عالمی نقطہ نظر 17

ترکی کے 32 ویں عام اور پہلے صدارتی انتخابات

عالمی نقطہ نظر 17

عالمی نقطہ نظر17

 

Küresel Perspektif  / 17

 

Türkiye’nin 32. Genel, İlk Başkanlık Seçimi

 

Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL

 

 

 ترکی میں 24 جون 2018 کو 32 عام اور پہلے صدارتی انتخابات کا انعقاد ہو رہا ہے۔

 ترکی کے پہلے عام انتخابات   دور عثمانیہ یعنی سن 1876 میں ہوئے تھے  جس کے بعد  یہ سلسلہ  سن 1878 ،1908،1912،1914 اور 1919 تک جاری رہا ۔ قیام جمہوریت    میں   واحد جماعتی     نظام کے سمیت    ملک میں 25 بار انتخابات منعقدہوئے  ۔واحد  جماعتی   دور  کا سلسہ سن 1927 سے 1943 تک رہا  جبکہ  کثیر الجماعتی   نظام کا آغاز  سن 1946 سے آج تک برقرار     رہا ہے ۔

  بلا شبہ  ان انتخابات    کی اپنی خاصیت ہوگی   جہاں تک دور عثمانی  کا تعلق ہے تو   اس میں منعقدہ انتخابات کے دوران   روایتی  شاہی  ،خلافتی  اور شیخ الا اسلام  جیسے اداروں    کا عمل دخل  ہوتا تھا ۔

قیام جمہوریت کے  دوران   یعنی سن 1923 تا 1943 تک  واحد جماعتی انتخابات منعقد ہوتے  رہے   جن میں حزب اختلاف کا کردار بالکل نہیں تھا  مگر پھر بھی   ترکی میں انتخابی روایات کا ایک سلسلہ چلتا رہا جو  کہ مغربی فاشزم اور نازی ازم کےبر خلاف  دور عثمانیہ  سے جاری  تھا ۔

 ترکی  سن 1946 کے آغاز سے  کثیر الجماعتی نظام      میں داخل ہوگیا ۔ سن 1876 سے 1943 تک   ترکی میں  انتخابات دو   مرحلہ وار ہوتے تھے جبکہ   سن 1946 سے دور حاضر تک یہ انتخابات واحد مرحلہ  نظام کے تحت منعقد ہوتے چلے آرہے ہیں۔  دو مرحلہ وار نظام  امریکی نظام  سے مشابہہ تھا ۔

 24 جون کو ہونے والے  عام انتخابات کے ہمراہ صدارتی انتخابات   کا اہتما م ہوگا جس کے تحت  عوام  صدر اور ارکان پارلیمان کا انتخاب علیحدہ  علیحدہ ہوگا۔  ترکی میں صدارتی نظام کی ضرورت کیوں لاحق ہوئی اس بات کا  اظہار  راقم نے  سن 2017 کے  ریفرنڈم  سے قبل     اپنی ایک کتاب  میں  کیا تھا ۔

جمہوریت  در حقیقت اقتدار   کی طاقت  سے نہیں بلکہ  جائز حقوق کی روشنی میں پلتی ہے ۔ماضی کے سیاسی نظاموں  کےلیے   ان قوانین   کو مختلف  طریقوں سے  تبدیل کیا گیا  جو کہ بلکہ مستقبل میں بھی ایک   مختلف  روپ اختیار  ہو سکتا ہے  لیکن  آج کی دنیا میں     عوامی حقوق کے تحفظ پر مبنی جمہوری نظام  رائج ہے  لہذا  یہ انتخابات   اس لحاظ سے ہام ہونگے جس کے نتیجے میں   ریاست اور  رعایا کے درمیان فاصلوں کی خلیج مٹے گی اور دونوں  آپس میں براہ راست  رابطہ رکھ سکیں گے۔

 جن سیاسی نظاموں میں معاشرتی  قوانین  کو جگہ نہ ملے وہ ناکام ہو جاتے ہیں جس میں  ارباب  اقتدار  عوام پر  جبر  کرنے اور ان کے حقوق غصب  کرتےہوئے آزادی کے تمام راستے سلب کر  دیتے ہیں جو کہ   بیرونی دنیا میں   اپنی طاقت اور آواز    کو منوانے  میں بھی کمزور رہتے ہیں۔

جمہوریت اور ترقی  کے درمیان  تعلق  پر اگر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتاہے کہ      عوام   کسی بھی سیاسی نظام    میں اُن کے حقوق   کے تحفظ    ہونے یا نہ ہونے کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں۔ آج کی  دنیا کے ترقی یافتہ ممالک  میں جمہوری نظام  پروان چڑھا ہے  جبکہ    مسائل میں گھرے وہ ممالک  ہیں جہاں عوامی حقوق غصب کیے جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے  یہ کہنا مناسب ہوگا کہ  کسی بھی ملک   کے امن  و سلامتی ،ترقی ،استحکام   اور معاشی ترقی کےلیے  جمہوری  اور کثیر الجماعتی  نظام  اشد ضروری ہے  ۔

 جمہوریت و آزادی   اور کثیر الجماعتی  نظام    ملکی معیشت   کی ترقی  میں اہم  ہے جس کی مثال   سن 2000 کی دہائی  کے بعد سے ہمہں نظر آنا  شروع  ہو گئی ۔  ترکی میں 28 فروری کے انقلاب  اور اس کے بعد  کی آمرانہ پالیسیوں   کے نتیجے میں     ترکی میں فی کس آمدنی  کا سالانہ تناسب 2000 امریکی ڈالر تک گر گیا تھا  جو کہ   2002 کے بعد  10000 امریکی ڈالرز سے تجاوز  کر چکا ہے۔

  ترکی کی سیاسی  تاریخ   کے 142 سالہ  عام انتخابی ادوار  پر اگر نظر ڈالی  جائے تو معلوم ہوتاہے کہ    اس ملک میں   جمہوری نظام   کی  اہمیت اور اس کے  نفاذ کےلیے کوششیں  جاری رہیں۔ یہ شکر ہے کہ   ترکی  نے اطالوی فاشزم اور جرمن نازی ازم  جیسے نظاموں  سے پرہیز کیا ۔ سن 2000 کے بعد   ترک ارباب اقتدار    نے  ملک میں آزادی اظہار  اور جمہوری روایات کو پروان چڑھانے  میں کردار ادا کیا  جو کہ مغربی ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے ۔

ترکی  کے  142 سالہ سیاسی تجربات  پر اگر نظر ڈالی جائے   تو  معلوم ہوتا ہے کہ   یہاں  انتخابات الیکشن کمیشن  کی نگرانی  میں   انعقاد  کروانا ،ان میں سیاسی جماعتوں کا بھرپور حصہ لینا  اور شفافیت   کا عملی مظاہرہ   کرنا   ظاہر کرتا ہے کہ    شائد    دنیا میں  کوئی ایسا ملک ہو  جہاں  انتخابات  کا انعقاد اتنے اہتمام  سے کیا جاتا ہو ۔

 

 یہ جائزہ آپ کی خدمت میں  انقرہ کی یلدرم بایزید یونیوسٹی  کے  شعبہ سیاسی علوم کے پروفیسر ڈاکٹر قدرت بلبل کے قلم سے پیش کیا گیا ۔



متعللقہ خبریں