سلسلہ قبرص پُر امن کاروائی کی اولین ترجیح ڈپلومیسی

سفارتی کوششوں کے ناکام  رہنے پر  ترک مسلح افواج کی 20 جولائی 1974ء کو شروع کردہ کاروائی کے نتیجے میں جزیرے میں امن قائم ہوا

سلسلہ قبرص پُر امن کاروائی  کی   اولین ترجیح ڈپلومیسی

ترکی نے  قبرص پُرامن کاروائی   سے قبل   بین الاقوامی   سمجھوتوں کے دائرہ کار میں ضامن ممالک   اور  جزیرے کے  رہنماوں  کی قیادت میں  سفارتی کوششوں کو اولیت دی تھی۔تصویر میں  ترک مسلح  افواج  کے قبرص پُر امن کاروائی  میں حصہ لینے والے ترک ٹینکوں  میں سے متعدد نظر آرہے ہیں۔

ترکی نے  قبرص کے عوام کو آزادی دلانے  اور ان کو پُر امن طریقے سے زندگی بسر کرنے  کا سامان فراہم کرنے کے لیے 44 سال قبل  قبرص پُر امن کاروائی "  پر  بین الاقوامی   سمجھوتوں کے دائرہ کار میں     ضامن ممالک   اور  جزیرے کے  رہنماوں  کی قیادت میں  سفارتی کوششوں کو اولیت دی تھی۔

سفارتی کوششوں کے ناکام  رہنے پر  ترک مسلح افواج کی 20 جولائی 1974ء کو شروع کردہ کاروائی کے نتیجے میں جزیرے میں امن قائم ہوا تھا۔

کاروائی سے قبل   قبرص کی صورتِ حال

ترکی  اوریونان  کی جانب سے 11 فروری  1959ء میں قبول کردہ  اور برطانیہ اور  قبرص کےدونوں اقوام  کی  جانب سے  منظور کردہ  معائدہ  زیوریخ  اور لندن سمجھوتے   میں دونوں اقوام کو آزادی، مشترکہ اقتدار  اور معاشرتی   نیم خودمختیاری  اور مسئلے کا  دراصل  ترکی، یونان اور برطانیہ کے ضامن ملک  کے اصولوں پر  مبنی تھا۔

جزیرے  کے دو  طبقوں کے بیچ  شراکت داری کی  بنیاد کو اساس بنانے والے  بین الاقوامی معاہدوں کی رو سے سن 1960 میں "جمہوریہ قبرص" معرض ِ وجود میں آیا اور آئین میں جزیرے کے قبرصی  ترک اور یونانی عوام کو سیاسی  مساوی  حقوق و حیثیت دی گئی۔

اس  کے جواب میں  قبرصی یونانی فریق نے قبرصی ترکوں کو سرکاری اداروں سے باہر رکھنے، تنہا چھوڑنے، جزیرے  میں ان کے وجود کا خاتمہ کرنے اور یونان کے  ساتھ الحاق  کی راہ کو ہموار کرنے کی کوششیں صرف کیں۔

جمہوریہ قبرص کے وجود کا  قبرصی یونانیوں کی جانب سے سن 1963 میں یک طرفہ طور پر  طاقت کا استعمال کرتے ہوئے آئین کو کالعدم قرار دینے کے بعد  خاتمہ ہو گیا۔

انوسسز ہدف کو پانے کی خاطر مسلح بننے والے قبرصی یونانیوں نے یونان کے  ہمراہ سن 1974 تک قبرصی ترکوں پر حملوں، دباؤ اور مظالم کو وسعت دیتے ہوئے جاری رکھا۔

کاروائی کو ناگزیر بنانے والا سلسلہ

قبرصی ترکوں  کو سن 1960 میں قائم کردہ شراکت داری  کو سرکاری انتظامیہ سے دور ہٹائے جانے پر قبرصی یونانیوں کے درمیان نظریاتی اختلافات سامنے آنے لگے۔

یونانی جتھے کے کارکنان کے درمیان  نظریاتی  اختلافات،  ترکی کی مداخلت سے ہچکچاہٹ محسوس کرنے والے اور ترکوں کو معاشی طور پر مشکلات سے دو چار کرنے کی کوشش میں ہونے والے قبرصی یونانی لیڈر ماکاریوس اور  سرعت سے کسی نتیجے تک پہنچنے کی تمنا رکھنے والے سابق فوجی جتھے پر مبنی   کارکنان    کو آمنے سامنے لانے کا موجب بنے۔

