حالات کے آئینے میں ۔ 22

حالات کے آئینے میں ۔ 22

حالات کے آئینے میں ۔ 22

پروگرام "حالات کے آئینے میں " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ شام میں تناو میں کمی لانے اور فریقین کے درمیان امن کو یقینی بنانے کے لئے قائم کردہ آستانہ مذاکراتی میکانزم  کام کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ترکی، روس اور ایران کی ضمانت میں جاری مذاکراتی عمل کے دائرہ کار  میں کشیدگی  کو کم کرنے کے لئے جن علاقوں کا تعین کیا گیا تھا ان میں انتظامیہ، روس اور ایران  کے حملوں کو جاری رکھ کر ان علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد خاص طور پر ادلب کا علاقہ اہمیت حاصل کر گیا ہے۔ وہ تمام علاقے کہ جنہیں کشیدگی  کم کرنے کے لئے منتخب کیا گیا ان میں ادلیب کے علاقے کا دیگر علاقوں کے مقابلے میں ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع ہونا ترکی کے ہاتھ مضبوط کرنے والا ایک اہم  عنصر ہے۔ علاوہ ازیں انتطامی فورسز کا اپنے زیر محاصرہ علاقوں  کے شامی مخالفین کے لئے ادلب اور فرات ڈھال آپریشن کے علاقے کو خالی کرنا ادلب کو فوجی مخالفت کے قلعے  کی حالت میں لانے والے عناصر میں سے ایک ہے۔ آستانہ مذاکراتی مرحلے  کے دائرہ کار میں تناو کو کم کرنے والا علاقہ ادلب دیگر علاقوں کے مقابلے میں مختلف  ہے۔ علاقے میں ترکی کے 12، روس کے 10 اور ایران کے 7   کنٹرول پوائنٹ قائم کئے گئے ہیں اور علاقے میں جھڑپوں کو بڑے پیمانے پر روک دیا گیا ہے۔ خاص طور پر ترکی کے قائم کردہ کنٹرول پوائنٹ انتظامی فورسز کی شامی مخالفین  کے خلاف فوجی پیش رفت  کا سدباب کرنے والی دیوار کی حیثیت رکھتے ہیں۔

سیاست، اقتصادیات اور معاشرتی تحقیقاتی وقف SETA کے محقق اور مصنف جان آجُون کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

علاقے میں ترکی کے قائم کردہ کنٹرول پوائنٹ آپریشنل معنوں میں اپنے ساتھ متعدد مشکلات بھی لائے ہیں۔  جہاں اپنی سرحد سے براہ راست منتقلی ترکی کے لئے ایک بڑا فائدہ ہے وہاں ادلب کے متعصب عناصر اور انتظامیہ کے ایجنٹوں کی طرف سے کسی حملے کا احتمال قیام امن کے لئے ترکی  کی طرف سے اٹھائی گئی ذمہ داری کو مشکل بنا رہا ہے۔ نتیجتاً ایک ترسیل کے دوران پارک حالت میں کھڑی بم سے مسلح گاڑی کے دھماکے کی وجہ سے ترکی کے کانوائے کو نقصان پہنچ چکا ہے۔ وقتاً فوقتاً انتظامی فورسز اور ایران کے بھیجے ہوئے غیر ملکی شعیہ ملیشیاوں کی طرف سے ترک فوجیوں پر فائرنگ بھی کی گئی ۔شام کی جھڑپوں کو روکنے کے لئے ترکی کا اپنے فوجیوں کو فرنٹ لائن پر متعین کرنا ترکی کے علاقے میں  جنگ کو بند کروانے  کے بارے میں عزم  کا کھلا اظہار ہے۔ ترکی ایک طرف آستانہ مرحلے  کی مدد سے اسد انتظامیہ اور شامی مخالفین  کے درمیان جنگ  کو روک کر اور انسانی ہلاکتوں کو بند کر کے فریقین کے درمیان مذاکرات  اور عبوری سیاسی مرحلے کا راستہ ہموار کرنا چاہتا ہے تو دوسری طرف شام کے بحران سے استفادہ کرنے والی دہشت گرد تنظیموں  کے خلاف جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ فرات ڈھال آپریشن کے ذریعے ترکی نے اپنی سرحد سے دہشت گرد تنظیم داعش کا صفایا کیا  اور بعد ازاں عفرین کے علاقے کو PKK/YPG دہشت گرد تنظیم سے صاف کیا ہے۔ دونوں آپریشنوں میں ترکی کا مقامی شامی یونٹوں کے ساتھ مل کر کاروائی کرنا اس بات کا کھلا اظہار ہے کہ  ترکی علاقے میں استحصالی طاقت کے طور پر کاروائیاں نہیں کر رہا۔ ترکی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کرنے کے ساتھ ساتھ ایک طرف ہمسایہ  ملک شام میں امن  و امان کے قیام کو یقینی بنانے والے اقدامات کر رہا ہے تو دوسری طرف اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنا رہا ہے۔ نتیجتاً فرات ڈھال آپریشن کے بعد ترکی کے اندر دہشت گرد تنظیم داعش کے حملوں  اور حملوں کے اقدام میں کمی آئی ہے۔ اسی طرح شاخ زیتون آپریشن نے ترکی کے ضلع حطائے اور آمانوس پہاڑی سلسلے کے علاقے میں PKK کے حملوں اور حملے کے اقدامات کا تقریباً خاتمہ کر دیا ہے۔

