حالات کے آئینے میں ۔ 33

حالات کے آئینے میں ۔ 33

حالات کے آئینے میں ۔ 33

پروگرام " حالات کے آئینے میں " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ جوہری پروگرام کی وجہ سے امریکہ کی طرف سے احمدی نژاد کے دور میں ایران پر لگائی گئی پابندیوں  نے ایرانی اقتصادیات کو بہت نقصان پہنچایا۔ سال 2013 میں حسن روحانی صدر منتخب ہوئے جو ایک معتدل اور ریفارمسٹ کی حیثیت سے  عوام کے لئے امید کی کرن بنے۔ روحانی کے دور میں P5+1  ممالک  کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں ایران کے اپنی جوہری کاروائیوں کو محدود کرنے اور اسے مانیٹرنگ کے لئے کھولنے کے بدلے میں ایران پر عائد پابندیوں میں تخفیف کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے سامنے طے پانے والا یہ سمجھوتہ ایرانی عوام اور ایرانی اقتصادیات  کے لئے ایک امید بنا۔ اس صورتحال سے ایرانی اقتصادیات میں ایک مختصر مدت کے لئے  ترقی ہوئی ہو تو بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کا صدر منتخب ہونے کے بعد ایران کے ساتھ دوبارہ سے سخت مباحث کا آغاز ہو گیا۔ امریکہ نے 8 مئی 2018 میں یک طرفہ طور پر اس سمجھوتے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔

سیاست، اقتصادیات اور معاشرتی تحقیقات کے وقف کے مصنف اور محقق جان آجُون کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

امریکہ کے ایران کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے سے پیچھے ہٹنے  کا ایرانی اقتصادیات پر منفی اثر پڑا۔ اگرچہ ایرانی حکومت نے ڈالر کو سرکاری طور پر 42 ہزار ریال کی سطح پر مستحکم کر رکھا ہے لیکن پھر بھی آزاد منڈی میں ڈالر کی قدر میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔ ماہِ جنوری سے   ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر میں گراوٹ کا آغاز ہوا  اور اس وقت آزاد منڈی میں ایرانی ریال ڈالر کے مقابلے میں  پچاس فیصد کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔ جنوری 2018 میں 44 ہزار ریال کا ایک امریکی ڈالر حالیہ دنوں میں ایک لاکھ 10 ہزار ریال  سے بھی آگے بڑھ چکا ہے۔

امریکہ کی طرف سے ایران پر پابندیوں کے دوبارہ اطلاق سے پہلے ہی ایرانی اقتصادیات  کا اس قدر   بھونچالوں کی زد میں آنا پابندیوں کے اطلاق کے بعد ایران کو پیش آنے والے حالات کی آئینہ داری کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف پابندیوں کو نافذ العمل کرنے  کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ کا مقصد ایران میں انتظامیہ کو تبدیل کرنے سے زیادہ  مشرق وسطی میں ایران کی پھیلاو والی پالیسیوں کا سدباب کرنا اور علاقے میں ایران کے اثر و نفوذ کو محدود کرنا ہے۔ نتیجتاً خلیجی ممالک اور اسرائیل علاقے میں ایرانی کی پھیلاو والی پالیسیوں سے بے اطمینان ہونے اور امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کو محدود کرنے  کی خواہش  کو چھُپا نہیں رہے۔ ایران پر پابندیاں لگا کر علاقے میں اس کے نمائندہ عناصر کے لئے فنڈز  اور مالی وسائل کو محدود کئے جانے کا مقصد علاقے میں ایران کو محدود کرنا ہے۔

امریکہ کی ایران کے خلاف پابندیوں   کا مقصد، ایران کے لئے امریکی ڈالر، سونے یا دیگر قیمتی معدنیات  کے ساتھ تجارت  کرنے کا راستہ مسدود کرنا ہے۔ علاوہ ازیں پابندیوں کے دائرہ کار میں ایران کے ہاتھ طیاروں اور طیاروں کے اسپئیر پارٹس کی بھی فروخت نہیں کی جائے گی۔ یہ پابندیاں ایران کے آٹو موبیل سیکٹر کو بھی ہدف بنا رہے ہیں۔

امریکہ کی پابندیوں کی دھمکی  کے بعد ایران میں اپنی سرمایہ کاریوں کو روکنے والی کمپنیوں میں ڈائم لر بھی شامل ہے۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب کمپنی ایران میں اپنی سرمایہ کاری کو وسعت دینے اور ایران میں ٹرک سازی  کرنے کا پروگرام بنا رہی تھی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر پابندیوں کے منصوبوں نے کمپنی کو اپنے منصوبوں پر نظر ثانی پر مجبور کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے ٹویٹر پیج سے جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والی کمپنیاں امریکہ کے ساتھ تجارت نہیں کر سکیں گی۔

تاہم ان کے سخت بیانات کے باوجود یورپی یونین کے ممالک ان پابندیوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس نے جاری کردہ بیان میں ایران میں کام کرنے والی یورپی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کا وعدہ کیا۔ ماس نے کہا کہ ہم، ایران کے ساتھ تجارت میں کرنسی کی منتقلی کو ممکن بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں اور ہمیں امریکہ کی  ایران پر لگائی گئی پابندیوں پر افسوس ہے۔ اگرچہ ہیکو ماس نے کہا کہ ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات میں ہمارا مطمع نظر منافع نہیں ہے بلکہ ہم ایرانی عوام کو سوچ رہے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ یورپی یونین ایران کے ساتھ تجارت کر کے بڑے پیمانے پر منافع کا پروگرام رکھتی ہے اور ایران سے پیٹرول اور گیس خرید کر روس پر انحصار کو کم کرنے کی خواہش مند ہے۔ امریکہ کا  دیگر یورپی ممالک کو نظر انداز کر کے ایران کے ساتھ طے کئے گئے سمجھوتے کو ختم کرنا یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان ایک اہم انتشار میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

حالیہ دنوں میں  امریکہ کی طرف سے پابندیوں کے فیصلوں میں اضافہ امریکی خارجہ پالیسی میں ایک تبدیلی کی عکاسی کر رہا ہے۔ صرف ایران ہی نہیں امریکہ ایک طرف  ترکی کو برنسن دعوے کی وجہ سے پابندیوں کی دھمکیاں دے رہا ہے تو دوسری طرف روس پر بھی پابندیاں لگائے ہوئے ہے۔ علاوہ ازیں چین کے خلاف شروع کی گئی کسٹم ڈیوٹیوں  کو بھی اسی حوالے سے دیکھنا چاہیے۔ مسئلہ فلسطین  کے معاملے میں بھی امریکہ، اقوام متحدہ کے پلیٹ فورم سے پوری دنیا کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے ۔ لیکن امریکہ کی پابندیوں کی پالیسی اس کے لئے قلیل المدت مثبت نتائج کا سبب بنے تو بھی طویل المدت حوالے سے امریکہ کی عالمی حیثیت کو نقصان پہنچا تی اور امریکہ کو دنیا میں تنہا کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

 



متعللقہ خبریں