ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 31

امریکی اعلی قیادت کے ترکی  پر پابندیاں عائد کرنے پر مبنی دھمکی آمیز بیانات اور ترک رد عمل کا جائزہ

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 31

امریکی  پادری انڈریو برنسن  کے ترکی میں جیل میں قید ہونے کےحوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر مارک پینس کی ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیوں نے بشارۃالانجیل کی تعلیم و تبلیغ  کے حقائق کو ایک بار پھر ایجنڈے میں لایا ہے۔ امریکی انتظامیہ کے اس عقیدہ بشارت و نجات  لابی اور اس لابی کے ترک ۔ امریکی تعلقات پر اثرات کا  جائزہ اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرار ڈاکٹر دوآچ اپیک کے قلم سے۔۔۔

امریکی پادری انڈریو کریگ برنسن  کے خلاف  دہشت گرد تنظیموں فیتو اور PKK کے نام پر جرائم سر زد کرنے اور ان کے لیے جاسوسی کرنے کے الزامات  کے ساتھ سن 2016 سے ابتک  عدالتی کاروائی کی جا رہی ہے۔ یہ پادری ترکی کی ایک جیل میں  بند  تھا جسے  گزشتہ دنوں طبعیت کی  نا سازی کی بنا پر  اس کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ اس پیش رفت کے بعد  امریکہ سے اعلی ترین سطح  سے ترکی  پر پابندیاں عائد کرنے پر مبنی دھمکی آمیز بیانات سامنے آئے۔ اولین طور پر نائب صدر مارک پینس  اور بعد میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  برنسن کو آزاد نہ کرنے کی صورت میں ترکی پر وسیع پیمانے کی پابندیاں عائد  کرنے کے اعلانات کیے۔ برنس  عقیدہ بشارت  و نجات یعنی عیسائی ازم  کے مبلغ ہیں۔ لہذا برنسن  کا کیس سیاسی ہونے کے ساتھ  ساتھ ایک  'تیو ۔پولیٹک'  پس منظر کا بھی حامل  ہے۔ امریکی انتظامیہ بلاک کی شکل میں  ووٹ  حاصل کردہ   عیسائی مبلغوں کی خواہشات  کی روشنی میں اپنی پالیسیوں  کا تعین کر رہی ہے۔

یہ  لوگ مائیک پینس اور وائٹ ہاؤس کے دیگر ارکان کی وساطت سے امریکی انتظامیہ  میں  مؤثر  اثرِ رسوخ کے حامل ہیں۔ امریکہ میں 20 ملین کی تعداد میں ہونے اور ایک سو ملین افراد پر اپنا  اثر قائم کر سکنے کی طاقت کے مالک  مبلغ پادریوں نے گزشتہ برسوں کے دوران  رقبے کو وسعت دیے جانے  والے کسی اسرائیل   کو  دیکھنے   کی خاطر کروڑوں ڈالرخرچ کیے ۔ انہوں نے  روس، ایتھوپیا اور دیگر ملکوں  میں مقیم  لاکھوں کی تعداد  میں یہودیوں کی اسرائیل کو نقل مکانی  کے عمل میں  معاونت بھی فراہم کی اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں  نئی  رہائشی بستیوں کی تعمیر اور یہاں پر مہاجرین کو آباد کرنے کی خاطر کئی ملین ڈالر  کے عطیات  بھی دیے۔

گزشتہ برس دان  ہمل کی  جانب سے واشنگٹن پوسٹ میں اس موضوع سے متعلق  تحریر کافی  معنی خیز ہے۔  ہمل کے مطابق "پینس کا طرز ِ بیان وائٹ ہاؤس کے امریکہ۔ اسرائیل تعلقات  کو بیان کرتے وقت استعمال کردہ تاریخ وار  مسلسل  اسلوب  سے نمایاں  حد تک مختلف ہے۔"  پینس،  صہونیوں کی جانب سے توریت میں کہانت  کے طور پر تصور کردہ معاملات سے ٹرمپ کو متاثر کرنے کی کوشش کرنے والی   واحد شخصیت نہیں، بلکہ ٹرمپ پر  کہیں زیادہ وسیع پیمانے کا اثرِ رسوخ  قائم کرنے والے کٹر  مبلغ موجود ہیں۔

اسرائیل  کے انتہا پسند سیونسٹ  اور  ایوانجلسٹ کے لیے ایک کلیدی معاملہ  اول و دوئم یہودی سرزمین سے تعلق رکھنے والے باقیات کا دین اسلام کے مقدس ترین تیسرے مقام کی حامل مسجدِ اقصیٰ کے نیچے موجود ہونے کا دعوی ہے۔ عیسائی عقیدے کے مبلغ حضرات کا عقیدہ ہے کہ نئی عبادت گاہ کو  اس  قدیم  سر زمین پر قائم کیا جائیگا۔  ان کا   دعوی ہے کہ توریت  کی کہانت وقوع پذیر ہو گی۔  ان کے مطابق عبادت گاہ کی تعمیر مکمل ہوتےہی  حضرت عیسی ٰ علیہ السلام کی واپسی عمل میں آئیگی۔

