قدم قدم پاکستان - 25

آج آپ کو پاکستان کے نہایت خوبصورت شہر سکردو کی سیر کرواتے ہیں

قدم قدم پاکستان - 25

قدم قدم پاکستان - 25

السلامُ علیکم! امید ہے آپ کی عید اچھی گزری ہو گی اور اب آپ کہیں سیر و تفریح کا ارادہ رکھتے ہوں گے تو آئیے! آج آپ کو پاکستان کے نہایت خوبصورت شہر سکردو کی سیر کرواتے ہیں۔

سکردو گلگت بَلتستان کا سب سے بڑا شہر اور دارالخلافہ ہے۔ یہ شہر تجارتی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ صحت، تعلیم اور سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا بھی اہم مرکز ہے۔ سکردو کے لوگ انتہائی ملنسار، خوش مزاج، پُرامن اور مہمان نواز ہیں۔ یہاں کے خوبصورت مقامات، پہاڑوں، جھیلوں، ڈیم، پہاڑی چوٹیوں اور دلفریب مناظر کو دیکھنے کے لیی ہر سال لاکھوں ملکی اور غیر ملکی سیاح سکردو کا رُخ کرتے ہیں۔

سکردو سلسلہ قراقرم کے پہاڑوں میں گھرا ہوا 10 کلومیٹر چوڑا اور 40 کلومیٹر طویل شہر ہے۔ یہ انڈس ریور پر واقع ہے جو قراقرم رینج اور ہمالیہ کو علیحدہ کرتا ہے۔ سکردو شہر سے ہو کر ہی دنیا کے بلند قدرتی پارک دیوسائی اور استور جایا جا سکتا ہے۔ دیوسائی نیشنل پارک دنیا کا دوسرا بلند ترین پارک ہے جو سطح سمندر سے 4114 میٹر بلند ہے۔ سکردو میں دنیا کے بڑے گلیشیئرز موجود ہیں۔ کچھ گلیشیئرز دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی K2 کے قریب واقع ہیں۔ سکردو کے اہم اور قابل دید مقامات میں شنگریلا، دیوسائی نیشنل پارک، شائوسر جھیل، قلعہ سکردو، منٹھوقا آبشار، کچھورا جھیل، ست پارا جھیل اور ست پارا ڈیم وغیرہ شامل ہیں۔

ست پارا جھیل سکردو کی مرکزی جھیل ہے۔ یہ سکردو شہر سے تقریباً 10 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ جھیل صاف پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے۔ یہاں ٹرائوٹ مچھلی کثرت سے پائی جاتی ہے۔ جبکہ بوٹنگ کی سہولت بھی موجود ہے۔ حکومت پاکستان نے 2002 ء میں یہاں ایک ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے 10 ملین ڈالر مختص کیے۔ ست پارا ڈیم کی تعمیر کا آغاز 2003 ء میں ہوا اور دسمبر 2013 ء میں یہ ڈیم مکمل ہوا جو سطح سمندر سے 2700 میٹر بلند ہے۔ گرمیوں کے موسم میں پہاڑوں سے پگھلنے والی برف کا پانی جھیل کے ذریعے اس ڈیم میں جمع ہوتا ہے۔ یہ ایک کثیر المقاصد منصوبہ تھا۔ یہ ڈیم اب پورے سکردو شہر کو پینے کا صاف پانی مہیا کرتا ہے۔ 15000  ایکڑ رقبے کو سیراب کرتا ہے اور اس ڈیم سے بجلی بھی پیدا کی جاتی ہے۔

کچھورہ جھیل کے دو حصّے ہیں۔ کم مشہور اَپر کچھورہ جھیل ہے۔ جبکہ لوئر شنگریلا جھیل زیادہ مشہور ہے جو اپنے گہرے نیلے پانی کی وجہ سے دلکشی میں اپنا منفرد مقام رکھتی ہے۔ شنگریلا کو بھی خاص شہرت حاصل ہے۔ یہاں چائنیز سٹائل میں خوبصورت ریزارٹ موجود ہے۔ اس کے علاوہ یہاں گرنے والے ایک ائرکرافٹ میں منفرد ریسٹورنٹ بنایا گیا ہے جو سیاحوں کی خصوصی دلچسپی کا باعث بنتا ہے۔ بذریعہ سڑک قراقرم ہائی وے اور سکردو روڈ سے سکردو ویلی جایا جاتا ہے۔ بذریعہ ہوائی جہاز جانے کی سہولت بھی موجود ہے۔ اسلام آباد سے PIA  کی روزانہ ایک پرواز سکردو جاتی ہے۔ سکردو ائرپورٹ بھی اپنی خوبصورتی میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔ پہاڑوں میں گھرا ہوا سکردو ائرپورٹ سطح سمندر سے 7320  فٹ بلند ہے۔ سردیوں کے موسم میں برف باری کی وجہ سے سڑکیں بند ہو جاتی ہیں اور آمد و رفت کا ذریعہ ہوائی جہاز کا فضائی سفر ہی رہ جاتا ہے۔ البتہ موسم کی شدت کی وجہ سے بعض اوقات فضائی پروازیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

سکردو کا موسم اردگرد موجود پہاڑوں اور برف سے ڈھکی پہاڑی چوٹیوں کی وجہ سے سرد ہوتا ہے۔ دسمبر اور جنوری میں درجہ حرارت منفی 10  درجے سنٹی گریڈ تک ہو جاتا ہے۔ شدید برف باری کی وجہ سے اس کا رابطہ باقی شہروں سے منقطع ہو جاتا ہے۔ سکردو کی سیاحت کے لیے اپریل سے اکتوبر تک کا موسم بہترین ہے۔ تب درجہ جرارت 8 سے 27 درجے سنٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔ اس سال اگر آپ کسی خوبصورت، پُرفضا اور دلکش مقام کی سیر و سیاحت کا ارادہ رکھتے ہیں تو سکردو کا رُخ کریں۔ یقیناً سکردو کا سفر آپ کے لیے خوشگوار اور یادگار ثابت ہو گا۔

آئندہ ہفتے آپ کو پاکستان کے کسی اور خوبصورت مقام کی سیر کروائیں گے تب تک اپنے میزبان محمد شعیب کو اجازت دیجیے۔ اللہ حافظ۔

 



متعللقہ خبریں