حالات کے آئینے میں ۔ 30

حالات کے آئینے میں ۔ 30

حالات کے آئینے میں ۔ 30

پروگرام " حالات کے آئینے میں " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ نیشنل سوشلسٹ انڈر گراونڈ دہشتگرد تنظیم NSU  کا مقدمہ 5 سالہ عدالتی کاروائی کے بعد ختم ہونے کے باوجود دعوے کے بارے میں شکوک و شبہات اور غیر حتمی کیفیت جاری ہے۔ اگرچہ جرمن حکومت  نے دعوی کیا ہے کہ  NSU دعویٰ معاشرے کے لئے باعث عبرت ہو گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ حالیہ دور میں جرمن حکومت میں اور معاشرے میں نسلیت پرستی اور اسلام  فوبیا میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔

جرمنی  میں 8 ترکوں سمیت 10 افراد کو قتل کرنے، بینک ڈکیتیوں اور بم حملوں کے الزام کے ساتھ عدالتی کاروائی کا سامنا کرنے والی نیشنل سوشلسٹ انڈر گراونڈ دہشت گرد تنظیم NSU کا مقدمہ انجام کے قریب پہنچ گیا ہے۔ میونخ  ہائی کورٹ میں 5 سال سے زائد عرصے سے جاری   دعوے کی مرکزی ملزمہ  بییاٹا چیپے  کے ساتھ ساتھ تنظیم کے ساتھ معاونت کرنے والے 4 ملزمان  پر عدالتی کاروائی کی گئی۔ بییاٹا چیپے  کو عمر قید کی سزا سنائی گئی اور دیگر 4 ملزمان کو مختلف  مدتوں کے لئے قید کی سزائیں سنائی گئیں۔

سیاست، اقتصادیات اور معاشرتی تحقیقات کے وقف  SETA کے محقق اور مصنف جان آجُون  کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

اٹارنی دفتر اور جرمن سکیورٹی  یونٹوں کے مطابق NSU تین افراد پر مشتمل دہشت گرد تنظیم ہے۔ بییاٹا چیپے کے ساتھ تنظیم میں شامل  دیگر 2 اراکین اووے بونہارڈ اور اووے منڈلس  کا 4 نومبر 2011 کو ایک بینک لوٹنے کے بعد ایک کاروان میں چھپنا ،یہاں سے مردہ شکل میں برآمد ہونا  اور ان کے  خودکشی کرنے کا دعویٰ کیا جانامتعدد شبہات کا سبب بنا۔ علاوہ ازیں NSU دعوے کی مرکزی ملزمہ بییاٹا چیپے کا اس گھر کو نذرِ آتش کرنا کہ جس میں  NSU کے اراکین کا قیام    تھا ،  اس سے چند دن  بعد پولیس کو گرفتاری پیش کرنا  اور NSU کا تحفظ آئین  کمیٹی  کے ساتھ منسلک ہونا مقدمے کے بعض خفیہ پہلووں  کے منظر عام پر نہ لائے جانے کے بارے میں شبہات  میں اضافے کا سبب بنا۔  خاص طور پر جرمن داخلہ  خفیہ یونٹ تحفظ آئین کمیٹی  کے NSU سے متعلق 130 فائلوں کو ختم کرنے سے NSU کے پس پردہ حقائق ہمیشہ کے لئے اسرار کے پردوں میں چھپ گئے۔ نتیجتاً  جائنٹ اٹارنی   NSU دہشت گرد تنظیم کے 3 افراد  پر مشتمل ہونے پر یقین نہیں رکھتا۔

NSU مقدمے  کے ختم ہونے کے باوجود اس نزاعی سوال کا جواب نہیں مل سکا کہ سکیورٹی یونٹیں اور خاص طور پر تحفظ آئین کمیٹی  اصل میں NSU کے بارے میں کیا جانتی ہے۔

