قدم بہ قدم پاکستان - 28

آئیے! آج آپ کو صدیوں پرانے تخت بھائی کے آثار دکھاتے ہیں

قدم بہ قدم پاکستان - 28

قدم بہ قدم پاکستان - 28

پروگرام قدم بقدم پاکستان میں خوش آمدید۔ آئیے! آج آپ کو صدیوں پرانے تخت بھائی کے آثار دکھاتے ہیں۔

تخت بھائی پشاور سے تقریباً 80 کلومیٹر اور مردان سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر صوبہ خیبرپختونخواہ میں واقع ہے۔ تخت بھائی بدھا تہذیب کی باقیات پر مشتمل ہے جس کا تعلق تقریباً ایک صدی قبل از مسیح ہے۔ اسے تخت بھائی یا تخت بہائی اس لیے کہتے ہیں کہ یہ ایک پہاڑی پر واقع ہے اور بہائی اس لیے کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ ہی ایک دریا بہتا تھا۔ مورخین کا خیال ہے کہ تخا بھائی کی عظیم الشان عبادت گاہ میں بدھ مذہب کے پرچار کے لیے محفلیں منعقد کی جاتی تھیں۔ یہاں ایک بڑی یونیورسٹی بھی قائم تھی جہاں دوردراز سے طلبہ بدھ مت کی تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔ بدھ مت کی یہ عبادت گاہ تین میل کے رقبے پر پھیلی ہوئی تھی۔ اُس دور میں جب تعمیراتی مشینوں کا تصور تک نہیں تھا بلند اور سنگلاخ پہاڑوں میں اتنی عظیم الشان عمارتیں بنانا ان لوگوں کا منفرد اور حیران کن کارنامہ ہے۔ انسانی ذہن کی رسائی اور انسانی ہاتھوں سے پہاڑوں کی تراش خراش موجودہ جدید دور کے لوگوں کو بھی حیرت زدہ کر دیتی ہے۔

تحت بھائی یہاں بدھ مت کی قدیم تہذیب، بُود و باش اور تمدن کا آئینہ دار ہے۔ یہاں پائے جانے والے سکوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں بدھ مت اور ہندو نسل کے لوگ آباد تھے۔ صدیوں پرانی یہ تہذیب زمانے کی گرد اوڑھے محوِ خواب تھی اور شاید ہمیشہ کے لیے سربستہ راز ہی رہتی لیکن قدرت کو ان خفیہ آثار کا ظہور مقصود تھا۔ لہٰذا جب کچھ لوگوں نے یہاں اپنے گھر بنانے کے لیے کھدائی کی تو انھیں چند پرانے سکے اور قدیم اینٹیں ملیں۔ اسی طرح محکمہ آبپاشی کے اہلکاروں کو چھوٹے نالوں کی صفائی کے دوران پرانے دور کی کچھ نادر اشیاء اور بدھا کی مورتیوں کے ٹوٹے ہوئے اعضاء ملے تو حکومت کی توجہ اس طرف مبذول ہوئی۔ جب کچھ جگہوں پر کھدائی کی گئی تو انکشاف ہوا کہ یہاں صدیوں پرانا ایک عظیم عہد دفن ہے اور قدیم تاریخ کے نادر آثار موجود ہیں۔

