عالمی نقطہ نظر 10

با شعور اور اعتدال پسند مغربی دنیا :ایک ضرورت

عالمی نقطہ نظر 10

عالمی نقطہ نظر10

Küresel Perspektif  / 10

“Ilımlı Batı” İhtiyacı

Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL

یہ ہم جانتے ہیں کہ   تاریخی واقعات بنی نوع انسان کے لیے عبرت آموز بن  سکتے ہیں لیکن افسوس کے آج کا انسان   ان سے عبرت لینے  میں عار محسوس کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ ماضی کے تلخ تجربات ،ظلم و مصائب  اور انسانی فلاکتوں    کی دھول نہ کریدی جائے۔

  گزشتہ صدی    کے دوران  مغرب کو  دو بڑی  او رہولناک جنگوں  کا  سامنا کرنا پڑا  جس کے بعد  اس نے    انسانی احترام   و روایات  پر مبنی پالیسیاں مرتب دینا شروع کر دیں جس کے نتیجے میں یورپی یونین  کا قیام عمل  میں آیا جس سے اس خطے میں  امن و سکون  کا دور شروع ہوا اور  باہمی تعاون ،انسانی احترام اور جمہوری اقدار    کی داغ بیل  ڈالی گئی ۔

مگر یہ سلسلہ زیادہ عرصے تک نہ چل سکا  اور دنیا کو  بحران میں دھکیلنے    کی شروعات ہوئی ، حال ہی میں  امریکہ،شمالی کوریا اور روس کے  بیانات اس بات کی غمازی کر رہے ہیں  جوہری اسلحے کی دوڑ میں کون بازی مارے گا اور اس دنیا کو جہنم میں تبدیل کرنے میں پہل کرےگا۔

مغرب ،حقوق انسانی  کے طرز فکر ،آزادی  ،مذہبی اعتقاد کی حریت  اور مختلف طرز معاشرت   کے احترام  کے حوالے سے کسی کھائی میں گرتا نظر آرہا ہے بالخصوص اسلام  اور مہاجرین کے خلاف   اس کی دشمنی  صاف ظاہر ہے ۔ جرمن   دفتر داخلہ کے مطابق ، گزشتہ سال  صرف جرمنی میں مسلمانوں ہر  950 حملے کیے گئے  مگر دنیا کی زبان پر چپ کے تالے لیکن اگراسی تعداد میں یہ حملے کسی یہودی یا مسیحی برادری پر ہوتے تو دنیا نے اتنا ہنگامہ کھڑا کرنا تھا  کہ جس کی امید کی جا سکتی ہے ۔  یہ ضروری ہو گا کہ مغرب    کی اس تنگ نظری اور شدت   کے اثرات دیگر خطوں پر اثر انداز نہ ہوں ۔مغرب میں  ہونے والے یہ حملے جرمنی تک ہی محدود نہیں ہیں مگر کیاں کریں وہاں کا ذراع ابلاغ  ان پر واقعات  پر  اپنی زبان  بند رکھتا ہے۔ حتی امریکہ  اور دیگر یورپی ممالک  میں بسے مسلمان  کس خوف اور غیر یقینی   کی کیفیت  میں  اپنی زندگی گزار رہے ہیں اس  کا اندازہ لگانا آسان ہے۔

مغربی ممالک کی اکثریت  ،بے یارو مددگار  اور مہاجرین    کو  پناہ دینے میں  بخل کا مظاہر ہ کر رہے ہیں مگر  فیتو تنظیم،پی کےکے   اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے کارندوں  کو یورپ میں آزادانہ گھومنے پھرنے کی اجازت حاصل ہے    ۔

دوسری جانب  مغربی دنیا   کی سیاست  میں جہوریت پسندوں  اور انسانی آزادی کے حامیوں کی تعداد   میں کمی جبکہ  نسل پرستوں،فاشسٹ پسندوں  اور نازی  نظریات  کے متوالوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے حتی بعض ممالک  میں انہیں اقتدار کی کرسی بھی نصیب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج  کی دنیا میں مغربی دنیا ،  صبر و تحمل ،انسانی اقدار  ،جمہوریت پسندی  اور دیگر ممالک کے لیے خطرات   کا پیش خیمہ بنتی جا رہی ہے ۔

ذرا دیر کےلیے سوچیے کہ اگر  مغربی ممالک    کا یہ جوہری اسلحہ ،کیمیائی بموں کا ذخیرہ  کسی انتہا پسند  انتظامیہ کے ہاتھ لگ جائے  تو دنیا کے اس بچے کچے امن   اور انسانی اقدار   کا  انجام کیا ہوگا۔ اس اسلحے    کے استعمال کا خیال ہی ہمارے رونگٹے کھڑے کر دینے  کےلیے کافی ہے  کیونکہ جدید دنیا کا کیمیائی اسلحہ  اتنا تباہ کن  ہے کہ جس کے سامنے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے کرب ناک واقعات  معمولی نظر آئیں گے،بعض  مستقبل شناس مصنفین نے  ایسی کتابیں لکھنا شروع کر دی ہیں جن میں قیامت    برپا کرنے کی صلاحیت  الہی طاقت کے بجائے انسان کے ہاتھ میں  دینے کا ذکر   کیا جا رہا ہے۔

آج  کی دنیا میں  مختلف نظریات اور اعتقاد  کو ختم کرنے کےلیے حقوق انسانی ،آزادی  اور عالمگیری اقدار    کی  پامالی  کےلیے ہر طرح کے ہتھکنڈوں کا استعمال جائز قرار دیا جا رہا ہے   جو کہ ایک قابل تشویش  امر ہے ۔

مغربی دنیا  کی یہ  روش آج کل   اس بات کا پیغام  بنی ہوئی ہے  کہ دنیا کو اس وقت  باشعور مغرب کی نہیں بلکہ  با  شعور  مسلمان قیادت  کی زیادہ ضرورت ہے  ۔یورپ اور امریکہ میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی خدشات  کو ہوا دے رہی ہے  جس کی لپیٹ میں  پوری دنیا آ سکتی ہے ۔ یورپ میں دائیں اور بائیں  بازو  کی سیاسی جماعتوں    کی  مقبولیت میں کمی   اور اعتدال و جمہوریت پسندوں کی آواز کا دبایا جانا  صرف یورپ   کے مستقبل کے حوالے سے خطرناک نہیں  ہے بلکہ یہ صورت حال  اس بات  کی ترجمان ہے کہ یورپ  آہستگی سے  انتہا پسندوں     کی   آماج گاہ بن رہا ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے   کہ ہمیں  اس کرہ ارض   کو امن  کا گہوارہ بنانےکے لیے  ایک با شعور، اعتدال پسند  اور انسان دوست مغرب سے تعاون کو یقینی بنایا جائے۔

 یہ جائزہ آپ کی خدمت میں  انقرہ کی بایزید  یلدرم یونیورسٹی کے شعبہ سیاسی علوم کے پروفیسر ڈاکٹر  قدرت بلبل کے قلم سے پیش کیا گیا ۔

 



متعللقہ خبریں