پھر ماہ رمضان اور مسائل کو حل کرنے میں مگن ترکی

مسئلہ فلسطین کے حل میں ترکی کی کوششیں ایک بار پھر بامِ عروج پر

پھر ماہ رمضان اور  مسائل کو  حل کرنے میں مگن ترکی

دنیا ایسی طرف دھکیلی جا رہی ہے جہاں اس کے مسائل حل کرنا اور اس کا نظم و نسق چلانا   مشکل بنتا جا رہا ہے۔ دہشت گردی، خانہ جنگی،  جھڑپوں اور عدم استحکام کے دور میں  مغفرت  اور رحمت کے مہینے  میں عالمی سطح پر  رستے ہوئے زخم کی   حیثیت اختیار کرنے والے   غزہ سے  شہدا کی خبریں موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔

اسرائیل کے قیام  کے وقت ساڑھے  لاکھ  فلسطینیوں  کو بڑی بے رحمی سے   ان کی سرزمین  سے بے دخل کیے جانے والے اور اپنے  ہی وطن میں  پناہ گزین بنائے جانے والے یہ فلسطینی  بڑی کرب  کے ساتھ  اس سرزمین سے  بے دخل کیے جانے کی یاد منا رہے ہیں ۔

القدس کا اسٹیٹس

القدس جو تینوں ابراہیمی  یا  الہامی مذہب  کے لیے مقدس مقام کی حیثیت رکھتا ہے  کو  کبھی بھی خصوصی اسٹیٹس نہیں دیا گیا ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک کی جانب سے القدس کو  کسی بھی مملکت کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم نہ کیا جانا  اور کسی بھی ملک کی جانب سے اپنا سفارت خانہ  اس شہر منتقل نہ کیے جانے کی   وجہ موجود ہے۔ اس لیے اقوام متحدہ   نے 1947ء  کو  قراراداد نمبر  181  کے ذریعے اسے اقوام متحدہ کی نگرانی میں  خصوصی  حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ 1948ء میں اسرائیل نے اپنے قیام کے ساتھ ہی  پہلے مغربی القدس کو  اور 1967ء میں چھ دن کی جنگ کے دوران مشرقی القدس  پر قبضہ کرلیا ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل   نے مشرقِ وسطیٰ   میں منصفانہ   اور پائدار امن کے قیام کے لیے  چند اصول وضح کرتے ہوئے   ایک قراداد نمبر  242 پیش  کرتے ہوئے اسرائیل سے  1967 میں قبضہ کردہ   علاقوں سے  انخلا کرنے کا مطالبہ کیا گیا لیکن اس وقت سے اب تک  اسرائیل    القدس کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر  دیکھتا چلا  آرہا ہے۔ 1980 میں اسرائیل کی جانب سے  اجرا کردہ قانون  القدس کے تمام علاقے  کو ناقابلِ تقسیم قرار دیتے ہوئے اپنا دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا جس کی اقوام متحدہ کی قرارداد  نمبر   478 سے مذمت  کرتے ہوئے القدس میں موجود   غیر ممالک کے نمائندہ   دفاتر کو تتل ابیب منتقل کرنے  کو کہا گیا۔ اس رائے شماری میں  سلامتی کونسل کے مستقل رکن  متحدہ امریکہ نے   رائے شماری میں حصہ نہ لیا  تاہم اس قرارداد کو  ویٹو بھی   نہ کیا۔

اس روز سے  القدس  میں موجود   بولیویا،  ڈومینک      ری پبلیک ۔ ایلواڈور، گوئٹے مالا ۔ ہائٹی، ہالینڈ ، کولمبیا ، پاناما ، چلی  یوروگوائے  اور وینزویلا  نے اپنے سفارتخانوں کو  تل ابیب منتقل کرنا شروع کردیا ۔  2006 ء میں   کوسٹا ریکا  اور ایل سلوا دور نے بھی اپنا سفارتخانہ   القدس سے تل ابیب منتل کردیا  اور اس طرح القدس میں کوئی بھی   غیر ملکی سفارت خانہ موجود نہ رہا۔

