ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 16

امریکہ اور روس کے درمیان شام کے حوالے سے تناو اور اس کے پوری دنیا پر ممکنہ اثرات

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ  16

ہم  اس وقت عالمی تعلقات  میں وقت کے بہاؤ میں تیزی آنے والے  ایک دور سے گزر رہے ہیں، آج کی  قسط میں  عالمی سطح پر  آنے والی تبدیلیوں  کے  شامی بحران اور ترکی پر اثرات کے جائزے کا اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کے قلم سے مطالعہ کیجیے۔۔۔۔۔۔۔۔

کرہ ارض کے یکسانیت کی حامل ایک   کمیت کے طور پر  ذکر کرنا اب  قدرے  مشکل بنتا  جا رہا ہے۔ عالمی  فریموں کی تشکیل  کی کوششوں کو  ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تحفظاتی   بلندی   کے عمل میں عالمی تجارتی مرکز کی  حالیہ کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئیں۔  سائبر   فیلڈ کے استعمال کے حوالے سے  چند ایک اصولوں پر ہی کاربند ہونا لازمی ہوتا ہے۔  علاقوں سے تعلق رکھنے والے  طریقہ کاروں  اور غلط طریقہ کاروں کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال کی بہترین   مثال عصرِ حاضر  کے مشرق وسطی اور شام میں  پیش آنے والے  واقعات   ہیں۔

قلیل مدت پیشتر برطانیہ اور امریکہ کی قیادت میں  20 سے زائد مملکتوں نے روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کر دیا۔ روس  نے بھی  اس  حرکت کا فوری  جواب دیتے ہوئے   60 غیر ملکی سفارتکاروں کو   ملک سے  نکلنے  کا حکم جاری کر دیا۔ اس پیش رفت  کے تھوڑے ہی عرصے بعد اسد انتظامیہ نے  دوبارہ کیمیائی اسلحہ استعمال کیا۔ اس سے ایک برس  پیشتر بھی ٹرمپ حکومت نے اسی جواز میں  ملکی انتظامیہ کے  فوجی اڈوں کو 59 ٹام ہاک میزائلوں کے ساتھ نشانہ بنایا تھا۔  اب ایک سال بعد   ایک بار پھر امریکہ کی قیادت کے اتحادیوں نے  اسد انتظامیہ  کے خلاف فضائی حملے کیے۔ لہذا ایک بار پھر نگاہیں شام کی جانب مڑ گئیں اور اب یہ سوال  کیا جا رہا ہے: "کیا دنیا ایک دوسری سرد جنگ ک دہلیز پر ہے؟"

ہماری آج کی دنیا 1939 تا 1991 کے دور  کی نظریاتی  قطب  پذیری   کی دنیا سے  ہٹ کر ہے ۔ یہ پہلی جنگ عظیم سے قبل  کے دس برسوں  کی صورتحال  سے زیادہ قریب ہے۔ ہم اسوقت عالمی و علاقائی طاقتوں  کے بلندی  کے بعد زوال پذیری کا شکار ہونے والے  ایک دور میں قومی طاقت کی   حامل جنگوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ سن 1945 تا 1989  کے دور کی طرح ایک عظیم آئیڈیالوجیک  جنگ  کا خطرہ موجود نہیں  اور نہ ہی کسی آہنی دیوار کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔ ایک اصولی عالمی طاقت سمیت (امریکی حاکمیت میں کمزوری لانے  کی خواہاں  لیکن اس ہدف کو عمل جامہ پہنا سکنے کی حد تک تا حال طاقت حاصل نہ کرسکنےو الی)  اتار  چڑھاؤ کے دور سے گزرنے والی طاقتوں کو وجود پایا جاتا ہے۔ یہ صورتحال اس موضوع میں دلچسپی لینے والے ماہرین کے درمیان بعض ناچاقیوں کے جنم لینے کا موجب بھی بن رہی ہے۔ بعض اوقات موجودہ  حالات  کو با معنی بنانے  کے  لیے سرد جنگ   کے ماضی  کی جانب جھکاؤ کا مشاہدہ ہوتا ہے۔  لیکن یہ ایک  صحیح  مشابہت نہیں ہے۔ موجودہ حالات زیادہ تر انیسویں صدی کے دوسرے نصف  سے ملتے جلتے ہیں۔ وہ دور منظر عام پر آنے والی نئی  بڑی طاقتوں  کے درمیان  رقابتوں کا دور  تھا،  یعنی    اسوقت  باہمی تعلقات میں نظریاتی  حق بجانب   کی سوچ نہیں قومی مفادات پیش پیش تھے۔ لہذا ہم  اس  چیز کو  باآسانی کہہ سکتے ہیں کہ ہم کسی دوسری سرد جنگ کے دہانے پر نہیں ہیں۔

عصر حاضر میں مشرق وسطی میں امریکی خارجہ پالیسی زیادہ تر آئیڈیالوجیک ترجیحات پر نہیں بلکہ طاقت کے بل بوتے پر وضع کی جاتی ہے۔ مثلاً  سعودی عرب ۔۔ یہ جمہوری ملک   نہیں اور مفاہمت کے اعتبار  سے مغرب کے لیے  ریڈیکل ملک ہے  تا ہم اس کے پاس تیل کے ذخائر ہیں اور امریکی تحفظ کے  بدلے  یہ تیل کو صرف  ڈالر  کرنسی  کے ساتھ ہی فروخت کرنے کاخواہاں ہے۔ دوسری جانب  مصر  میں فوجی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، یہ امریکی مفادات سے ہم آہنگ ہے اور اسرائیل کے لیے خطرہ تشکیل نہ دینے کے باعث اسے  امریکی حمایت و تعاون  حاصل ہے۔