تاہم دیگر علاقوں میں  ترکی کی  دہشت گردی کے خلاف جدوجہد جاری ہے۔ عراق میں جاری آپریشن کے ساتھ ساتھ شام کے شمال میں PKK/YPG کی موجودگی کے خلاف اہم اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ جہاں امریکہ کا YPG کے ساتھ اتحاد پر اصرار علاقے میں دہشتگردی کے خاتمے  کے راستے میں رکاوٹ بن رہا ہے  وہاں  ترکی کی قومی سلامتی کے لئے بھی خطرہ تشکیل دے رہا ہے۔ ترکی اور امریکہ کے درمیان ایک طویل عرصے سے  YPG اور خاص طور پر منبچ کے مستقبل کے بارے میں مذاکرات جاری ہیں ۔ امریکہ کا منبچ  کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد YPG کو علاقے سے نکالنے کے بارے میں ترکی سے کئے گئے وعدے کو پورا نہ کرنا اور وائے پی جی کو تحفظ فراہم کرنا دو نیٹو اتحادیوں کے باہمی تعلقات میں کشیدگی کا سبب بنا ہے۔ امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلر سن کے دورہ ترکی کے دوران اپنے ترک ہم منصب کے ساتھ  مذاکرات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان منبچ کے مسئلے پر عمومی اصولی سمجھوتہ طے پا گیا تھا۔ بعد ازاں صدر ٹرمپ کے ٹلر سن کو عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ مائیک پومپیوکو وزارت خارجہ کے عہدے پر متعین کرنے سے یہ مرحلہ عارضی طور پر انجماد کا شکار ہو گیا۔ ترکی کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو کے گذشتہ دنوں جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان مسئلہ منبچ  کے لئے مسودہ سمجھوتہ طے پا گیا ہے اور اس کی تفصیلات  کے آئندہ مراحل میں حتمی شکل اختیار کرنے کا پروگرام بنایا جا رہاہے۔ میولود چاوش اولو  کے بیان کے بعد مقامی ذرائع کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق وائے پی جی  کے عسکریت پسندوں نے علاقے کو ترک  کرنے کے لئے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ نتیجتاً ترکی اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کے دائرہ کار میں وائے پی جی منبچ کو ترک کر کے فرات کے مشرق میں چلی جائے گی ترکی اور امریکہ مل کر علاقے کی سلامتی  کو یقینی بنائیں گے اور دونوں ملک مل کر منبچ کی مقامی انتظامیہ اور پولیس فورسز کا تعین کریں گے۔ مسئلہ منبچ پر ترکی اور امریکہ کے درمیان خواہ کیسی ہی پیش رفت کیوں نہ ہو پھر بھی فرات کے مشرق میں دہشت گرد تنظیم وائے پی جی کی موجودگی اس بات کا اظہار ہے کہ شام کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان مسائل  ختم نہیں ہوں گے۔ لیکن منبچ میں ترکی اور امریکہ کا مل کر حرکت کرنا دونوں نیٹو اتحادیوں کے درمیان رابطے ، کوآرڈینیشن  اور اعتماد میں اضافہ کرے گا۔ اگر دونوں ملکوں کے درمیان منبچ میں اتفاق رائے طے پا جاتا ہے تو شام کے دیگر علاقوں کے لئے سمجھوتے کا طے پانا ممکن ہے۔

 



متعللقہ خبریں