عالمی نقطہ نظر30

مغرب سے تعلقات اور امت مسلمہ

عالمی نقطہ نظر30

عالمی نقطہ نظر 30

Küresel Perspektif  / 30

     Batı’ya “Dair” Nasıl Bir Konumlanma

Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL

دو صدیوں  نے    دنیا  کے بیشتر ممالک مغرب کے زیر اثر  آنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس تبدیلی کی اصل وجہ  مغربی  تہذیب   کا دیگر معاشروں   کو زیر کرنا ہے اور جو  اس یلغار کے سامنے ہار مان جاتےہیں اُنہیں  اس تہذیب کا  لبادہ اوڑھنا پڑ جاتا ہے۔

مغربی  تہذیب    سے مرعوب ہونے میں وہاں کی صورت حال  کا ہاتھ نہیں بلکہ  ان ممالک کی    اپنی تاریخ ،تہذیب و تمدن  اور معاشرتی اقدار و روایات  میں  وقت کے ساتھ عدم مطابقت   اس اہم تبدیلی کا سبب بنتا ہے ۔ ایسے ممالک کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس اندھی مغربی تقلید میں  وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنے تشخص ،معاشرتی روایات   اور  مستقبل کو محفوظ بنائیں ۔

 زندگی کا پہیہ اپنی سبک رفتاری سے چل رہا   ہے ، ایسا کہنا غلط ہوگا کہ دنیا کے بیشتر ممالک  پہلے اپنا قبلہ درست کریں اور پھر یورپ  سے تعلقات بڑھائیں ۔یہ    ممالک   دنیا کےدیگر ملکوں سے اپنے تعلقات کو فروغ  دینے    میں سنجیدہ نظر آتے ہیں کیونکہ ایسا کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔ یہاں یہ سوال بھی  پیدا ہوتا ہے کہ یہ ممالک  اپنی مخصوص روایات   کو برقرار رکھتےہوئے  کیسے  مغرب  اور اس کی تہذیب سے  گھل مل سکتے ہیں۔اسلامی تہذیب   کی جڑیں اس دنیا میں زیادہ پرانی نہیں    جس نے  وقت گزرنے کے ساتھ  اپنے تجربات اور بصیرت و فراست اور مشترکہ معاشروں کی تخلیق  سے  اپنا ایک مقام بنایا ہے ۔  اس اسلامی تہذیب  کی روشنی میں   مسلم معاشرے اس قابل ہیں کہ وہ  اپنے مسائل کا حل خود تلاش کر سکیں۔

 دنیا کے بیشتر ممالک    اب اس سوچ میں ہیں کہ اپنی روایات   پر قائم رہتےہوئے مغرب سے تعلقات کیسے استوارکیے جائیں ۔

 اس سوال کا جواب  کل بھی اہم تھا مگر آج  اس کی ضرورت کہیں  زیادہ ہے ۔  گزشتہ دو عصروں سے   مغربی دنیا کی  تبدیلی  کا اثر پوری دنیا پر پڑ رہا ہے ۔آج صورت حال یہ ہے کہ   اس وقت مغرب میں  کروڑوں ایسے  افراد  مقیم ہیں جن کا تعلقات دیگر ممالک سے ہے اور  جن کے درمیان  اتحاد بین التہذیب  کا  جذبہ  بہتر زندگی کےلیے ضروری ہے۔

 یہ بھی حقیقت ہے کہ مغربی دنیا   میں اپنے  رویے  بالخصوص غیر مغربی اقوام کے  خلاف  سخت گیر  اور نفرت آمیز پالیسیوں  کا بھی دور دورہ ہے  جن کی وجہ سے  وہاں بسے   دیگر انسان  عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ 

مغرب  و جدیدیت مخالف انسان  ہر جگہ پائے  جاتے ہیں ۔

بلا شبہ  مغرب اوراس کی تہذیب کی مخالفت کے کئی پہلو ہمارے سامنے ہیں  مگر یہاں یہ ضروری ہے کہ  اپنی خود اعتمادی  کا محاسبہ کرنے کے بعد  اس تہذیب کے  خلاف جانا  انسان کی لاچارگی ،شکستگی  اور  بے بسی  کے جذبات      کو ہوا دینا  ہے تاکہ ان کے جذبات کی تسکین ہو سکے ۔یہ امر خاص طور سے نوجوانوں میں   دلچسپی    کا محور  ہو سکتا ہے ۔

ایک انسان   اپنی نظریاتی بصیرت کے خلاف اگر کسی کو پرکھے تو یہ اس بات کا   مظہر  ہے کہ وہ  خود کو  مخالف نظریات   کا غلام  بنانا نہیں چاہتا ۔

دوسری جانب    انسان اگر   اپنا  محاسبہ کیے بغیر  دوسروں   کے ساتھ تعاون کی تمام  راہیں  مسدودو کردے  اور مسائل   کے حل میں اپنی من مانی کرے تو یہ   ان مسائل کو مزید پیچیدہ  بنا سکتا ہے۔ آج کی دنیا میں   خفیہ ایجنسیوں  کے درمیان  تعلق  ایسا ہی منظر پیش کر رہا ہے جیسا کہ صدیوں پہلے صلیبیوں   اور دیگر طبقوں کے درمیان ہوتا تھا ۔

 اگر اس مسئلے پر نظر ڈالی جائے   تو معلوم ہوتا ہے کہ   اسے مغرب مخالف  نہیں بلکہ مغرب سے وابستہ مسئلہ قرار دیا جانا  بہتر ہوگا۔ اگر ہم اس کی مخالفت میں وقت ضائع کرتے رہے تو یہ  ہمیں انسانی روش  سے بہکا سکتا ہے حتی ہمیں مغرب کے خلاف دشمنانہ  رویہ اختیار کرنے پر بھی مجبور کر سکتا ہے ۔  اسی وجہ سے ہمیں  اپنے نظریات کا رخ   فطری طور پر اسلامی روایات   ،تاریخی پس منظر اور  ثقافتی اقدار   کے  حساب سے    متعین کرنا ہوگا۔

  یہ بحث   کوئی نئی نہیں   بلکہ  دو عصروں سے جاری ہے  جس پر  مزید غور کرنے کا سلسلہ  مزید آگے بڑھے گا۔

 یہ جائزہ آپ کی خدمت میں انقرہ    کی یلدرم بایزید   یونیورسٹی کے شعبہ سیاسی علوم کے پروفیسر ڈاکٹر   قدرت بلبل کے قلم سے پیش کیا گیا ۔

 

 



متعللقہ خبریں