امریکہ آخر کار کیا چاہتا ہے؟

سن 1995 میں امریکی کانگرس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 478 نمبر کی قرارداد  کے بر خلاف القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت اعلان کرنے والے اور اسرائیل  میں اپنے سفارتخانے کو تل ابیب سے القدس کو منتقل کرنے  پر مبنی یوروشلم ایمبسی ایکٹ آف 1995  جاری کیا۔ اس قانون میں القدس میں امریکی  سفارتخانے کو سن 1999 کے ماہ ِ مئی تک   قائم کیے جانے کی شق شامل تھی ، تا ہم منتقلی کے معاملے پر ابتک  کے تمام تر امریکی صدور نے اس مسئلے کے کافی حساس ہونے اور اس کے مشرق وسطی پر برے اثرات مرتب ہونے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس فیصلے کو التوا میں ڈالے رکھا۔

عثمانی سر زمین پر یہودیوں  کے لیےایک وطن بنانے کا  عندیہ دینے والے بالفور ڈیکلریشن  سے ٹھیک ایک  سو سال بعد یعنی 6 دسمبر سن 2017 کو  امریکہ کے 45 ویں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سفارتخانے کو  تل ابیب  سے  القدس منتقل  کرنے  کے حتمی فیصلے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان  مشرق وسطی سلسلہ امن  اور خطے کا تقاضا ہونے والے  استحکام کے ماحول کو نقصان پہنچنے کے لحاظ سے ایک تاریخی  اور اسی حد تک ایک غلط  فیصلہ تھا۔ یہ منتقلی ایک معمولی نوعیت کی نقل مکانی   نہیں بلکہ   قبضے کے  سامنے بین الاقوامی  مشروطیت کو  مضبوطی دینے کی ہی ایک کڑی ہے۔

امریکہ نے   خطے میں کشیدگی  کو شہہ ملنے اور تصادم کا موجب بننے  کو جانتے ہوئے  عالمی برادری  کے متفقہ طور پر اس عمل سے'باز رہنے'  کی اپیل  پر کان نہ دھرنے اور دنیا کی نظروں کے سامنے عالمی قوانین کے برخلاف  اپنے فیصلے پر عمل در آمد کیا اور اپنے سفارتخانے کو تل ابیب سے القدس منتقل کر کے ہی چھوڑا۔فلسطینیوں کے لیے محاصرہ اور  علیحدگی دیوار جو مفہوم رکھتی ہے یہ فیصلہ  بھی ایسا ہی ہے۔ عالمی رائے عامہ  کے سخت رد عمل کے باوجود  پیچھے قدم نہ ہٹانے والے امریکہ کا یہ قدم فطری طور پر  فلسطینیوں کے غصے اور  ردعمل کا موجب بنا۔ نتیجتاً سول عدم اطاعت اور  غیر فعال مزاحمت  کے طریقوں سے  حق و انصاف کا تقاضا کرنے والے  ہزاروں شہریوں  کے خلاف غیر متوازن طاقت کا استعمال اور  ان پر مظالم ڈھاتے ہوئے  ان کی  خونریز ی  کی گئی۔ عالمی رائے عامہ اور ذرائع ابلاغ کی نظروں کے سامنے اسرائیلی پولیس نے معصوم  فلسطینیوں کا قتل عام کیا اور ہزاروں کی تعداد  میں زخمی کر ڈالا۔ اسرائیل کی گولیوں سے چھلنی ہونے والے، اپنے گھر بار اور سرزمین سے جبراً  بدر کیے جانے والے  فلسطینیوں   کو اپنے ہی وطن میں مہاجر کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کرنے والے یوم نقبہ  کے بعد ستر سال جیسا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود   ان کی حالت ِ زار   ہم سب کے سامنے ہے۔