یونانی فوجی جتھے  کی مدد سے  15 جولائی سن 1947 کو  قبرصِ یونانی گوریلا  تنظیم  کے لیڈر نیکوس سیمپسن  نے جزیرے کا الحاق یونان سے کرنے کے تحت ماکاریوس کے خلاف بغاوت کر دی اور کچھ عرصے  کےلیے اقتدار پر قبضۃ کرلیا جس سے جزیرہ قبرص  کی سالمیت کو نقصان  پہنچا ۔

  ترک حکومت  نے سن 1960 میں  ایک معاہدے  کی  روشنی میں  مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے پر زور دیا  جس کے سلسلے میں  17 تا 18 جولائی سن 1974  کو برطانیہ  اور ترکی کے مابین  لندن مذاکرات ہوئے  جس میں یونان کو بھی دعوت دی گئی تھی  مگر    وہ  غیر حاضر رہا ۔

ترک حکومت کے وزیراعظم بلند ایجویت  اور برطانوی  وزیر خارجہ جیمز کیلیگ ہان   کے درمیان  مذاکرات میں   تجویز پیش کی  گئی کہ   اس معاملے   میں برطانیہ اپنا کردار ادا کر ے۔

 ان مذاکرات کے بعد  برطانیہ کے منفی جواب کے نتیجے میں  ترکی نے   ضامن معاہدے    کے سہارے  جزیرے میں آباد ترکوں  کی  جان ومال کی حفاظت  کےلیے 20 جولائی سن 1974 کو اپنی فوجیں  اتاردیں اور اس طرح سے  جزیرے کا مکمل الحاق یونان کے ساتھ ہونے سے رک گیا  اور ترک قبرصی عوام  کے تحفظ کو یقینی بنایا ۔

 ترک  امن  محاذ  کے نتیجے میں یہ بھی  قابل ذکر بات ہے کہ   یونان میں  فوجی  اقتدار کا خاتمہ ہوتےہوئے  جمہوری نظام  رائج ہو گیا ۔

آپریشن کے دوسرے مرحلے سے پہلے بھی سفارتی کوششیں جاری   رہیں

ترکی  نے 20 جولائی 1974 کو اقوام متحدہ  کی سلامتی کونسل  کے 353 نمبر کے فیصلے  کے ساتھ برطانیہ  اور یونان سے "دوبارہ سے قیام امن  کے لئے مذاکرات  کے آغاز کی"  اپیل کی۔

اس اپیل پر تین ضامن ممالک نے 25 سے 30 جولائی 1974 کو جنیوا میں اجلاس کئے اور تین ضامن ممالک کے وزرائے خارجہ نے 30 جولائی 1974 کے جنیوا ڈکلیریشن پر دستخط کئے۔

مذکورہ ڈکلیریشن میں یونان اور قبرصی یونانیوں سے مقبوضہ ترک  علاقوں کو فوری طور پر خالی  کرنے اور جزیرے میں امن اور آئینی نظم و ضبط  کی تعمیرِ نو کی یقین دہانی کے لئے وزرائے خارجہ کے درمیان مذاکرات کے دوام کو ضروری قرار دیا گیا۔

علاوہ ازیں ڈکلیریشن کے ساتھ جزیرے میں قبرصی ترک کمیونٹی اور قبرصی یونانی کمیونٹی پر مشتمل دو خود مختار انتظامیہ کی موجودگی کو اصولی طور پر تسلیم کیا گیا۔

9 اگست کو کانفرنس  کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا جس میں یونان نے جزیرے کے نئے آئینی نظام کے قیام کے لئے تمام تجاویز کو رد کر دیا  اور آئین کے بارے میں کسی متوقع  اتفاق رائے  کے لئے ترک فوجیوں کی پس قدمی کی پیشگی شرط کے طور پر پیش کیا۔

یونان کے یہ کہنے پر کہ "1960 کی طرح وہ کسی بھی مسلط کئے گئے حل کو قبول نہیں کرے گا" 14 اگست کو کانفرنس بلا نتیجہ شکل میں ختم ہو گئی اور قبرص پُر  امن کاروائی  کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گیا۔

آپریشن کی کامیابی   کے بعد 13 فروری 1975  کو قبرصی ترک وفاقی حکومت قائم کی گئی۔ اسمبلی میں کئے جانے والے فیصلے  کے ساتھ 15 نومبر 1983 کو شمالی قبرصی ترک جمہوریہ  قائم ہوا۔



متعللقہ خبریں