حالات کے آئینے میں ۔ 19

حالات کے آئینے میں ۔ 19

حالات کے آئینے میں ۔ 19

پروگرام " حالات کے آئینے میں " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے اور جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے 24جون انتخانی منشور  کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ انتخابی منشور اقتصادیات، صحت اور داخلہ پالیسی  کے بارے میں صدر رجب طیب ایردوان اور جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے متعدد وعدوں پر مشتمل ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ انتخابی منشور 24 جون کے انتخابات میں صدر رجب طیب ایردوان کے صدر منتخب ہونے کی صورت میں ترکی کی خارجہ پالیسی کے اہداف  اور طریقہ کار پر بھی روشنی ڈال رہا ہے۔

سیاست، اقتصادیات اور معاشرتی تحقیقاتی وقف  SETA کے محقق  اور مصنف  جان آجُون کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

آئندہ دور میں ترکی  کی خارجہ پالیسی کی اہم ترجیحات میں سے ایک یقیناً دہشت گردی کے خلاف جدو جہد ہو گی۔ 15 جولائی کے حملے کے اقدام کے بعد صدر رجب طیب ایردوان نے جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جدو جہد ترکی کی سرحدوں کے اندر تک محدود نہیں رہی بلکہ سرحد پار دہشت گردی کو اس کے گڑھ میں نشانہ بنایا  جائے گا۔ لہٰذا  ترک مسلح افواج نے پہلے آزاد شامی فوج کے ساتھ مل کر فرات ڈھال آپریشن کے ذریعے ترکی کی سرحدوں کو دہشت گرد تنظیم داعش سے صاف کیا اور بعد ازاں شاخِ زیتون آپریشن کے ساتھ تحصیل عفرین  کو PKK/YPG کے دہشت گرد عناصر سے پاک کیا۔ خاص طور پر فرات ڈھال آپریشن کے بعد ترکی کے اندر ایک طویل عرصے سے دہشت گرد تنظیم داعش کے حملے نہ ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ترکی کا نیا موقف کس قدر درست ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ترکی کے اندر دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سکیورٹی فورسز اور خفیہ خبر رسانی کی یونٹیں ملک بھر میں فعال ہیں جس کی وجہ سے متعدد ممکنہ حملوں کا سدباب ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ شاخِ زیتون آپریشن کے ذریعے دہشت  گرد تنظیم  PKK/YPG کے امانوس پہاڑی سلسلے کے راستے ترکی کے ضلع حطائے میں داخل ہونے کا بھی سدباب ہو گیا ہے۔ صدر رجب طیب ایردوان کے اعلان کردہ منشور کو مدّ نظر رکھتے ہوئے توقع کی جا رہی ہے کہ 24 جون کے بعد دہشت گردی کے خلاف نئے سرحد پار آپریشن کئے جائیں گے۔ کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت PKK  کے خلاف عراق کے اندر جاری فوجی آپریشن مزید وسعت کے ساتھ آنے والے دور میں بھی جاری رہیں گے۔ علاوہ ازیں دہشت گردی  کے خلاف جدوجہد کے دائرہ کار میں شام کے شمال میں PKK/YPG کے خلاف نئے فوجی آپریشن بھی ترکی کے منصوبوں میں شامل ہیں۔

صدر رجب طیب ایردوان کے اعلان کردہ منشور میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ترکی نہ تو کسی کی دادا گیری قبول کرتا ہے اور نہ ہی کسی پر دادا گیری کرتا ہے۔ ترکی کا یہ نقطہ نظر خواہ متعدد مغربی ممالک کے لئے بے اطمینانی کا سبب ہی کیوں نہ بنا ہو ترکی پوری دنیا میں اور علاقے میں اپنے قومی مفادات پر نگاہ رکھتے ہوئے اپنی آزاد خارجہ پالیسی کو جاری رکھے گا۔  صدر رجب طیب ایردوان کا ترکی کو ایک گلوبل کردار قرار دینا اس حوالے سے ترکی کے اہداف کو کھلے عام سامنے لا رہا ہے لیکن ترکی نہ تو کسی کی دھونس قبول کر رہا ہے اور نہ ہی کسی کی دھونس کو قبول کر رہا ہے۔ خاص طور پر ترکی کی، استعماریت کی بجائے باہمی احترام کی بنیادوں پر استوار ،افریقہ پالیسی اس کا نمایاں ترین  اظہار ہے۔ ترکی کا، اپنی گراس نیشنل پروڈکٹ کے حوالے سے، دنیا میں انسانی امداد کرنے والا سب سے بڑا  ملک ہونا ترکی کی انسانی خارجہ پالیسی کا ثبوت ہے۔

ترکی کی موثر خارجہ پالیسی  کی پائیداری اور فروغ کے لئے  ضروری ہے کہ ترکی کے دیگر ممالک پر انحصار کو کم کیا جائے اور اسٹریٹجک اہمیت کو بڑھایا جائے۔ اس حوالے سے ترکی کی دفاعی صنعت نہایت اہمیت کے حامل ہے یہی وجہ ہے کہ صدر رجب طیب ایردوان کے انتخابی منشور میں دفاعی صنعت کو  اہم مقام حاصل ہے۔ ترکی نے سال 2011 سے لے کر اب تک دفاعی صنعت میں برآمدات کو 90 فیصد بڑھا کر دنیا میں سب سے زیادہ اسلحے کی برآمد کرنے والے ممالک میں 18 واں نمبر حاصل کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ترکی دفاعی صنعت میں بیرونی انحصار کو 80 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کی سطح پر لے آیا ہے۔

توقع ہے کہ آنے والے ادوار میں ترکی کی دفاعی صنعت میں ترقی کا عمل مزید وسعت کے ساتھ جاری رہے گا۔ خاص طور پر ڈرون طیاروں کے موضوع پر ترکی عالمی سطح پر ایک کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ اس وقت دنیا میں اپنے مسلح ڈرون طیارے خود پیدا کر سکنے والے ممالک میں ترکی چھٹے نمبر پر ہے۔ صدر رجب طیب ایردوان کا یہ بیان کہ "ہم ڈرون ٹینک تیار کریں گے "ترکی کے اہم ٹیکنالوجی  میں جدیدیت لانے والا کردار  ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔

ترکی کا دفاعی صنعت میں مضبوط ہونا خارجہ پالیسی میں اس کے اثر و رسوخ میں اضافہ کر رہا ہے۔ ترکی، دوست اور اتحادی ممالک کے لئے اسلحے کی خرید کے ایک اہم  متبادل کی شکل اختیار کر کے  عالمی منڈی میں اپنا  مقام حاصل کر چکا ہے۔ اس وقت ترکی افریقہ سے خلیجی ممالک تک اور وسطی ایشیاء سے ملائیشیا تک بکتر بند گاڑیوں کی برآمد کر رہا ہے۔ ترکی کا پاکستان کے ہاتھ ATAK ہیلی کاپٹر اور جنگی بحری جہاز  اور قطر  کے ہاتھ TB2مسلح ڈرون طیارے فروخت کرنا  ،اس کی اقتصادیات میں ایک تازگی لانے، تحقیقاتی و ترقیاتی کاموں میں تقویت  پیدا کرنے اور خارجہ پالیسی کے اثر و رسوخ میں اضافہ کرنے کا سبب بنا ہے۔

 



متعللقہ خبریں