیت    ہے  مگر ٹرمپ کو دیکھ کر ایسا نہیں لگتا    حتی یورپ کا بھی یہی حال ہے جہاں  کا انتظام   غیر نظریاتی   لیڈروں کے ہاتھ میں ہے ۔

بہر حال ،امید پر دنیا قائم ہے  لیکن آج کی دنیا   سیاسی لحاظ سے کسی روشن مستقبل     کی دعوے دار نظر نہیں آتی ۔

یہ جائزہ آپ کی خدمت میں  انقرہ کی یلدرم بایزید یونیورسٹی کے  شعبہ سیاسی  علوم کے پروفیسر ڈاکٹر  قدرت بلبل کے قلم سے پیش کیا گیا ۔



متعللقہ خبریں