ترکی کے جدید دفاعی منصوبے - 2

اس منصوبے کے دائرہ کار میں  موجودہ دور تک   اپنی  مقامی ضروریات کو پورا کرنے کے علاوہ   چار عدد  طیارہ شکن جنگی بحری جہاز پاکستان کے لیے تیار کرنے   کا ٹینڈر بھی حاصل کرلیا گیا ہے

ترکی  کے جدید دفاعی منصوبے - 2

ترکی  کے سب سے اہم منصوبوں میں سے   آبدوزوں کو تیار کرنے  اور  جاسوسی کرنے  والے بحری جہازوں پر مشتمل  منصوبہ   ترکی کے مقامی وسائل استعمال کرتے ہوئے   استنبول ڈاک یارڈ میں   تیار کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کے دائرہ کار میں  موجودہ دور تک   اپنی  مقامی ضروریات کو پورا کرنے کے علاوہ   چار عدد  طیارہ شکن جنگی بحری جہاز پاکستان کے لیے تیار کرنے   کا ٹینڈر بھی حاصل کرلیا گیا ہے۔

اس بارے میں   ترک   ڈاکیارڈ انسٹیوِٹ کے ڈرایکٹر   طارقان  زنگین کے جائزے کو  ہم آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔

ترکی  کے سب سے اہم منصوبوں میں سے   آبدوزوں کو تیار کرنے  اور  جاسوسی کرنے  والے بحری جہازوں پر مشتمل  منصوبہ   ترکی کے مقامی وسائل استعمال کرتے ہوئے   استنبول ڈاک یارڈ میں   تیار کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کی راہ میں اکثر و بیشتر ککئی ایک رکاوٹیں بھی کھڑی ہوئی   لیکن اس کے باوجود اس منصوبے پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری ہے۔ اس منصوبے کے بارے میں اس وقت کے وزیر اعظم  رجب طیب ایردوان بھی آگاہ ہیں۔

منصوبے  پر کام کرنے والے  کمانڈروں کو کہتے ہیں کہ"MİLGEM منصوبے کے لیے جو کچھ بھی لازمی ہے اس پر ضرور عمل درآمد کریں، میں آپ کے ساتھ ہوں۔"  ان وعدوں اور تعاون سے  ہم نے  آج چوتھے بحری جہاز کو سمندر میں  اُتارا ہے۔ علاوہ  ازیں پاکستان کو 4 جنگی بحری جہاز فروخت کیے جانے  کا معاہدہ  طے پایا ہے۔ اس منصوبے کے دائرہ کار میں پہلا بحری جہاز ہیبلی ادا 27 ستمبر 2011، دوسرا بحری  جہاز بیوک ادا27 ستمبر 2013  سے ترک بحریہ کے ماتحت  خدمات فراہم کر رہا ہے۔ تیسرا  بحری جہاز  برغاز ادا 18 جون 2016 کو جبکہ چوتھا بحری جہاز 3 جولائی 2017 کو  سمندر  میں اُتارا گیا۔  اس وقت ان کو اسلحہ سے لیس کرنے اور جدت دینے  کا کام جاری ہے۔

توپ بردار بحری جہاز  بلند سطح  کی بقا کے دائرہ عمل میں زیر آب کسی دھماکے کے خلاف مزاحمت کن  باڈی کا مالک  ہے۔ کسی قسم کی لاجسٹک مدد کے بغیر 10 دنوں تک سمندر میں قیام کر سکنے کی صلاحیت کا مالک ہے۔ اس کی ساخت ٹیکنالوجی ترقی  سے  باآسانی  ہم آہنگ کیے جا  سکنے کی خصوصیت کی مالک ہے۔ علاوہ ازیں یہ  دس ٹن  وزنی ہیلی کاپٹروں کے دن ۔ رات   لینڈنگ ۔ ٹیک آف   کرسکنے  کی خصوصیت سے بھی مزین ہے۔

میلگم    کورویٹ   کا شمار   ، بری ،فضائی اور  بحری  خطرات کے خلاف  جدید  صلاحیتوں   کے حامل جہازوں میں ہوتا ہے   جو کہ اسے دنیا کے صف اول کے       بحری ہتھیاروں میں شامل کرتا ہے۔

 میلگیم   جدید اور خصوصی نظام سے لیس ہے  جو کہ  اپنے اہداف کو  فضائی،بحری اور بری  راستے سے باآسانی نشانہ بنانے   کی قابلیت رکھتا ہے   جو کہ    برقی  سہولت  اور  لیزر سسٹم          ایل آئی ایس  اور   آر ایف  لیزر   سے لیس ریڈار  نظام  سے بھی آراستہ ہے۔

SSM اور بحریہ  کمانڈ آفس  کے قومی امکانات سے تیار کردہ قومی بحری جہاز MİLGEM منصوبے کے ساتھ ترکی نے پہلی دفعہ جدید ٹیکنالوجی سے  ہم آہنگ بلند معیار  کے بحری جہاز  کو مقامی صنعت کے تعاون اور قومی امکانات کے ساتھ ڈیزائن اور تیار کیا ہے۔ MİLGEMکو استنبول کے شپ یارڈ میں  سرکاری کام کی جگہ ، سرکاری ملازمین اور فوجی افسران  کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ ترکی کے قومی بحری جہاز کی تیار ی میں ایسی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے کہ اب اس جہاز کی دوسرے ممالک کے ہاتھ فروخت شروع کر دی گئی ہے۔

پاکستان بحریہ کے لئے 4 عدد  طیارہ شکن ، آبدوز شکن بحری جہازوں کی تیاری کے لئے 5 جولائی 2018 کا ٹینڈر ترکی نے حاصل کر لیا ہے۔ یہ ٹینڈر ایک وقت میں  5 بلین ڈالر زر مبادلہ  کے ساتھ ترک دفاعی صنعت  میں اب تک کی سب سے بڑی درآمد کی حیثیت سے تاریخ کا حصہ بن گئی ہے۔ اس ٹینڈر کے ساتھ  مقامی امکانات سے تیار کئے جانے والے چار جنگی بحری جہازوں کی تعمیر کی جائے گی۔ ان طیارہ شکن بحری جہازوں میں سے 2 کو استنبول شپ یارڈ میں اور 2 کو کراچی شپ یارڈ میں تیار کیا جائے گا۔

قومی امکانات سے تیار کئے جانے والے ان طیارہ شکن جہازوں  کی تیاری اور بیرون ملک فروخت سے ملک کو صرف اقتصادیات کے حوالے سے ہی نہیں   بلکہ مختلف حوالوں سے فوائد حاصل ہوں گے۔



متعللقہ خبریں