عالمی نقطہ نظر 32

تبلیغ عیسائیت کا پرچار اور قیامت

عالمی نقطہ نظر 32

عالمی نقطہ نظر32

32 Küresel Perspektif 

 Evanjelizm: Tanrıyı Kıyamete, İnsanlığı Felakete Sürüklemek

 

 

Prof. Dr. Kudret BÜLBÜ

حالیہ دنوں میں فیتو تنظیم   کی سرگرمیوں  کے حوالے سے مذہب اور  ریاستی نظام     کے درمیان  تعلق  سیاسی  مباحثے      کا حصہ بنا ہوا ہے ۔ متعدد بار یہ احساس ہوتا ہے کہ اس طرح کی بحث   کا سلسلہ   ترکی جیسے ممالک میں پہ پایا جاتا ہے مگر پادری  برونسن  کی ترکی میں نظر بندی پر جس طرح امریکہ نے واویلا مچایا ہے   اس سے یہ مفروضہ غلط  ثابت ہوتا ہے۔

 15 جولائَی سن 2016  کی ناکام بغاوت  کے رونماہونے تک   ترکی   برونسن نامی اس پادری کے نام سے بھی نا بلد تھا ۔ درحقیقت  امریکی پدر برونسن  کی ترکی میں گرفتاری   کے پس منظر میں   اس کی   دہشتگرد تنظیم پی کےکے ا ور فیتو   سے ہمدردی اور مدد  کارفرما رہی   ہے  جو کہ امریکہ  بہادر کو ناگوار گزر رہا ہے   اور دنیا  کو یہ باور کروارہا ہے کہ امریکہ ریاستی نظام اور دین کے درمیان  تعلق کو بنیاد بنا کر  ترکی کو  سر تسلیم خم کروانے  کی کوشش میں ہے جس کا اندازہ اس کے حالیہ    بیانات سے بھی ہوتا ہے جن سے ظاہر ہے   کہ  وہ  دیگر ممالک  کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو اپنا فرض سمجھتا ہے۔

 کسی بھی ملک کے ریاستی نظام اور مذہب کے درمیان تال میل  قابل تنقید  نہیں ہوتا ۔برعکس اس کے  یہ رابطہ مذہبی  آزادی کے حوالے سے کافی  مثبت  ہو سکتا ہے  ،امریکہ کا قیام  ان یورپی  باشندوں کی ہجرت سے ہوا  جو کہ یورپ میں  مذہب کے نام پر پادریوں  کی  حق تلفیوں  کو برداشت  نہ کرسکے  اور  امریکہ کو مذہبی آزادی کےلیے ایک بہترین ملک تصور کیا ۔

   ریاستی نظام  میں مذہب  کا عمل دخل   تنقید    سے زیادہ  کسی بھی ملک  میں بسے مختلف  نسلی و مذہبی طبقوں کے درمیان ہم آہنگی  اور مساوات  پیدا کرنے میں  مدد گار  بن سکتا ہے  جس کی اعلی مثال  دولت عثمانیہ  کی صورت میں  موجود ہے ۔

 دین اور ریاست کا تعلق  معاشرے میں  یگانگت   کا  سبب  ضرور بن سکتا ہے   جس میں بظاہر کوئی برائی    نہیں ہوتی مگر  اسرائیل کی شکل میں ایک ایسی ریاست    ہے کہ جہاں  مذہب کو ریاست میں مکمل عمل دخل حاصل ہے مگر  وہ  وہاں بسے مسلمانوں ،یہودیوں اور مسیحیوں کے درمیان  اتحاد قائم کرنے میں ناکام  رہی ہے۔

جہاں تک امریکی نژاد     مسیحی مبلغ برونسن  کی ترکی میں نظر بندی  کا سوال ہے تو    اس بارے میں  نائب صدر مائیک پینس نے   اپنے بیان میں    پادری کو اپنا ہم  مذہب قرار دیا ۔یاد رہے کہ امریکی سیاست  اور ہر شعبہ  ہائے زندگی میں مسیحی   مبلغین کا عمل دخل رہا ہے۔اس وقت امریکہ میں 90 ملین مبلغ پائے جاتے ہیں حتی سابق امریکی صدور رونالڈ ریگن اور جارج بش    کو بھی مبلغ مسیحیت  تصور کیا جاتا رہا ہے۔ لہذا   پادری برونسن   کی نظر بندی کا مسئلہ ترکی کے ساتھ نہیں  بلکہ   امریکہ اور مبلغین دین کے درمیان  موجود ہے ۔

  درحقیقت ایوانگلیزم  یعنی  تبلیغ انجیل   کا تعلق آرتھوڈوکس یا کیتھولیک فرقے سے نہیں بلکہ پروٹیسٹنٹ  فرقے سے   رہا ہے  جس  کا آغاز 19 ویں صدی سے ہوا تھا ۔ ایواگلیزم   کا اصل مفہوم  مقدس کتاب کی  ہدایت حاصل کرنا ہے۔ پروٹیسٹنٹ فرقے  کے مطابق    دنیا اپنے انجام تک پہنچے  سے قبل  مسیحیت کا غلبہ طاری کر لے گی جس کے بعد قیامت برپا ہوگی  جس کےلیے   پروٹیسٹنٹ فرقہ اس     عقیدے کو  جلد از جلد انجام تک پہنچانےکے درپے  ہے ۔