جرمن سکیورٹی یونٹوں نے سب سے پہلے NSU دہشت گرد تنظیم کی طرف سے کی گئی قتل کی وارداتوں کے پیچھے  مقتولین کے کنبوں کا ہاتھ ہونے کا شبہ ظاہر کیا اور قتل کی وارداتوں کا نسلیت پرستی کا نتیجہ ہونے   کے احتمال کی تردید کی۔ جرمن ذرائع ابلاغ نے NSU دہشتگرد تنظیم کے منظر عام پر آنے سے قبل قتل کی وارداتوں کو "ڈونر قتل  وارداتوں" کا نام دیا۔ جرمن سکیورٹی یونٹوں  کے تمام خفیہ معلومات  کو نظر انداز کرنے اور قتل کی وارداتوں کے پیچھے  نسلیت پرست دہشت گرد  تنظیم کے ہاتھ  کے احتمال کو رد کرنے کی وجہ سے NSU نے ایک طویل عرصے تک قتل  کی وارداتوں کو جاری رکھا اور تقریباً  10 انسان اپنی جانوں سے محروم ہو گئے۔

NSU دعوے کے اختتام  کے ساتھ ہی جرمنی  میں نسلیت پرستی اور اسلام فوبیا میں اضافے کا سب سے بڑا اظہار یہ ہے کہ پبلک سروے کے مطابق انتہائی دائیں بازو کی پارٹی  AFD جرمن سیاست میں   سب سے زیادہ حمایت حاصل کرنے والی دوسری سب سے بڑی پارٹی کی حیثیت اختیار کر گئی۔ AFD کے دوسری بڑی سیاسی پارٹی بننے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ نسلیت پرستی اور اسلام فوبیا جرمن سیاست  اور جرمن معاشرے کے اندر مستحکم شکل اختیار کر گئی ہے۔ ایک طویل عرصے سے معاشرے میں موجود  غیر ملکیوں کے خلاف دشمنی  اور اسلام مخالفت اب AFD کی صورت میں  ایک واضح آواز کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

لیکن صرف AFD کا ہی نہیں بلکہ حکومتی ساجھے دار کرسچئین سوشلسٹوں کا بھی نسلیت پرستی اور اسلام فوبیا کو ہوا دینے والے بیانات جاری کرنا  اور اس کا عملی اظہار بھی کرنا جرمنی کے تبدیل ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی دفعہ جرمن معاشرے میں نسلیت پرستی اور  کسی دین کے خلاف دشمنی میں اس قدر اضافہ ہوا ہے۔

جرمن معاشرے کی تبدیلی کو ثابت کرنے والا ایک اور اہم مظہر جرمنی کی قومی فٹبال ٹیم ہے۔ سال 2014 میں عالمی چیمپئن بننے والی جرمن قومی ٹیم کو ایک طویل عرصے تک باہمی اتحاد اور کثیر الثقافتی زندگی کی کامیابی  کے نمونے کے طور پر دکھایا جاتا رہا ہے۔ مسعود اوزیل، الک آئے گیون دوعان، سامع خدیرا، لوکاس  پوڈولسکی اور جیروم  بوٹنگ جیسے مہاجر کنبوں سے آنے والے  متعدد کھلاڑی جرمنی کے لئے کھیل رہے ہیں۔ لیکن جرمنی کی قومی ٹیم نے بھی نسلیت پرستی سے اپنا حصہ وصول کر لیا ہے۔ پہلا سب سے بڑا اسکینڈل AFD کے چئیر مین الیگزینڈر گاولینڈ کے اس بیان سے پیدا ہوا کہ جس  میں انہوں نے کہا ہے کہ قوم نہیں چاہتی کہ  بوٹنگ  ان کا ہمسایہ ہو۔ دوسرا بڑا سکینڈل ترک الاصل کھلاڑیوں مسعود اوزیل اور الک آئے گیون دوعان  کے برطانیہ میں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان کے ساتھ تصویر اتروانے سے پیدا ہوا۔ نتیجتاً روس میں کھیلے گے    ورلڈ کپ میں جرمن ٹیم کے گروپوں میں بٹ جانے کا ذمہ دار مسعود اوزیل  کے صدر ایردوان کے ساتھ تصویر اتروانے کو ٹھہرایا گیا۔

 



متعللقہ خبریں