یہی وجہ ہے کہ  امریکہ کی جانب سے القدس کو اسرائیل  کا دارالحکومت تسلیم کرنے  کے اعلان پر   ان کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ مسیح کو بلاتے ہوئے آرماگیدون  جنگ کی تیاری  کا آغاز کیا جائیگا، اور مسیح کی واپسی ہرچیز کو ٹھیک کر دے گی۔ دجال اور روسیوں سے بھی تعلق ہونے والے وحشیوں کا قتل کرتے ہوئے  دنیا کے  بادشاہ کے طور پر  یہ لوگ ایک صدی تک  کثرت و برکت کے ساتھ خوش باش زندگی  بسر کریں گے۔  ایوانجلسٹ عقیدے کے مطابق ان تمام عوامل سے قبل توریت کی پیشین گوئی  کا پورا ہونا ضروری ہے۔ "مسیح کی  کرہ ارض کو دوبارہ تشریف آوری کے لیے پرانے اسرائیل کو دوبارہ سے یکجا  کیا جانا چاہیے اور اسے دیگرعقائد کے حامل کافروں سے پاک کیا جانا چاہیے۔ "ان   تمام  باتو ں کے فرسودہ  اور   دقیانوسی ہونے اور ان کے وقوع پذیر نہ ہونے کا یقین   ہم  میں پایا جاتا ہے۔ کاش  ایسا ہی ہو۔ کیونکہ  عیسائی کٹر پادریوں نے مائیک  پینس اور دیگر  ارکان کی طاقت  کا استعمال کرتے ہوئے  امریکہ پر   انتہائی سنجیدہ سطح کا اثرِ رسوخ قائم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

نتیجتاً  بذاتِ خود کٹر   نظریات کا حامل عیسائی  نہ  ہونے   والے ٹرمپ  اپنے   ووٹوں کی بنیاد کے طور پر تصور کردہ اس گروپ  کو خوش  رکھنے کی سعی کررہے ہیں۔ تا ہم نائب صدر مائیک پینس  کٹر عیسائی ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے عقیدے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے  برنسن کو وقعت دیتے ہیں۔ جبکہ ٹرمپ  زیادہ تر سیاسی اسباب کے باعث  اس شخص کی رہائی کے  لیے سرگرداں ہیں۔ یہ تمام تر پیش رفت  24 جون کے انتخابات کے بعد برسلز میں  نیٹو اجلاس میں جمہوریہ ترکی کے صدر ایردوان اور ٹرمپ کے درمیان  مخلصانہ اور دوستانہ  ملاقات  سے ہم  آہنگ   نہیں۔ بیک اسٹیج  سے منظر عام پر آنے والی معلومات کی رو سے صدر ٹرمپ در اصل صدر ِ ترکی  ایردوان سے براہ راست تعلقات قائم کرتے ہوئے دونوں ملکوں  کے باہمی مسائل کو حل  کرنے کے خواہاں ہیں۔ تا ہم ان کے ارد گرد  کے قدامت پسند حلقے  ہاتھ میں آنے والے ہر موقع  کو بروئے کار لاتے ہوئے  ٹرمپ اور ایردوان کے درمیان  قربت کی راہ میں  روڑے اٹکاتے رہتے ہیں۔

دوسری جانب برنسن کے معاملے،  امریکہ اور ترکی کے درمیان  کئی ایک  شعبوں میں حالیہ برسوں میں تیزی پکڑنے والے "پوشیدہ بحران"   واضح   ہونے لگے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان  پہلے سے ہی موجود  عدم اعتماد کی  فضا میں میں مزید تیزی  ممکن   ہے۔   اس مرحلے پر قابل توجہ ایک دوسری تفصیل   اس معاملے پر ٹرمپ  کے اعلانات   کا جناب ایردوان کے برکس اجلاس کے لیے دورہ افریقہ  کے دوران   روسی اور چینی صدور سےملاقات سے قبل منظر عام پر آنا ہے۔ علاوہ ازیں وزیر خزانہ بیرات البائراک  کے چینی فنانس اداروں سے وصول کیے جانے کا اعلان  کردہ 3٫6 ارب ڈالر کے قرضے  کے پیکیج    کے متعلق بیانات کو  بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

موجودہ حالات میں ترکی اور امریکہ کے موجودہ مسائل کے حل کے لیے  نئے   سلسلوں کا آغاز ایک مشکل کام نہیں۔ چونکہ  یہ  چیز پہلی بار رونما نہیں ہوئی۔  لیکن ٹرمپ کے دھمکی آمیز لہجے کو جاری رکھنے کی  صورت میں ترکی میں 4 جولائی سن 2003 کے  سلیمانیہ واقع  سے ابتک بڑھنے والے امریکہ مخالف  نظریے  اور جذبات میں مزید مضبوطی آئیگی۔ ماہ نومبر کے انتخابات  تک   ٹرمپ انتظامیہ کو  اپنے  سر پڑے   کٹر عیسائی پادریوں کے بوجھ اور دباؤ کو کنٹرول میں لینے کی ضرورت ہے۔ وگرنہ امریکہ  خطے کے  بڑے ترین اتحادی کو کھونے کے خطرات سے دو چار  ہو سکتا  ہے۔



متعللقہ خبریں