ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 27

متحدہ عرب امارات کی علاقائی پالیسیاں اور اس کے ترکی کے ساتھ تعلقات پر تناو پر ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کا تجزیہ

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 27

 حالیہ چند برسوں سنجیدہ سطح پر  اپنے اثر ِ رسوخ  کو بڑھانے  کی پالیسی پر کاربند متحدہ عرب امارات علاقائی طاقت کی ماہیت اختیار کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔ دوسری جانب اس ملک اور ترکی کے درمیان تناؤ کا ماحول بھی برقرار ہے۔ متحدہ عرب  امارا ت کی علاقائی  پالیسیوں اور ترکی سے اس کے  اختلافات پراتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرار  ڈاکٹر جمیل دو آچ اپیک کا جائزہ ۔۔۔۔

متحدہ عرب امارات حالیہ چند برسوں  سے خاموش لیکن  گہرائی کی حامل اپنے اثرِ رسوخ میں اضافے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ مشرق وسطی کے شمال اور مشرقی افریقہ  کو ایک نئے روپ میں ڈھالنے والی علاقائی طاقت کا مالک بننا اس کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ یہ ملک خطے  کی تقریبا ً تمام تر کوششوں میں براہ راست یا پھر بلواسطہ طور پر اپنی جگہ بناتا ہے۔

دنیا کے تیل کے ذخائر کے اعتبار سے یہ چھٹا بڑا ملک ہے۔ جزیرہ نما عرب خطے کے مغرب میں واقع   امارات  کے   مشرق میں عمان اور جنوب  میں سعودی عرب اس کے ہمسایہ ممالک ہیں۔ مغرب میں  قطر اور شمال میں ایران کے ساتھ  اس کی سمندری سرحدیں ہیں۔ متحدہ عرب امارات کا قیام سن 1971 میں ابو ظہبی، دوبئی، شارجہ، فوجیئرہ ۔ راس الخیمہ ، ام الا اقوائن اور اجمان  کے یکجا ہونے کے ساتھ عمل میں آیا۔  لہذا یہ ان سات  امارات پر مشتمل ایک فیڈریشن کی حیثیت رکھتا ہے، اس کی سرزمین کا 90 فیصد اور تیل کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ ابو ظہبی میں  ہے تو  دوسری بڑی امارت دوبئی ہے۔

متحدہ عرب امارات ایک طویل عرصے سے مشرق وسطی میں مداخلتوں، خانہ جنگیوں اور بغاوتوں کا مرکزی ادا کار ہے۔ حالیہ چند برسوں میں اس نے اپنے پیسے، توانائی اور لابی کو ہمیشہ مشرق وسطی ٰ میں قطب پذیری قائم کرنے کے لیے خرچ کیا، اس کی ان کوششوں کے  پیچھے  پوشیدہ اہداف میں سے   ایک اقتصادیات ہے۔ تیل کے عالمی ذخائر کے 10 فیصد کا مالک اور اس کی برآمدات میں عالمی  سطح پر ساتویں نمبر پر ہونے والے متحدہ عرب امارات کے توانائی کے وسائل کی  بیرون ِ ملک ترسیل اہمیت رکھتی ہے۔ مشرق وسطی میں تجارتی و مالی  شعبہ جات میں دوبئی ایک اہم مرکز ہے۔ لہذا  بر اعظم ایشیا اور یورپ کے مابین بحری تجارت کے راستوں اور توانائی کی گزرگاہوں  کو زیر کنٹرول لینے  کے لیے  متحدہ عرب امارات کو حیاتی اہمیت حاصل ہے۔ اس مقام کے دیگر ا  ہداف سیاسی نوعیت کے ہیں۔   ان   میں سے پہلا ہدف  عرب علاقے میں خانہ جنگیوں  کے بعد شیرازہ بکھرنے والے  اور قاہرہ،  دمشق و بغداد کی طرح کے قدیم تہذیبی مراکز  کے  کمزور پڑنے والے ان ایام   میں  پیدا ہونے والے  خلاء کو پُر کرنا  اور اپنے اثر و ساکھ میں طاقت  پکڑنے والے ترکی اور ایران  کے راستوں میں رکاوٹیں پیدا کرنا ہے۔  دوسرا سیاسی ہدف مشرق وسطی میں  تبدیلی کی لہر کےسامنے ڈٹ کر کھڑا ہونا اور ممکنہ حد تک اس سلسلے کوواپس موڑنا ہے۔

طویل مدت سے  ترکی اور امارات کے درمیان  تناؤ ایک ڈھکی چھپی بات نہیں،  یہ ملک  مصر میں بغاوت   چھڑنے  تک ترکی کے  لیے ایک اچھا تجارتی و سیاسی شراکت دار  دکھا ئی دیتا تھا۔ تا ہم مصر میں بغاوت کے بعد   حالات  بدلنے لگے۔ سن 2013 میں  پیش آنے والی مصری بغاوت کے دوران ترکی  اور قطر   نے ایک ساتھ جبکہ   متحدہ عرب امارات کے بھی شامل ہونے والے  سعودی  بلاک نے   اس سے ہٹ کر مؤقف کو ترجیح دی۔ ترکی اور قطر نے جمہوری انتخابات کے ذریعے بر سرِ اقتدار آنے والے محمد مرسی کی حمایت کی تو دوسرے بلاک نے الاسیسی کو مالی و معنوی  تعاون فراہم کیا۔

