قدم بہ قدم پاکستان - 32

آئیے! آج آپ کو تبرکات و نوادرات کے عظیم خزانے فقیر خانہ میوزیم لیے چلتے ہیں

قدم بہ قدم پاکستان - 32

قدم بہ قدم پاکستان - 32

آئیے! آج آپ کو تبرکات و نوادرات کے عظیم خزانے فقیر خانہ میوزیم لیے چلتے ہیں۔

فقیر خانہ ایک نجی عجائب گھر ہے جو کئی نسلوں سے فقیر خاندان کے زیرانتظام اندرون لاہور میں قائم ہے۔ اس میں موجود نادر اشیا کے وسیع خزانے کی وجہ سے لاہور عجائب گھر کے بعد اسے دوسرا بڑا عجائب گھر قرار دیا جاتا ہے۔ یہ عجائب گھر بھاٹی دروازہ کے اندر واقع ہے۔ بھائی دروازے سے قدیم لاہور میں داخل ہوں تو کچھ فاصلے پر دائیں جانب ایک بڑی حویلی نظر آتی ہے جسے ’’فقیر خانہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں تیس ہزار سے زائد تبرکات اور نادر اشیاء موجود ہیں۔

فقیر خاندان کے سادات بزرگ اٹھارہویں صدی میں اوچ شریف سے ضلع قصور کی تحصیل چونیاں اور پھر لاہور آ کر آباد ہو گئے۔ اس دور میں انھوں نے بھاٹی دروازے کے باہر ایک مدرسہ قائم کیا جہاں دینی اور دنیاوی تعلیم دی جاتی تھی۔ یہ تکیہ غلام شاہ کے نام سے مشہور تھا۔ فقیر خاندان مہاراجا رنجیب سنگھ کا معالج تھا۔ مہاراجا رنجیت سنگھ کی ایک آنکھ بچپن سے ہی خراب تھی۔ جب دوسری آنکھ بھی خراب ہونے لگی تو اس نے شاہی حکیموں کو علاج کے لیے طلب کیا۔ ان میں حکیم فقیر سید غلام محی الدین بھی شامل تھے۔ انھوں نے رنجیب سنگھ کو بتایا کہ ان کے بیٹے فقیر سید عزیز الدین ان کا علاج کریں گے اور حکیم حاکم رائے اور حکیم بشن داس بھی ہمراہ ہوں گے۔

جب مہاراجا رنجیت سنگھ کا علاج شروع ہوا تو وہ فقیر سید عزیز الدین کی شخصیت سے بہت متاثر ہوا اور اس نے خوش ہو کر بیش بہا اور قیمتی نوادرات انھیں عطا کیے۔ اس کے علاوہ مہاراجا نے ان سے کہا کہ وہ حکومتی معاملات میں بھی ان کی معاونت کر دیا کریں۔ یوں فقیر سید عزیز الدین دیوان مقرر ہوئے اور عدالت میں فرائض انجام دینے لگے۔

ان کے دونوں چھوٹے بھائی فقیر سید امام الدین اور فقیر سید نور الدین بھی ان کے ساتھ تھے۔ یہ بھی دیوان تھے ان کی ذہانت سے متاثر ہو کر مہاراجا نے فقیر سید نور الدین کو لاہور کا گورنر مقرر کر دیا۔ اس دور میں زیادہ نوادرات جمع ہوئے جبکہ تبرکات تو خاندانی طور پر ورثے میں چلے آ رہے تھے۔ فقیر سید نور الدین نے اپنے بیٹے فقیر سید قمر الدین، انھوں نے اپنے بیٹے فقیر سید جلال الدین، انھوں نے اپنے بیٹے فقیر سید مغیث الدین اور انھوں نے اپنے بیٹے فقیر سید سیف الدین کو یہ ورثہ منتقل کیا۔ ان سب نے نہ صرف ان نوادرات کی حفاظت کی بلکہ ان میں اضافہ بھی کیا۔ یوں یہ خاندان تقریباً اڑھائی سو سال سے ان تبرکات اور نوادرات کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔

فقیر خانہ کا ایک حصّہ دربار عالی کہلاتا ہے۔ جہاں 27 تبرکات محفوظ ہیں۔

ان میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا موئے مبارک، چادر، تسبیح، مسواک اور جائے نماز شامل ہیں۔ کچھ تبرکات حضرت علی کرم اللہ وجہٗ، حضرت امام حسنؓ، حضرت امام حسینؓ، حضرت امام زین العابدینؓ، حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراؓ اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ سے منسوب ہیں۔ چار تبرکات ایسے ہیں جو فقیر خاندان کو اپنے مودتِ اعلیٰ حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشتؒ سے ورثے میں ملے تھے۔ دیگر تبرکات وہ ہیں جو فقیر سید نور الدین نے شاہ محمد باز سے تین لاکھ روپے کے عوض حاصل کر کے انھیں ایک خاص عمارت میں محفوظ رکھا اور ان کی دیکھ بھال کے اخراجات کے لیے تقریباً آٹھ لاکھ روپے کی جائیداد وقف کی۔

فقیر خانہ عجائب گھر میں سات ہزار نوادرات موجود ہیں۔ ان کے علاوہ چھے ہزار قدیم سکے ہیں۔ ان کی کل تعداد تیرہ ہزار ہو جاتی ہے۔ فقیر سید نور الدین نے سات ہزار نادر کتب بھی جمع کیں۔ کتابوں کے علاوہ پینٹنگز، ظروف، گندھارات تہذیب کے نوادرات، سکے، لکڑی کی بنی منفرد اشیائ، ہاتھی دانت کی مصنوعات، پیتل اور تانبے کے شاہکار، فرنیچر، اسلامک آرٹ، خطاطی وغیرہ کے بہت سے نادر نمونے یہاں موجود ہیں۔

طویل عرصے تک یہ تبرکات اور نوادرات فقیر خاندان تک ہی محدود رہے لیکن 1901ء میں فقیر خانہ کو عام لوگوں کے لیے کھول دیا گیا۔ آج بھی دنیا کے مختلف خطوں سے لوگ اسے دیکھنے آتے ہیں۔ اب تک کئی لاکھ لوگ اسے دیکھ چکے ہیں۔ 1974 ء میں فقیر سید مغیث الدین نے پانچ سو سے زاید نوادرات لاہور عجائب گھر کو بطور امانت دے دیے تاکہ محفوظ ہیں اور عوام و خواص کی بڑی تعداد ان کو دیکھ سکے۔

اب تک فقیر خاندان نے ان تبرکات اور نوادرات کی حفاظت اور دیکھ بھال بہت احسن طریقے سے کی ہے۔ نادر اشیاء کو موسمی اثرات، دیمک وغیرہ سے محفوظ رکھنا آسان کام نہیں۔ فقیر خاندان ان اشیاء کی اپنے بچوں کی رح دیکھ بھال کرتا ہے اور عوام و خواص کے ملاحظے کے لیے ان کو کھولنا ان کی فراخدلی کا ثبوت ہے۔ مختلف سکالرز، سیاح، محققین، طالب علم، مؤرخ وغیرہ اس کو دیکھنے آتے ہیں۔ یہاں بیان کردہ تبرکات و نوادرات کے علاوہ چار سو سال قبل از مسیح کے سکے، گندھارا آرٹ کے نمونے اور مہاراجا رنجیب سنگھ کی حکومت میں ہونے والی عدالتی کارروائیوں کی تفصیلات اور فیصلے بھی موجود ہیں۔ آپ کو لاہور آنے کا موقع ملے تو اس منفرد میوزیم کو ضرور دیکھیے گا۔

آیندہ ہفتے آپ کو پاکستان کے کسی اور منفرد مقام کی سیر کروائیں گے تب تک اپنے میزبان کو اجازت دیجیے۔ اللہ حافظ۔



متعللقہ خبریں