اقتصادی جائزہ - 10

جسٹس اینڈ  ڈولپمینٹ پارٹی   کے برسر اقتدار  آنے سے لے کر اب تک  ترکی میں  کثیر الجہتی  پالیسی  پر عمل درآمد کرنے کا سلسلہ جاری ہے

اقتصادی جائزہ - 10

ترکی سن 2005 سے براعظم افریقہ  کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دینے ،تجارتی حجم   کو بڑھانے اور  تعاون کو فروغ دینے کے لیے  شروع کردہ  کاروائی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ترکی کے افریقی ممالک کے ساتھ   دیگر سامراجی قوتوں   سے ہٹ کر  پالسی اختیار کرنے  کی وجہ سے افریقی ممالک میں  بڑی  اچھی  نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور اسی وجہ سے اس کی اہمیت میں اضافہ  ہوتا جا رہا ہے۔

یلدرم بیاضد یونیورسٹی کی فیکلٹی آف سائنسز  کے شعبہ اقتصادیات  کے پروفیسر  ڈاکٹر  ایردال   تاناس  قارا گیول  کے جائزے کو آپ کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

جسٹس اینڈ  ڈولپمینٹ پارٹی   کے برسر اقتدار  آنے سے لے کر اب تک  ترکی میں  کثیر الجہتی  پالیسی  پر عمل درآمد کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ترکی نے  ماضی میں  نظر انداز کیے جانے والے  تمام علاقوں میں گہری دلچسپی لینا شروع کردیا ہے۔  نظر انداز کیے جانے والے علاقوں میں بلاشبہ افریقہ بھی شامل ہے ۔

براعظم افریقہ  اپنے قدرتی وسائل  اور نوجوان افرادی قوت  کی بدولت مستقبل میں ترقی کے درخشاں  مواقع فراہم کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب کئی ایک ممالک نے اس براعظم میں کشش محسوس کرنا شروع کردیا ہے۔

ترکی  نے افریقی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو  1990 سے    فروغ دینے کا سلسلہ شروع کیا تھا ۔ سن 1998 میں  افریقہ کے ساتھ تعلقات  کے فروغ دینے  کے لیے شروع کردہ  افریقہ ایکشن پلان  کے ذریعے  ان تعلقات کو عملی جامہ پہنانے کا سلسلہ  شروع کیا۔  اس طرح ترکی نے افریقی ممالک کے ساتھ اعلیٰ سطح کے وفود کے تبادلے ،انسانی امداد   اور افریقی ممالک   کے ساتھ سفارتی تعلقات   قائم کرنے اور  اور اپنے نئے نئے سفارت خانے  کھولنے سے افرقی ممالک کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز   ہوا۔

سن 2005  میں ترکی " افریقہ سال" کے طور پر  منانے کا  اعلان کرنے  اور ترکی کے افریقی یونین میں مبصر کی حیثیت سے شرکت  کرنے کے علاوہ ترکی کے افریقی ڈولپمینٹ بینک  کی رکنیت  حاصل کرنے  سے  ترکی کے افریقی ممالک کے درمیان تعلقا ت  کے سنہری دور کاآغاز ہوا  ۔سن 2005 میں شروع ہونے والے افریقی ممالک کے ساتھ یہ تعلقات  اقتصادی لحاظ  اور سیاسی لحاظ سے  تعلقات کو بھی مضبوط بنانے کا وسیلہ بنے ہیں۔

افریقہ اور ترکی کے  درمیان تجارتی اور اقتصادی    لحاظ سے تعلقات کو مضبوط بنانے  کے لیے کئی ایک سمجھوتوں پر دستخط کیے گئے۔ گلوبل   تجارت کے لحاظ سے بھی  افریقوی ممالک کے ساتھ   کئی ایک سمجھوتوں پر دستخط کیے گئے۔   خاص طور  پر  سن 2011 اور 2015 کے درمیان عرصے کے دوران  تمام ہی افرقی ممالک کے ساتھ ترکی کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا ۔

افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات میں خارجہ تجارت کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے اور سن 2005 اور 2011 کے درمیانی عرصے کے دوران  ترکی کی جس افریقی ملک کے ساتھ  سب سے  زیادہ تجارت ہوئی  وہ بلاشبہ مصر تھا اور مصر کے ساتھ  16 بلین  61 ملیں ڈالر تھی ۔ مصر کے بعد 9 بلین  192 ملین ڈالر سے الجزائر  اور 9 بلین  120 ملین ڈالر سے   لیبیا ، پانچ بلین  225 ملین ڈالر سے  مراکش اور  4 بلین  225 ملین ڈالر سے  تیونس کا نمبر آتا ہے۔

مصر  سے  7 بلین  3 ملین کی درآمدات،  جنوبی افریقہ سے  6 بلین   832 ملین ڈالر  ، الجزائر سے  4 بلین  451 ملین ڈالر ، مراکش سے  3 بلین  925 ملین  اور تیونس سے  4 بلین  225 ملین ڈالر کی درآمدات کی گئی ہیں۔

ترکی نے براعظم افریقہ کے ساتھ  کنسٹرکشن کے شعبے میں بھی تعاون کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور ترکی نے کئی ایک منصوبو ں  کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔  ترکی نے غیر ممالک میں جتنے بھی ٹھیکے حاصل کیے  ہیں  ان میں افریقی ممالک کا حصہ   17.5 فیصد  لگ بھگ ہے۔  ترکی نے سب سے زیادہ  ٹھیکے   لیبیا اس کے بعد   الجزائر، مراکش، ایتھوپیا ، نائیجریا،  سوڈان اور کیمرون میں حاصل کیے ہیں ۔

 ترکی نے  تکنیکی لحاظ سے بھی افریقی ممالک کے ساتھ بڑے گہرے تعلقات قائم کررکھے ہیں   ۔ ترکی کے تعاونی اور ترقیاتی ادارے  تیکا  نے افریقی ممالک      کے ساتھ قریبی تعلقات قائم رکھتے ہوئے  تمام افریقی ممالک    کو   تعاون فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

علاقہ ازیں ترکی نے افریقی ممالک میں ترکی زبان سکھانے کے لیے   یونس ایمرے انسٹیٹیوٹ بھی خوحل رکھے ہیں  جہاں ترکی زبان کی افراقی باشندوں کو تعلیم و تر بیت دی جاتی ہے۔

ترکی نے افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے دوران سامراجی ممالک سے ہٹ کر پالیسی اختیار کررکھی ہے ، ترکی مساوات کے تحت ان تمام افریقی ممالک سے  بڑے خوشگوار تعلقات قائم  کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔

 



متعللقہ خبریں