مصر میں   ترکی اور قطر نے منتخب شدہ حکومت کے حقوق کا تحفظ کرنے کی کوشش کی تو متحدہ عرب امارات اور اس کے اتحادیوں نے الاسیسی  کی ضرورت  کے مطابق  اسے اقتصادی  امداد پیش کی۔ اس طریقے سے یہ ملک  غیر متوقع  طور پر سیاسی  راستے کو بدلتے ہوئے  مصر کی سیاسی زندگی میں  عمل دخل کرنے لگا، اس سلسلے میں سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے بھی اس کا ساتھ دیا۔

یو اے ای،  ترکی کو خطے میں نئے ماحول کے قیام کی راہ میں ایک رکاوٹ کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ خطہ بلقان سے لیکر صومالیہ تک کے متعدد علاقوں میں  یہ ترکی  کے ساتھ  رقابت کی حالت میں ہے۔ یہ صومالیہ میں اپنی سیاسی طاقت کو  ترکی کی طرح صومالیہ کی نشاط ِ نو کے لیے نہیں  بلکہ ترکی مخالف  سیاسی پلیٹ فارم کی تشکیل کے لیے بروئے کار لا رہا ہے۔ استنبول کے گیزی واقعات  سے لیکر 15 جولائی کے ناکام بغاوتی اقدام تک  ترکی کے استحکام پر بُری نگاہ رکھنے والے  تمام تر گروہوں نے  یو اے ای سے مدد حاصل کی۔ ترکی میں  15 جولائی کے اقدام   کے دوران  اس ملک کے مالی امداد فراہم کرنے  کی خبریں بھی  حال ہی میں  بعض میڈیا  نے دی ہیں۔ یہ معاملہ گاہے بگاہے ترک  پریس کے ایجنڈے  میں بھی آتا رہتا ہے۔

خلیج سمیت   عرب جزیرہ نما علاقے کے  ممالک کو شیعہ آبادی اور جوہری سلامتی کے حوالے سے ایران  کے ساتھ مسائل در پیش ہیں۔  ایران کے ترکی اور قطر  کے ساتھ بڑھنے والے تعلقات  نے ان خدشات کو مزید شہہ دلائی ہے۔ قطر ایک دوسرے اور علیحدہ مسئلے کی شکل میں خلیجی ممالک کے سامنے  ہے ، یہ ملک اب ایران  اور ترکی کے زیادہ قریب  ہے، یہ علاوہ ازیں مصر کے اخوان المسلمون کی بھی حمایت کرتا ہے۔ یہ تمام عوامل سعودی عرب  کی حد تک متحدہ عرب امارات   میں خدشات  کا موجب ہیں۔ یو اے ای کا خیال  ہے کہ ترکی اور قطر اس معاملے میں مل کر حرکت  کر رہے ہیں اور  ترکی  ملک میں کسی مداخلت کی تیاریوں میں ہے۔

یو اے ای کی  ترکی سے ناچاقی کا  اس کے ایران کے ساتھ تعلقات کے اعتبار سے بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔  اس ملک میں ایران  اور اس کے ساتھ کام کرنے والوں کے خلاف حد درجے  کا رد عمل پایا جاتا ہے۔ اس بنا پر  متحدہ عرب امارات دشمن کا دوست میرا بھی  دشمن ہے کی سوچ  کے مطابق حرکت کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں  قطر کی جانب سے اپنی سر زمین پر ترکی کو فوجی اڈہ بنانے کی اجازت دینا بھی  اس عمومی فریم میں یواے ای کو   بے چین کر رہا ہے۔ یہ پالیسیاں اور مؤقف کب تک جاری رہے گا اس کا جواب وقت اور پیش رفت  دے گی۔ تا ہم یہ کہنا ممکن ہے کہ یو اے ای کے جارحانہ  مؤقف کا قلع قمع کیے بغیر مشرقِ وسطی میں  امن کا قیام مشکل دکھائی دیتا ہے،   اس مؤقف سے سعودی عرب سمیت خطے کے تمام تر ممالک منفی طور پر  متاثر ہو رہے ہیں۔  اس  بنا پر متحدہ عرب امارات کو چاہیے کہ وہ  اس مسئلے کا معقول اور ذمہ دار ممالک سے تعاون کرتے ہوئے حل تلاش کرے۔

یو اے ای مشرق وسطی میں عوام کی ضروریات اور وقت کے تقاضے کو بالائے طاق  رکھنے والی مقامی پالیسی کے بجائے بیرونی  عقل و اداکاروں کے ہمراہ سابقہ نظام لانے کے درپے ہے۔  آیا کہ یہ  اس مقصد میں کس حد تک کامیاب ہو سکتا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ناکام رہے گا۔  اس کی پالیسیاں محض تباہ کاریوں کا موجب بن رہی ہیں کیونکہ ان پالیسیوں سے نشاط و استحکام کا قیام ناممکن ہے۔ کیونکہ  یہ ملک  حقائق پر مبنی کسی علاقائی ویژن سے محروم ہے۔



متعللقہ خبریں