مشرق وسطی کی  آگ پر پانی چھڑکنے والا ترکی

اسلامی تعاون تنظیم  کے موجودہ صدر کی حیثیت سے  صدرِ ترکی کی دعوت پر 18 مئی سن 2018 کو  منعقدہ القدس سمٹ،  اس  بربریت اور غیر قانونی  حرکتوں کو "روک دو"  کہنے کے اعتبار سے  قدرے اہم  تھا۔ دنیا بھر میں بازگشت سنائی دینے والے اس سربراہی  اجلاس نے کئی ایک علاقائی و عالمی تنظیموں کے ناکام رہنے والی چیزوں کو کر دکھایا۔ ترکی کی حساسیت اور انسانی معاملات میں  قیادت کی وساطت سے  القدس  کی حیثیت کے     غیر عقلی و غیر قانونی   ہٹ دھرمی کے حامل حربوں کے ساتھ  تبدیل نہ کیے جا سکنے  کی حقیقت کو ایک  بار پھر آشکار کیا ہے۔ ترکی نے ہمیشہ کی طرح  کہا ہے کہ یہ اقدام   اولین طور پر  اسرائیل کے لیے نقصان دہ  ثابت ہوگا  اور  اقوام متحدہ کے قیام سے لیکر ابتک حل نہ کیے جا سکنے والے  مسئلہ فلسطین کو حل کرنے  میں معاون نہیں ہوگا۔ بلکہ اس کے برعکس یہ مسئلے کو  عدم حل کی جانب دھکیلے گا اور علاقے میں   کشیدگی کو مزید شہہ دے گا۔ خطے میں پائدار امن کے قیام ، تصادم و بحرانوں کا سد ِ باب کرنے   میں  سب سے زیادہ جدوجہد کرتے ہوئے   فدا  کاری  کا مظاہرہ کرنے والا ملک ترکی ہی تھا۔ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دیگر متعلقہ ممالک نے ان  کوششوں کو خاطر میں نہ لایا اور امن کی  امیدوں پر پانی پھرنے کا سلسلہ جاری رہا۔

مظلوموں کے زخموں کو مندمل کرنے کے لیے بلیو مرمرا  فلوٹیلا روانہ  کیے  جانے پر  معصوم اور نہتے انسانوں کا قتل کیا گیا۔ یہ زخم مندمل نہیں ہوئے تو  صرف فلسطینیوں پر ہونے والے دباؤ میں تحفیف لانے  کے لیے ترکی  نے اسرائیل کو ہرجانہ ادا کرنے اور معافی مانگنے کے ساتھ اس بحران کو حل کرنے کی پیش کش کی۔ تا ہم  اب  کی بار فراہم کردہ امداد کو الزام تراشیوں   اور گندے پراپیگنڈے کے ساتھ روکے جانے کی کوششیں کی گئیں۔ بمباری کی زد میں ہونے والے انسانوں کو  خوردنی اشیاء بہم پہنچائی گئیں تو  "ان اشیاء  کو ضرورت مندوں کو نہیں بلکہ دہشت گردوں تک پہنچائے جانے کی بہتان بازی کی گئی۔"

ایک صحت مند گھرانے   اور  روشن خیال  معاشرتی ڈھانچے   کے قیام کی تلاش  اور امن و آشتی کی بحالی    کی کوششوں میں مصروف   ترک ادارہ برائے  رابطہ و تعاون  پر  دہشتگردوں کی اعانت کا بھی الزام لگا  یا گیا ۔ اگر ایک صحت مندانہ ذہنی سوچ کا احاطہ کیا جائے  تو معلوم ہوتا ہے  کہ  ترکی میں  امداد کے اس سلسلے نے   کس طرح سے تناو میں کمی لانے اور  تنازعات کے برے اثرات  کو زائل کرنے میں مدد کی ہے۔

ان تمام   منفی حالات کے باوجود ترکی میں  امن و آشتی  کے قیام کےلیے  کوششیں جاری  رہیں اور  یہ سلسلہ برقرار ہے ۔ رمضان کے مہینے   میں  یہ ادارہ  غزہ   کے  مظلوم عوام کی مدد میں پیش پیش رہا  اور ان کے زخموں کو مندمل  کرنے   کےلیے ادویات  بہم پہنچاتا رہا ۔  ہر دن   اس ادارے نے  1 ہزار خاندانوں  یعنی تقریباً 2 لاکھ افراد کو کھانا  اور  10 ہزار محتاج  خاندانوں کو خوراک     کے  پیکٹ تقسیم کیے ۔  اس امداد سے  خواہ جزوی ہی سہی  فلسطینی عوام کے مصائب   کو کم کرنے میں مدد ملے گی ۔  ترکی ان کوششوں  کے تناظر میں مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل  کی حمایت   سمیت  اسرائیل کی خطے میں جارحانہ اور اشتعال انگیز پالیسیوں     کو روکنے  کا ارادہ رکھنے سمیت  مطالبہ  کرتا ہے کہ  وہ  فلسطنیوں کے خلاف ظلم و تشدد بند کرتےہوئے انصاف   کے تقاضوں  کو پورا کرے اور  ان کے جائز حقوق کا احترام کرے۔

