ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 30

سرائیل پریس میں شائع ہونے والی خبروں میں  دونوں سربراہان کے ایران کے شام میں  اثر رسوخ میں کمی  لانے کے بدلے میں امریکہ کے شام  سے انخلا ء کرنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 30

 ہیلنسکی میں سر انجام پانے والے ٹرمپ۔ پوتن  سربراہی اجلاس  نے دونوں ملکوں سمیت عالمی رائے عامہ میں وسیع پیمانے کی بحث چھیڑی ہے۔ ٹرمپ۔ پوتن  ملاقات اور اس کے ترک خارجہ پالیسی پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے جائزہ اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات  کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک  کے قلم سے۔۔۔۔

16 جولائی سن 2018 کو عالمی رائے عامہ  نے ایک ملاقات کا مشاہدہ کیا۔ لیبرل عالمی  نظام کے بانی اور لیڈر ملک  کی حیثیت رکھنے والے متحدہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس نظام کے خلاسب  حالیہ برسوں  میں سب سے زیادہ  سرکوششیں کرنے والے روسی رہنما پوتن  فنش دارالحکومت ہیلسنکی میں  یکجا ہوئے۔

ٹرمپ ۔ پوتن ملاقات  ٹرمپ   کی مغربی  اتحادیوں کےساتھ  تکرار اور ان  کے بر خلاف مؤقف کے بعد  سر انجام پائی ہے۔ یہ بات عیاں ہے کہ اس تازہ پیش رفت نے مغربی بلاک  میں سنگین سطح کی دراڑیں پیدا کی ہیں۔ ان میں سے   سب سے زیادہ توجہ طلب کچھ یوں ہے:امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے درمیان  دوریاں، ٹرمپ کے  اپنے حریف ممالک روس، چین اور شمالی کوریا کی طرح کے ممالک کے ساتھ تعلقات   کومعمول پر لاتے ہوئے انہیں فروغ دینے  کے دور میں  آئی  ہیں۔ اس پیش رفت کی بنا پر اسوقت  یورپ میں امریکی  لیڈرشپ کی صلاحیت و اثر ِ رسوخ کے معاملے   پر بحث  چھڑ ی ہوئی ہے۔

ہیلسنکی سربراہی اجلاس کے بعد ٹرمپ نے  امریکہ کے 2016 کے صدارتی انتخابات میں روس  کی مداخلت ہونے کے  دعووں کے حوالے سے ایک اعلان جاری کیا۔ ٹرمپ کی جانب سے امریکی خفیہ سروس کی رپورٹوں کے بجائے  پوتن کے اس معاملے میں بیانات  پر  زیادہ اعتبار کرنے  کے اعلانات،  امریکہ میں   وسیع پیمانے کے رد عمل کا موجب بنے ہیں۔امریکی  عوام کی ایک بڑی اکثریت نے ٹرمپ کے خلاف آگ اُگلی ، جس  پر انہیں اپنے الفاظ کو تبدیل کرنا پڑا۔ تا ہم  بعد کے اعلانات   پر عوام نے کچھ زیادہ یقین نہ کیا ، لہذا شکوک و شبہات اور خدشات  کو دور نہیں کیا جا سکا۔

مذکورہ سربراہی اجلاس کی دو  گھنٹوں پر محیط خفیہ  نشست میں کیا کچھ زیر بحث آنے، کس قسم کی سودا بازی ہونے اور اس کے نتائج کے حوالے سے معلومات  قطعی نہیں ہیں۔ تا ہم اتنا ضرور ہے کہ دونوں سربراہان نے اس ملاقات کے مثبت گزرنے کا اظہار کیا۔اجلاس کے اختتام پر دونوں  سربراہان کی  پریس کانفرس میں شام کے معاملے پر دیے گئے بیانات بعض معاملات میں اتفاق رائے قائم ہونے کا مظاہرہ  کرتے ہیں۔انسانی امداد کے لیے  تعاون  ان  معاملات میں سے ایک ہے۔ ایک دوسرا معاملہ اسرائیل ۔ شام  سرحدوں پر غیر جانبدار پٹی کا قیام اور ایران کی حزب اللہ قوتوں  کو اس سے دوررکھنا ہے۔ کیونکہ پوتن نے اپنے   اعلان میں  اسرائیل کے  سرحدی  تحفظ  کو اہمیت  دینے کا اظہار کیا ہے۔ ترکی کا براہِ راست  تعلق ہونے والے فریق کےساتھ، شمالی  کوریا کی حیثیت ، PKK-YPG کے مستقبل اور سرحدی تحفظ کے معاملات  میں کن کن موضوعات پر بات چیت ہونے  اور اس معاملے میں کسی مشترکہ مفاہمت کے قیام کے حوالے سے کوئی سرکاری اعلان جاری نہیں کیا گیا۔

