حالات کے آئینے میں ۔ 31

حالات کے آئینے میں ۔ 31

حالات کے آئینے میں ۔ 31

پروگرام " حالات کے آئینے میں " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ ہیلسنکی میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ  اور روس کے صدر ولادی میر پوتن کی  ملاقات متعدد  پہلووں سے اہمیت کی حامل ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کافی حد تک کشیدہ ہو گئے تھے۔ پوتن۔ٹرمپ ملاقات کے ایجنڈے کے مرکزی موضوعات، جوہری اسلحے کی صفائی ، روس کی امریکہ کے صدارتی انتخابات میں مداخلت، توانائی کی پالیسی  اور شام اور چین  پر مشتمل تھے۔ تاریخی حیثیت سے سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان کشیدگی  میں اضافے کے ادوار میں دونوں ممالک کے درمیان  مذاکرات کے لئے فن لینڈ کو غیر جانبدار علاقے کے طور پر منتخب کیا جاتا تھا۔ لہٰذا ٹرمپ اور پوتن نے اس روایت کے مطابق حالیہ مذاکرات بھی فن لینڈ میں کئے۔ فن لینڈ  کی میزبانی میں منعقدہ یہ مذاکرات صرف دو ملکوں کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے نہایت اہمیت کے حامل تھے۔

ایک بھاری  پریس وفد نے ان مذاکرات کی کوریج کی اور مذاکرات کے بعد دونوں رہنماوں نے پریس بیان جاری کیا۔ پریس بریفنگ کے دوران  ٹرمپ  کے روّیے اور ان کے بیانات  پر امریکی ذرائع ابلاغ اور سرفہرست امریکی سیاست دانوں کی طرف سے شدید تنقید کی گئی۔ روس کے امریکی انتخابات میں مداخلت کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کے جواب میں صدر ٹرمپ نے روس کے صدر پوتن کی موجودگی میں امریکی اداروں پر تنقید کی اور روس کے بیانات  پر زیادہ اعتماد کرنے  کی بات کی جو شدید ردعمل کا سبب بنی۔ بعد ازاں ٹرمپ نے  یہ کہہ کر ہیلسنکی کے بیانات پر نظر ثانی کی اور انہیں دوہرایا کہ  انہوں نے غلطی سے ہیلسنکی اجلاس میں  "نہیں ہوگا" کی جگہ "ہوگا" کا لفظ استعمال کیا ہے  جس کی وجہ سے ان کا بیان  متضاد مفہوم کا حامل بن گیا ہے ۔

اب امریکی رائے عامہ کی تنقید نے ہیلسنکی مذاکرات پر خواہ کیسا ہی سایہ ڈال دیا ہو پھر بھی دونوں ممالک نے بین الاقوامی جیوپولیٹک اہمیت کے حامل موضوعات پر مذاکرات کئے۔ کہا جا سکتا ہے کہ ان میں سے اہم ترین مذاکرات  چین کے موضوع پر تھے۔ امریکہ کا چینی مال پر اقتصادی جنگ کی اہمیت کا حامل اضافی کسٹم ڈیوٹی کا فیصلہ امریکہ اور چین کے درمیان اہم سطح کی کشیدگی کا سبب بنا ہے۔ ہیلسنکی مذاکرات میں چین کے خلاف امریکہ ۔ روس اتحاد کے لئے دونوں طرف سے نیت کو ٹٹولا گیا۔ تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ روس اور امریکہ چین کے خلاف کوئی اتحاد بنانے سے کافی حد تک دور ہیں اور افق پر ایسے کسی اتحاد کے دور دور تک کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ ہیلسنکی اجلاس کا دوسرا اہم موضوع شام تھا۔ امریکہ اور روس نے خاص طور پر جنوبی شام کے حالات پر غور کیا اور اسرائیل کی سلامتی اور جنوبی شام میں ایران کی موجودگی کے موضوع پر بات چیت کی۔ صدر ولادی میر پوتن نے اس موقف کا دفاع کیا  کہ اسرائیل اور شامی انتظامیہ کے درمیان سال 1974 میں طے پانے والے سمجھوتے کی بنیادوں پر کوئی مفاہمت ہو سکتی ہے۔ تاہم امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ شام میں ایران کی موجودگی کو قبول نہیں کریں گے لیکن دوسری طرف انہوں نے اس بارے میں  کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ شام میں ایران کے خلاف کیا قدم اٹھائیں گے۔ دونوں رہنماوں کے درمیان منعقدہ یہ اجلاس نیٹو سربراہی اجلاس کے فوراً بعد ہوا  لہٰذا اس کے اثرات بھی اجلاس پر پڑے۔ مذاکرات میں صدر ٹرمپ نے شمالی رو 2 پروجیکٹ  کی وجہ سے  جرمنی کے روس پر انحصار کرنے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ یہ فیصلہ جرمنی کا اپنا فیصلہ ہے۔ روس کے صدر ولادی میر پوتن نے رائے عامہ کے سامنے امریکہ کے لئے، بین الاقوامی منڈی میں گیس کی قیمتوں کا مشترکہ طور پر تعین کرنے ،کی تجویز کا اعادہ کیا۔ کیوں کہ روسی اقتصادیات گیس کے مصارف پر منحصر ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی منڈی  میں توانائی  کی قیمتیں براہ راست روسی اقتصادیات  کو متاثر کر رہی ہیں۔

ہیلسنکی اجلاس کا ایک اور اہم مسئلہ جوہری اسلحے کا موضوع تھا۔ امریکہ اور روس دنیا کے پورے جوہری اسلحے  کے 90 فیصد کے مالک ہیں۔ مذاکرات میں دونوں ملکوں کے جوہری اسلحے کو کم کرنے کے لئے امریکہ اور روس کے درمیان پہلے سے طے شدہ سمجھوتوں کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اگرچہ ہیلسنکی اجلاس روس اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے موضوعات کو بڑے پیمانے پر حل کرنے میں ناکام رہا ہے لیکن اس کے باوجود دونوں رہنماوں کا ایک غیر جانبدار علاقے میں ملاقات کرنا اور متعدد موضوعات پر تبادلہ خیالات کرنا دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں  خواہ معمولی سی ہی کیوں نہ ہو بہتری کا سبب بنا ہے۔

 



متعللقہ خبریں