مسائل کے  جلد خاتمے کا ترکی متمنی  ہے  :

انصاف  و احترام   کی قدروں  کا دفاع کرنے میں   ترکی  کو خاص مقام حاصل ہے   جو کہ مذہب و نسل  اور لسان  و رنگ    سے بالاتر دائما ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کو اپنا فرض سمجھتا رہا ہے۔ سن 1492 میں  تقریباً 2  لاکھ  یہودیوں نے   اسپین کے ظلم و ستم سے تنگ آکر دولت عثمانیہ سے پناہ کی درخواست کی  جسے قبول کرلیا گیا ۔ جمہوری تاریخ میں بھی ایک ایسا  واقعہ پیش آیا  جب نازیوں کی بربریت سے  بچانے کے لیے  فرانس کے جنگی کیمپوں میں مقیم  یہودیوں کو ترک شہریت  دیتےہوئے   نازیوں کے ظلم سے نجات دلوائی گئی   جو کہ اس وقت جرمنی سے کشیدگی کا بھی سبب بنا ۔ ماضی کی  ان ورق  گردانیوں سے   معلوم ہوتا ہے کہ   ترکی نے ہمیشہ  مظلوم کا ساتھ  دیا  اور خطے میں  امن و آشتی   کے قیام کےلیے اہم کوششیں صرف کیں۔ مشرق وسطی کا شورش زدہ علاقہ  ماضی میں  تقریباً 400  سال تک عثمانیوں  کے مشہور  عدل و انصاف کا گہوا رہ رہا تھا  جو کہ آج بھی اجداد کی ان روایات کو قائم  کرنے میں مصروف نظر آتا ہے۔ترکی  کو اس بات پر فخر ہے کہ اس نے  کبھی بھی  اپنے اقتدار کا غلط فائدہ نہیں اٹھایا  اور اپنے زیر تسلط  ممالک  کی عوام  کی شخصی آزادی اور اُن کے   رہن سہن کا پورا خیال رکھا  ۔  ترکی اس وقت  80 ملین    کا نہیں بلکہ  ساڑھے 7 ارب انسانوں   کے درمیان اتحاد و یگانگت  کی کوششوں کو با آور کرنے کا عزم رکھتا ہے  جس کا اندازہ میانمار  اور بنگلہ دیش    میں آباد  روہنگیا    کے مظلوم  و لاچار عوام  کی مدد میں ہمیں صاف دکھائی  دیتا ہے ۔

صدر ایردوان نے بحران کے آغاز کے اوّلین لمحات سے ہی بھاری ڈپلومیسی ٹریفک کے ذریعے دنیا کی توجہ درپیش انسانی بحران کی طرف مبذول  کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اپنے کنبے کو علاقے میں بھیجا اور بحران کے اثرات کو کم کرنے کے لئے ترکی کی طرف سے علاقے میں امدادی سامان بھیجا۔بنگلہ دیش کے مہاجر کیمپوں میں مقیم لاکھوں مہاجرین کو ترکی کی تعاون و امدادی ایجنسی TIKA کی طرف سے گرم کھانے کی امداد ہر روز فراہم کی جا رہی ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ 5 ہزار 5 سو کلو میٹر  کی دُوری سے یہ امداد فراہم کر کے ترکی اپنے مفادات کو یقینی بنا رہا ہے؟ اصل میں ترکی کی کوششیں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ ایک طے شدہ نظام کو اپنے مفادات  کی خاطر دنیا کو بتدریج ایک ناقابل انتظام جگہ کی حالت میں لانے کی کوشش سے روکا جائے۔