ہیلنسکی سربراہی اجلاس ترکی  کے    لیے براہ راست دلچسپی   کا حامل نہیں دکھائی دیتا  تو بھی سیاسی، عسکری اور اقتصادی نتائج   کے اعتبار سے  ترکی کو متاثر کرے گا۔ ترکی کو متاثر کرنے والے اصل معاملات ٹرمپ اور پوتن  کے شام  اور  ایران کے معاملے پر اقدامات، اس معاملے میں باہمی مصالحت قائم ہونے یا نہ ہونے اور اگر کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو  اس  میں  شامل موضوعات  ہوں گے۔ اسرائیل پریس میں شائع ہونے والی خبروں میں  دونوں سربراہان کے ایران کے شام میں  اثر رسوخ میں کمی  لانے کے بدلے میں امریکہ کے شام  سے انخلا ء کرنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ انہی خبروں کے مطابق ایران   کے جوہری پروگرام کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان کوئی سمجھوتہ طے نہیں پایا اور دونوں  کی پوزیشن  پہلے کی سطح پر برقرار ہے۔ امریکہ  سن 2015 میں طے پانے والے ایران جوہری معاہدے کو ناکافی قرار دیتا ہے۔ روس  بھی  یورپی یونین کے رکن ممالک کی طرح اس متن اور عمل درآمد سے مطمئن ہے۔ کیا  یہ صورتحال  روس کے ایران کے خلاف کسی مداخلت میں عملی طور پر ویٹو  کرنے کا  مفہوم رکھتی ہے؟  فی الوقت  یہ معاملہ غیر یقینی ہے۔

یہ کہنا ممکن ہے کہ ٹرمپ اور پوتن ملاقات   نے روس کے شام کے حوالے سے مرکزی  اداکار ہونے کی توثیق کی ہے۔ تا ہم میں سمجھتا ہوں کہ  دونوں سربراہان نے  فی الحال شام سے متعلق ، جیسا کہ دعوے کیے جا رہے ہیں،  وسیع پیمانے پر سودا بازی نہیں کی۔  جی ہاں پوتن نے اسرائیل کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ایران کو شام میں محدود کرنے کا اشارہ ضرور دیا ہے۔ مگر یہ چیز  ایران کو مکمل طور پر شام سے  دور رکھنے  کامفہوم نہیں  رکھتی ۔ دوسری جانب ایران اس کھیل میں اپنے کردار کو جاری رکھنے کے زیر مقصد ماسکو کے ساتھ سفارتی سودا بازی کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہیلسنکی سربراہی اجلاس  سے قبل علی ولایتی کی پوتن سے ملاقات   اسی ایجنڈے پر  مبنی تھی۔ اس بات  کو بالائے طاق رکھنا چاہیے کہ امریکہ اور روس نے اگر شام میں باہمی تعاون کو وسعت دینی ہے تو شام میں  ان دونوں ملکوں کے ساتھ بیک وقت تعاون اور کاروائیاں کر سکنے والا واحد اداکار ترکی  ہی ہے۔ لہذا شام میں آئندہ کے سلسلے میں  ترکی کے پیش پیش ہونے کے ایام کا مشاہدہ بھی ممکن ہے۔

ٹرمپ نے  اپنے سرکاری اداروں  کی مخالفت کا خطرہ  سر پر مول لینے    کے ساتھ  پوتن کے ساتھ باہمی تعلقات کو  مزید آگے  بڑھایا ہے۔ امریکی  پس پردہ  عناصر سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ٹرمپ  اسی طریقے سے سرکاری اداروں کی بیوروکریسی سے رجوع کرنے کے بغیر ہی صدر ایردوان سے براہ راست تعلقات قائم کرنے کے متمنی ہیں۔ اس طرح یہ  دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کی از سر نو تشریح کرتے ہوئے  ایک نیا باب شروع کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ  انتظامیہ کے قریبی ماہرین   کا کہنا ہے کہ امریکی صدر  ذہین، واضح نظریات کے مالک اور ضرورت پڑنے پر خطرات سر مول لینے والی شخصیات سے  متاثر  ہوتے ہیں۔ اس بنا پر ٹرمپ، صدر ایردوان  کے ساتھ بھی پوتن کی طرح   باہمی مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔

نیٹو سربراہی اجلاس میں  ایردوان اور ٹرمپ کے درمیان سر انجام پانے والی براہ راست ملاقات پر امریکہ میں یہ تبصرے کیے گئے ہیں کہ"ٹرمپ،  پوتن کی طرح صدر ایردوان سے براہ راست ذاتی تعلقات قائم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں ۔"  اس بات کا احتمال قوی ہے کہ ٹرمپ  یہ سوچ رہے ہیں کہ  "سرکاری اداروں کی جانب سے  تمام تر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوششوں کے باوجود    میں نےپوتن سے قربت قائم کی ہے تو کیوں  نہ ایردوان کے ساتھ بھی قائم   کروں۔ تا ہم پوتن کے معاملے میں سرکاری اداروں کو ایک جانب چھوڑ نے میں کامیاب ہونے والے صدر ٹرمپ  کو ایردوان کے ساتھ بھی اس مؤقف کا مظاہرہ کرنے کی صورت میں امریکہ میں  انہیں سنجیدہ سطح کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔



متعللقہ خبریں