ایران  نے داعش کے خلاف جنگ  کی آڑ میں عراق میں اپنا با ضابطہ اثرِ رسوخ قائم کیا اور شامی سر زمین  کو ایرانی  بری افواج اور اپنے فوجی اڈوں  کو قائم کرتے ہوئے اس  نے اسد حکومت کو ایرانی  قائمقام طاقت  کی  ماہیت دے رکھی ہے۔ فطری طور پر یہ امریکہ کے لیے ایک  نا خواہش کردہ صورتحال ہے اور  یہ ایران کو بحیرہ روم   کے ساحلوں تک  نہیں دیکھنا چاہتا۔ اسوقت تمام تر  پیش   رفت ٹرمپ کے ایران کے ساتھ طے پانےو الے  جوہری معاہدے سے عنقریب دستبردار ہونے کا اشارہ دیتی ہے۔  یعنی واشنگٹن  ، تہران کے ساتھ خصومت کے  دہانے  پر ہے۔

امریکہ کو اسوقت   جس چیز کی اشد  ضرورت ہے وہ  مشرق وسطی میں ایک پُر استحکام متوازن طاقت  بننا ہے۔ خارجہ پالیسی   کے معاملے میں امریکہ سے بتدریج  خود مختاری   اور آزادی حاصل کرنے والا ترکی ایک علاقائی  حکمرانی اور طاقت کے طور پر اُبھر رہا ہے۔ لہذا  امریکہ  ترکی  کو اپنے زیر اثر لینا چاہتا ہے۔ اس نکتے پر امریکہ کو یہ سوچ بالائے طاق رکھنی چاہیے؛ ترکی اور ایران  کو ایک حد میں رکھا جانا ان دونوں  ملکوں کو روس کے مزید قریب کر دے گا۔ جوہری  معاہدے کو کالعدم قرار دینا اور ایران پرنئی پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کرنا ، یورپی یونین کو ایران سے  تیل کی درآمدات    سے باز رکھنے پرآماد کرنے کا مفہوم   پیدا کریں گی  جو کہ   یورپی یونین   کے روس پر انحصار میں قابل ذکر حد تک اضافے کا  موجب بنے گا۔

دوسری جانب اسوقت شام علاقائی حتیٰ عالمی  روش کو بدل سکنے  کی ماہیت اختیار کر چکا ہے۔ شامی فضائی حدود  میں کسی بھی  وقت جان بوجھ کر یہ انجانے میں کنٹرول سے  نکلنے والے تصادم کا فیتہ  آگ  پکڑ سکتا ہے۔ تا ہم ،  یہ چیز بھی بیان کرتے چلیں کہ  مستقبل قریب  کا اہم اور سنگین  ترین  تصادم  PKK/ وائے پی جی کی  علاقے سے صفائی یا عدم صفائی  پر  ہوگا۔ کیونکہ  PKK/ وائے پی جی کی حیثیت  محض اس تنظیم کی شام میں طاقت  اور وجود پرنہیں  بلکہ  بیک وقت مغرب کے شام  میں اپنے اثر رسوخ میں گراوٹ لانے  کی  حقیقت  سے تعلق رکھتی ہے۔ اس بنا پر ترکی۔روس اور ایران کے مابین شام میں تعاون میں اضافہ ہونے  کے ساتھ ساتھ ، امریکہ۔فرانس اور برطانیہ    کی طرح  کے ممالک PKK/ وائے پی جی کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں  اپنے وجود میں طاقت لانے کے درپے ہیں۔

انقرہ کے ترکی۔روس۔ایران سہہ فریقی اجلاس میں شامی  سر زمین کی سالمیت کے فیصلے تک پہنچنا امریکہ  کے PKK/ وائے پی جی سے تعلق اور دریائے فرات کے مشرقی علاقہ جات میں   اس کے وجود کے خلاف   ایک واضح انتباہ  کے  مترادف ہے۔ ترکی کے لحاظ  سے  یہ مسئلہ اپنی سلامتی  و تحفظ کے لیے ایک حکمت ِ عملی خطرہ  تشکیل دیتا ہے۔ ایران کا یقین ہے کہ یہ علاقہ اس کے  خلاف  امریکی کاروائیوں کا ایک مرکزی  اڈہ بنے گا، جبکہ روس کا خیال  ہے کہ طویل مدت  تک  امریکی اثر رسوخ  شام میں  بنیادی  حیثیت  برقرار رکھے گا۔ اس بنا  پر یہ  آئندہ کے سلسلے میں منبج اور فرات کے مشرقی علاقہ  جات میں اپنے دباؤ  کو   مزید

بڑھائے گا۔ منبج کا معاملہ  اس بنا پر سہہ فریقی اجلاس  کے نتائج سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے  معاملات   میں شامل ہے۔ ترکی  کا اولین طور پر تل رفعت پر  کنٹرول سنبھالنا اور بعد ازاں منبج پر دباؤ ڈالتے ہوئے امریکہ اور PKK/ وائے پی جی  کو دریائے فرات کے مشرقی مقامات کو پیچھے  ہٹنے  پر مجبور کرنے والے کسی  سلسلے کا آغاز علاقے میں طاقت کے توازن اور شام کے مستقبل  کو متاثر کر سکنے والا ایک حکمت عملی حربہ ہو گا۔



متعللقہ خبریں