ترکی اسرائیل تعلقات

جمہوریہ ترکی اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو علاقائی امن  اور استحکام  میں کردار ادا کرنے کی کوششوں کے ایک اہم حصے کے طور پر دیکھتا ہے۔ جب اسرائیل کی علاقائی ممالک کے ساتھ جنگوں اور کشیدگیوں کے بارے میں سوچا جائے تو تعلقات کا صحتمندانہ شکل میں جاری رہنا علاقے میں اسرائیل کے تنہا ہونے کا بھی سدباب کر رہا ہے۔ فلسطین میں پیش آنے والے ہر بحران کے بعد ترکی۔اسرائیل تعلقات میں تناو آ رہا ہے۔ترکی کی حساسیت  اور انسانی روّیہ وقتاً فوقتاً اسرائیلی حکومت  کو ناگوار گزر رہا ہے اور یہ صورتحال دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔غزہ میں پیش آنے والے حالیہ بحران کے بعد بھی سفیروں کا کچھ عرصے  کے لئے اپنے اپنے ملکوں کو واپس لوٹنا ذہنوں میں یہ سوال پیدا کر رہا ہے کہ آیا سفارتی تعلقات  کے معیار کو گرایا جائے گا یا  نہیں۔ سفیروں  کا دو طرفہ شکل میں کچھ عرصے کے لئے واپس لوٹنا ایک درست اقدام ہو گا لیکن سفارتی تعلقات کا  طویل عرصے تک منقطع رہنا بلواسطہ شکل میں فلسطینیوں پر ایک پابندی کے اطلاق کا بھی مفہوم دے سکتا ہے۔بلیو مارمرا امدادی بحری جہاز پر حملے کے بعد 6 سالہ کشیدگی دوطرفہ شکل میں سفیروں کی تعیناتی کو یقینی بنانے والے سمجھوتے کی وجہ سے کم ہوئی۔ نئے  سرے سے شروع ہونے والے تعلقات کی طفیل ہر چیز کے باوجود ترکی کو مسئلہ فلسطین  میں کردار ادا کرنے اور امداد کو محتاجوں تک پہنچانے میں آسانی ملی کیونکہ بیت المقدس زیر قبضہ ہے، غزہ کے گرد رکاوٹیں کھڑی ہیں ، دریائے اردن کا مغربی کنارہ محاصرے میں ہےاور فلسطین تک رسائی کے راستے غیر قانونی شکل میں اسرائیل کے زیر کنٹرول ہیں۔ اس مقام پر جذباتیت سے دور رہنا چاہیے ، عقل سلیم کا استعمال کر نا چاہیے اور مسائل کو پیچیدہ بنانے والے اقدامات سے پرہیز کرنا چاہیے۔ہمارے اداروں کو بھی اس پہلو پر باہمی تعاون کے ساتھ  کاروائیاں کرنا اور اپنی کاروائیوں کو ہمارے ڈپلومیٹک مشنوں  اور فیلڈ میں فعال شکل میں کاروائیاں کرنے والے TIKA    آفس کے ساتھ مشاورت میں رہ کر پلان کرنا چاہیے۔

اگرچہ اب تک اسرائیلی انتطامیہ نے ایسا کیا تو نہیں لیکن اب اسے بین الاقوامی برادری کی آواز پر کان دھرنا چاہیے اور فلسطینیوں کے خلاف جاری اس ظلم کو بند کرنا چاہیے۔تاریخ میں سب سے زیادہ جلا وطنی جھیلنے والی ملت کے نمائندے آج وہ سب تکلیفیں دوسروں کو دے رہے ہیں کہ جو ماضی میں خود انہوں نے اٹھائی ہیں۔ دوسری طرف اب یہ بھی سمجھ لیا جانا چاہیے کہ بحران کو پیچیدہ بنانے، انسانوں کو تحریک دینے اور علاقے کو عدم استحکام کی طرف گھسیٹنے والا ملک ثالث کا کردار ادا نہیں کر سکتا۔ سو سال سے امن کی حسرت میں مبتلا بیت المقدس میں ماضی کی طرح مختلف عقائد کے لوگوں کو امن و امان کے ساتھ زندگی گزارنا چاہیے۔

بلاشبہ ہر وہ علاقہ کہ جہاں انسان آزادی اور تحفظ کے ماحول میں رہ رہے ہوں اور جہاں تجارت میں تازگی پائی جاتی ہو وہاں امن کا قیام ہو کر رہے گا۔ TIKA  کا مقصد بھی اپنی موجودگی کے ہر علاقے میں اقتصادی ترقی کے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنا کر امن و امان کی فضا کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ علاوہ ازیں جہاں علاقے کی صورتحال خراب ہو چکی ہو وہاں TIKA نے نظم ضبط کی تعمیر نو کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا۔         



متعللقہ خبریں