 اس کے علاوہ اُن کا یہ بھی ماننا ہے کہ  یہودی  ایک منتخب کردہ قوم ہیں جنہیں ان کی مطلوبہ سر زمین دینے   میں کوئی حرج نہیں   جس کےلیے  مسیحیوں کو  ان سے تعاون کرنا چاہیئے ۔

  اس ہفتے صدائے  ترکی پر" چشم جہاں"  نامی پروگرام   میں مہمان  ڈاکٹر  اوزجان  گُنگور کے مطابق ، تبلیغ مسیحیت  کا اصل مقصد دنیا پر اپنی دھاک بٹھانا ہے  جس کےلیے  7 مختلف مراحل طے کیے گئے ہیں جن کی رو سے  یہودی فلسطینی سر زمین میں آباد ہونگے جو کہ مکمل ہو گیا ہے،دوسر ےمرحلے میں  ایک عظیم صیہونی ریاست کا قیام عمل میں لانا ہے جس میں ترکی کا بھی کچھ علاقہ شامل ہوگا۔امریکہ کا بلا تردد اسرائیل    کا ساتھ دینا  اور  حال ہی  میں  دنیا کی ناراضگی مول لینے کے باوجود "القدس" کو اس کا صدر مقام  قرار دینے  کا  اعلان کرنا   بھی  ایوانگلیزم  کا امریکی سیاست پر حاوی  ہونے کا  ثبوت پیش کرتا ہے۔

 تیسرےمرحلے میں انجیل کی تعلیمات   کا پرچار کرنا ہے  جس کے لیے پادری برونسن تقریباً 10 سال سے ترکی میں  مقیم ہے  حتی  دیگر ممالک میں بھی تبلیغ مسیحیت کےلیے  پادریوں   کا ٹولہ  سرگرم عمل ہے بالخصوص افریقی ممالک میں ان کی کاوشوں سے کافی لوگ   حلقہ بگوش مسیحیت ہو دچکے ہیں۔

 چوتھے مرحلے کی رو سے دنیا میں   آفاتی دور کا عرصہ 7 سال پر محیط ہوگا جبکہ 5 ویں   مرحلے کے تحت  حضرت عیسی دوسری بار دنیا میں وارد ہونگے۔  چھٹے مرحلے کی رو سے  ایوانگلیزم کی قیادت میں  آرماگیدون جنگ برپا ہوگی   جس میں  نیکی اور بدی  کا مقابلہ ہوگا اور باالاخر  نیکی کو جیت ملے گی  ۔7 ویں  اور آخری مرحلے  کے نتیجے میں دنیا پر مسیحیت  غالب آجائے گی  اور قیامت برپا ہوگی ۔

19 ویں صدی  کے دوران  یہودیت ،مسیحیت اور اسلام   کو ادیان الہی قبول کیا جاتا رہا  مگر تھیوڈور ہرلز کی کوششوں سے   راسخ العقیدہ اور نسل پرست  یہودیوں   کا وجود عمل میں آیا  جن کی مخالفت میں  آج کے یہودیوں کی اکثریت بھی شامل ہے ۔  ترکی اور بعض دیگر مسلم ممالک   میں  صیحونیت  سے مشابہہ اسلام لانے کی کوشش کی  جا رہی ہے  بین المذاہب مذاکرات   اس سلسلے میں قابل ذکر ہے  جس کے دوران  اسلام کی آڑ میں   بے سرو پا  باتوں اور  درست تعلیمات     کو مسخ کر کے پیش کیا جا تا رہا ہے۔

 مسیحیت کا جہاں تک تعلق ہے تو اس میں تاریخی اختلافات کی بنا پر   صیحونیت  سے مشابہہ   قوانین   اور عقائد  کا فقدان نظر آتا ہے۔   صیحونی مسیحیت  کے خلاف عیسائیوں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں   جس میں ایک اہم مثال  کیتھولیک پاپائے روم کی طرف سے  القدس کو    اسرائیلی صدر مقام  بنانے کے اعلان کی مخالفت کرنا بھی ہے۔ یہی صورت حال آرتھوڈوکس عیسائیوں کی بھی ہے جنہوں نے بارہا  اسرائیلی مظالم کے خلاف  مسلمانوں کا ساتھ دیا ہے۔

 انسان  کی یہ بساط نہیں کہ وہ خالق کائنات کو قیامت برپا کرنے  پر مجبور کرے لیکن  یہ ضرور ہے کہ  اسی انسان نے  اپنی نسل کی بربادی کا سامان بھی خود پیدا کیا ہے لہذا دور جدید میں یہ ضروری ہے  اگر اس دنیا کو  امن  کا مرکز بنانا ہے  تو اس کے لیے   اعتدال پسند یہودیوں،مسلمانوں اور مسیحیوں کو یکجا  ہو کر   کام کرنا ہوگا۔

  یہ جائزہ آپ کی خدمت میں  انقرہ کی  یلدرم بایزید یونیورسٹی کے شعبہ سیاسی علوم کے پروفیسر ڈاکٹر  قدرت بلبل کے قلم سے پیش کیا گیا ۔

 

 

 

 



متعللقہ خبریں