ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 23

دفاعی  ٹیکنالوجیز اور  جنگی حکمت ِ عملی کا تعین کرنے  میں خطرات اور ممکنہ کاروائی کا ماحول   نمایاں عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ  23

انفارمیشن ٹیکنالوجی میں  سرعت سے ترقی اور اسی رفتار  سے اس ٹیکنالوجی کو دفاعی صنعت میں مدغم  کیا جانا  جنگوں کے ڈھانچے میں بھی تبدیلیاں لا رہا ہے۔  اس پیش رفت، جنگوں کے ڈھانچے میں تبدیلیاں اور مشرق ِ وسطی   کے حوالے سے اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات  کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک  کا جائزہ۔۔۔۔۔۔

دفاعی ٹیکنالوجی اور جنگوں کے طریقہ کار میں تاریخ بھر کے دوران ٹیکنالوجی  کی ترقی کے ساتھ متوازی طور پر  تبدیلیاں  آتی رہی ہیں۔نیا حربہ،  آلات و طریقہ کار پر عمل درآمد، دشمن پر بالا دستی قائم کرنے کی کوشش حملے سے باز رکھنے کے لیے   کسی ایک ہدف پر ثابت  رہتا ہے۔ تا ہم دوسری  جانب  ہر جدت ، گزشتہ  جنگ یا پھر تصادم  سے سیکھے گئے سبق  کی بدولت مزید پختگی  سے ہمکنار ہوتی ہے۔

خبر رسانی   ٹیکنالوجی  میں سبک رفتار ترقی، جیو پولیٹک  پیش رفت اور حکومتوں  کے علاوہ  غیر حکومتی اداکاروں کا بھی   پیش پیش رہنا  نئے  اصولوں، حربوں اور نظام   کے ساتھ جنگوں کے جاری رہنے  کی زمین ہموار کر رہا ہے۔ نئی نسل کی جنگ  کے نام سے بھی منسوب  کیے  جا سکنے والے اس نئے مؤقف  میں  کہیں زیادہ محدود تعداد میں،  باآسانی حرکت کر سکنے والے، نیٹ  ورک سنٹر   کے ذریعے ایک دوسرے سے یونٹس  کو سیاسی، اقتصادی اور سماجی کاروائیوں  کے ایک عنصر کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

نئی نسل کی جنگ کی پہلی مثال کے طور پر لیبیا آپریشن، شام کی خانہ جنگی اور افغانستان کی طرح کی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ ان مثالوں میں مملکتوں کے سیاسی اور فوجی اہداف کے لیے  غیر مملکتی عناصر  کو استعمال کرنے ، میدانی  جنگ یا پھر پہلے سے اعلان کردہ شکل میں نہیں  بلکہ 'پراکسی وار' کی شکل میں  جاری رکھنے کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔ گوریلا جنگ  باقاعدہ جنگ کے طریقہ کار اور حکمت عملی   سے کہیں مختلف نوعیت کی ہوتی ہے۔ اس طرح حربہ اور حکمت ِ عملی نتائج کے لیے ، الیکٹرونک اور سائبر جنگوں  کے طریقہ کار کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔

دفاعی  ٹیکنالوجیز اور  جنگی حکمت ِ عملی کا تعین کرنے  میں خطرات اور ممکنہ کاروائی کا ماحول   نمایاں عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جھڑپوں کا احتمال پائے جانے والے علاقوں میں  کاروائی کرنے کے لیے وہاں کے ماحول  اور دشمن کی صلاحیت کے  خلاف تیاریاں لازمی ہیں۔ عصر حاضر میں  دنیا میں سیاسی، تاریخی، اقتصادی بنیادوں   کے جواز میں  بھاری تعداد میں کشیدگی، تصادم اور بحرانوں کا وجود  ملتا ہے۔  جن کا ایک بڑا حصہ مشرق وسطی اور گرد و نواح کے  علاقوں میں  ہے۔

