حالات کے آئینے میں ۔ 21

حالات کے آئینے میں ۔ 21

حالات کے آئینے میں ۔ 21

پروگرام " حالات کے آئینے میں " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ تقریباً ایک سال قبل قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی  کے ہیک ہونے اور قطر کے امیر  کے بعض جعلی انٹرویو یہاں سے نشر کئے جانے سے شروع ہونے والی ایک میڈیا کمپین کا مشاہدہ کیا گیا۔ یہ میڈیا کمپین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب  کی زیر قیادت اور امریکہ کے بھی تعاون سے تشکیل پانے والے ایک کولیشن کے قطر کو براہ راست  ہدف بنانے میں تبدیل ہو گئی۔ یہ کولیشن قطر کو، فوجی، سیاسی اور اقتصادی حوالے سے مکمل گھیراو میں لا کر حقیقی معنوں میں اپنے سامنے ہتھیار پھینکنے پر مجبور کر رہا تھا۔

سیاست، اقتصادیات اور اجتماعی تحقیقات کے وقف SETA کے محقق اور مصنف جان آجُون  کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

زمانی حوالے سے دیکھا جائے تو قطر کے خلاف یہ کاروائی 21 مئی 2017 کو امریکہ کے  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھی شرکت سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ ایک بین الاقوامی اجلاس کے بعد     کی گئی۔ اس حوالے سے ریاض کے سربراہی اجلاس میں ٹرمپ کے تعاون کی ضمانت حاصل کرنے کے بعد 2 محمد کے طور پر پہچانے جانے والے بن سلمان  اور بن زائد  متحرک ہو گئے۔ یہ ،اسرائیل کے ساتھ مل کر تشکیل کردہ نئے علاقائی ویژن  کے لئے قطر کو  ایک سنجیدہ خطرے کے طور پر دیکھ رہے تھےا ور خواہ کسی بھی قیمت  پر ہو اس خطرے کو ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہو گئے ۔قطر کا، ترکی جیسے کرداروں کے ساتھ مل کر ،عرب بہار  مرحلے  کی وجہ سے ہونے والی علاقائی تبدیلیوں اور مزاحمتوں کے ساتھ تعاون کرنا  اس کی اقتصادی طاقت  کے ساتھ ساتھ میڈیا پاور کو نشانہ بنائے جانے کے بنیادی سبب کے طور پر سامنے آیا۔

لیکن جب ہم پیچھے مُڑ کر گذشتہ ایک سال کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں قطر کے خلاف کی جانے والی ہر کاروائی کے ناکام رہنے کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ ترکی جیسے قریبی اتحادیوں  کے پیش کردہ تعاون اور امکانات  اور قطر کی معتدل اور عقلمندانہ ڈپلومیسی  کی وجہ سے اس پر کئے جانے والے تمام حملے ناکام ہو گئے ۔ نتیجتاً اب امریکہ نے بھی اپنی پوزیشن کو مکمل طور پر تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی طرف سے قطر پر لگائی گئی پابندیاں اب خود ان کے حوالے سے ایک بوجھ میں تبدیل ہو چکی ہیں۔

قطر کے ساتھ ساتھ ترکی کو بھی ہدف بنایا گیا تھا۔ قطر کو ہدف بنانے والے کولیشن کے مطالبات میں سے ایک قطر میں ترکی کی فوجی بیس کو بند کرنا اور دونوں ملکوں کے درمیان جاری فوجی معاہدوں کو ختم کرنا تھا۔ میرے خیال میں اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ  ان کا خیال تھا کہ ترکی کی فوجی مدد ختم ہونے کی صورت  میں قطر ان کے لئے زیادہ آسان ہدف ہو گا جبکہ ترکی کی قطر کی فوجی بیس اور قطر کی فوج کے ساتھ طے شدہ فوجی اور تعلیمی سمجھوتے  قطر کو ان کے خلاف زیادہ مضبوط کردار کی شکل دے رہے ہیں۔دوسری وجہ  یہ ہے کہ علاقے میں ترکی کی فوجی اور سیاسی حیثیت 2 محمدوں اور اسرائیل  کی علاقائی سیاست کے حوالے سے  ایک خطرہ دکھائی دے رہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فلسطین سے لے کر قطر تک کے وسیع اسلامی جغرافیے کو اپنی خواہش کے مطابق ڈیزائن کرنے کے لئے  ان کاروائیوں کے مقابل ڈٹ سکنے والے کرداروں کو ختم  کرنے یا کمزور بنانے کی کوششوں میں مصروف ہو گئے۔ یقینیاً ترکی اور قطر نے ان مطالبات کو رد کیا اور دو طرفہ  مفادات کے اطراف میں فوجی تعلقات کو  بھی جاری رکھا۔ خاص طور پر ترکی کی موئثر سیاست  نے قطر  کے خلاف حملوں کی ناکامی میں اہم کردار ادا کیا۔

اصل میں ترکی کے خیال میں اسے سعودی عرب سے زیادہ متحدہ عرب امارات نے ہدف بنایا اور اس بارے میں متعدد اشارے بھی منظر عام پر آ چکے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے امریکہ کے سفیر یوسف العتبہ کے میڈیا کے ہاتھ لگنے والے  ای میلوں سے یہ کُھل کر سامنے آتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کس طرح  تقریباً ہر پلیٹ فورم پر  ترکی کے مفادات کے خلاف کمپین چلا رہی ہیں۔ لیبیا سے لے کر صومالیہ تک اور شام سے لے کر مختلف علاقوں تک متحدہ عرب امارات کا اسرائیل اور بعض دیگر کرداروں  کے ساتھ مل کر ترکی کو ہدف بنانا نہایت واضح ہے۔ یقیناً ترکی اس سب کا جواب، متحدہ عرب امارات کی طرح رشوت دے کر، کرائے کے آدمی حاصل کر کے یہاں تک کہ بعض دہشت گرد تنظیموں  کو مدد  فراہم کر کے کھیلے گئے گندے کھیلوں سے مشابہہ شکل میں نہیں دے رہا لیکن صومالیہ میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کی طرح  متحدہ عرب امارات کو اس کی زبان میں جس وقت چاہے جواب دے رہا ہے ۔ترکی اپنے سیاسی اداروں اور فوج  کے ساتھ ایک مضبوط حکومت  اور اپنے جغرافیہ میں نہایت موئثر کردار ہے۔ اس کے علاوہ علاقائی استحکام کے لئے عراق اور شام جیسے ممالک میں براہ راست فیلڈ میں  موجود ہے۔ قطر کے ساتھ ساتھ صومالیہ جیسے متعدد علاقائی ممالک میں فوجی اعتبار سے اپنی موجودگی کو مضبوط بنا رہا ہے۔ ترکی یہ دکھا رہا ہے کہ وہ مسئلہ بیت المقدس میں ادا کردہ کردار  کے ساتھ عالم اسلام کی مظلوم عوام کے حقوق کے لئے جدوجہد جاری رکھے  گا۔

 



متعللقہ خبریں