تخت بھائی کی تاریخی حیثیت کی طرف توجہ پہلی مرتبہ فرانسیسی افسر جنرل کورٹ نے 1836 ء میں مبذول کروائی تھی جبکہ کھدائی اور تحقیق کا کام 1852 ء میں شروع کیا گیا۔ برطانوی دور کے ماہر آثار قدیمہ سرجان مارشل نے تخت بھائی، ٹکیسلا اور موہنجو داڑو میں تحقیق کا کافی کام کیا اور اپنی ٹیم کے ساتھ یہاں کام کی نگرانی کی۔ 1927 ء میں یہاں کھدائی کا کافی کام کیا گیا۔ کھدائی کے دوران جو عمارتیں اور آثار ملے وہ حیران کر دینے والے تھے۔ راہوں اور طالب علموں کے لیے تعمیر کی گئی یہ قدیم عمارتیں تمام ضروریاتِ زندگی سے آراستہ تھیں۔ عمارتوں کی دیواروں میں ہوا کی آمد و رفت اور دن کے وقت روشنی کے لیے روشن دان اور رات کو روشنی کے لیے تیل کے چراغ جلانے کے لیے طاقچے بھی بنائے گئے تھے۔ یہاں بدھ مت کی عبادت گاہیں، عبادت گاہوں کے کھلے صحن، جلسہ گاہیں، بڑے بڑے مجسمے اور نقش و نگار و مجسموں کی تصویروں سے مزین بلند دیواریں موجود ہیں۔ کالے پتھروں سے بنی ہوئی یہ عبادت گاہ تین منزلوں پر مشتمل ہے۔ صدیاں گزرنے کے باوجود اس کا سحر باقی ہے۔ درمیان میں پتھروں ایک وسیع چبوترہ ہے جہاں عبادت کی جاتی ہو گی۔ اس کے اردگرد رہائش کے لیے کمرے ہیں۔ ان کے نیچے بہت بڑا تہہ خانہ ہے۔ گہرائی کے باوجود یہاں ہوا اور روشنی آتی ہے۔ پہاڑوں کی ڈھلوان میں ایک چشمہ ہے جس کا پانی ٹھنڈا اور میٹھا ہے۔ اس علاقے کے قریب و جوار میں تھوڑی بہت جو آبادی ہے وہ اسی چشمے کا پانی استعمال کرتی ہے۔

کھدائی کے دوران تخت بھائی سے ملنے والی بہت سی اہم اشیاء پشاور کے میوزیم میں رکھی گئی ہیں لیکن مہاتما بدھ کے مجسمے، مورتیاں، اسٹوپا، مٹی اور پتھر کے برتن، ہاتھی دانت کی اشیائ، چولہے، پکی مٹی کے بنے کھلونے اور اُن لوگوں کے استعمال کی بہت سی اشیاء یہاں ہی رکھی گئی ہیں جو سیاحوں کی دلچسپی کا باعث ہیں۔ پہلے یہاں پہنچنے کے لیے پہاڑی راستوں سے گزر کر جانا پڑتا تھا لیکن اب حکومت نے اوپر جانے کے لیے ایک راستہ بنا دیا ہے جس کے ساتھ لوہے کا جنگلا بھی لگایا گیا ہے۔ کھنڈرات کے قریب سیڑھیاں بنا دی گئی ہیں۔ تقریباا ایک سو سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جائیں تو سارے علاقے کا خوبصورت نظارا کیا جا سکتا ہے۔ صدیوں پہلے یہاں کی چہل پہل، عبادت کرتے بدھ مذہب کے لوگ اور بدھ مت کی تعلیم حاصل کرنے آنے والے طالب علموں کی سرگرمیاں چشم تصور سے دیکھی جا سکتی ہیں۔

تخت بھائی کا علاقہ بہت زرخیز ہے۔ یہاں پٹ سن گندم اور گنا وغیرہ کاشت کیے جاتے ہیں۔ اس زمین کی زرخیزی اور گنے کی وافر فصل کے پیش نظر ایشیا کا پہلا شکر کا کارخانہ یعنی شوگر مل یہاں لگائی گئی تھی۔

تخت بھائی کے مقامی لوگ غیرقانونی طور پر تخت بھائی کے تاریخی مقامات پر کھدائی کرتے رہتے ہیں۔ نوادرات کے شوقین اور سوداگر بھی مقامی لوگوں کو غیرقانونی کھدائی کر کے نوادرات کی چوری کی ترغیب دیتے رہتے ہیں اور ان سے نوادرات خرید لیتے ہیں۔ لٰہذا یہاں موجود نادر و نایاب تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے حکومت کو خاص توجہ دینی چاہیے۔ بدھ مت کے پیروکار، قدیم تاریخ اور آثار قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والے کثیر تعداد میں تخت بھائی کی سیاحت کے لیے آتے ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ اگر یہاں مزید کھدائی کی جائے تو ممکن ہے کہ قدیم تاریخ کے کئی پہلو بے نقاب ہو جائیں اور تہذیب و تمدن کا ایک نیا جہاں منظر عام پر آ جائے۔

آئندہ ہفتے آپ کو پاکستان کے کسی اور خوبصورت اور منفرد مقام کی سیر کروائیں گے تب تک کے لیے اپنے میزبان محمد شعیب کو اجازت دیجیے۔ اللہ حافظ۔

 



متعللقہ خبریں