سن 2011 میں تیونس میں پھوٹتے ہوئے  سرعت سے  شمالی افریقہ اور مشرق وسطی  کے علاقوں میں  سرایت کرنے والی "بہارِ عرب "  کے نام سے عوامی تحریکیں خطے کے جیو پولیٹک  توازن میں  وسیع پیمانے کی تبدیلیاں  آنے کا موجب بنیں۔ تیونس، لیبیا اور مصر میں  ملکی انتظامیہ میں تبدیلیاں  اور شام میں خانہ جنگی کا موجب بننے والی یہ تحریکیں، خطے میں مختلف انتہا پسند مسلح گروہوں  کے اثر ِرسوخ میں اضافے کی راہ ہموار کرنے میں بھی  بارآور ثابت  ہوئیں۔ شام میں  سن 2011 میں چھڑنےو الی خانہ جنگی،  علاقائی ممالک کی قومی سلامتی  کو براہ راست  متاثر کرنےو الے خطرات کی شکل اختیار کر لی ہے۔ یہ بحران علاقائی ممالک کو اپنے اندر داخل  کرنے والی کسی جنگ یا پھر سنگین بحران  کی ماہیت اختیار کرنے  کے خطرات کو بھی اپنے اندر پوشیدہ رکھے ہوئے ہے۔

مشرق وسطی کے  اہم ترین  توانائی کے پیدا کنندگان میں   شامل ایران کی  پراکسی جنگ کی پالیسیاں، علاقائی ممالک کی  حد تک بین الاقوامی نظام کی جانب سے  ایک سنجیدہ خطرے  کی نظر سے  دیکھی جاتی ہیں۔ ایران کے  خاص طور پر دور مار راکٹوں اور میزائلوں کی ٹیکنالوجی  کے ذریعے خلیج بصرہ  میں  بحری آمدورفت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر سکنے   کا احتمال    اور  ایران کے اس حوالے سے نئے اقدامات   ان خطرات کو  مزید  پختگی  دے رہے ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ کے کسی  تصادم  کی شکل اختیار  کر سکنے کا احتمال  پایا جاتا ہے۔

جنگی ماحول اور طریقہ کار میں  تبدیلیاں بلا شبہہ  ٹیکنالوجی ترقی  میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ سائنس و ٹیکنالوجی  میں پیش  رفت  اس معنی ِ میں  موجودہ صدی کے وسط  کی جانب آگے بڑھنے والے سلسلے میں دفاعی میدان میں ٹیکنالوجی، سسٹم  اور نئے حربے   پیش پیش ہیں۔ یہ  انفارمیشن۔کیمیونیکیشن ٹیکنالوجیز  اور سائبر وار، بائیو ٹیکنالوجی، قابل کنٹرول  توانائی، ڈراؤن جنگی سسٹمز، جدید سازو سامان اور پیداواری  ٹیکنالوجی، سیمولیشن ، خفیہ  کیمرہ نظام اور متبادل  طاقت  نظام اور ایندھن ٹیکنالوجیز ہیں۔

عالمی شہرت یافتہ قابل ِ احترام  کارل وون کلاز وٹز جنگی سیاست کی  دیگر طریقہ کاروں کے ذریعے   جاری ہونے  کے طور پر تشریح کرتے ہیں۔ اس تشریح کی روشنی میں جنگ اور کہیں زیادہ وسیع الفاظ میں دفاعی نظام کا قومی سلامتی حکمتِ عملی عنصر کے طور پر  جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ویسے بھی ماضی کے ادوار کے  دوران شہنشاہتوں اور مملکتوں   نے جنگی سیاست کو اقتصادی و عسکری پالیسیوں کے ایک جزو کے طور پر استعمال کیا۔ موجودہ دور میں عسکری صلاحیت ، دفاعی  ٹیکنالوجی و جنگی حکمتِ عملی  کا فروغ ٹیکنالوجی  سے براہ راست تعلق رکھتا ہے۔ جنگوں کے مستقبل قریب و بعید میں  کس طرح  وقوع پذیر ہونا؛ ممکنہ جھڑپوں کے ماحول  سمیت دشمنوں  کی صلاحیتوں  کو بالائے طاق رکھتے ہوئے موثر جنگی طاقت کا مالک ہونے سے تعلق رکھتا ہے۔ حکمتِ عملی، اقتصادی، سیاسی و ٹیکنالوجی  صلاحیتوں کو بیک وقت استعمال کیے جانے کی صورت میں   ہی جدید تقاضوں کے حامل کسی دفاعی نظام کا قیام ممکن بن  سکتا ہے۔



متعللقہ خبریں