عالمی نقطہ نظر 09

سرد جنگ کی باقیات اور ترکی کا بغاوتی دور

عالمی نقطہ نظر 09

عالمی نقطہ نظر09

 

Küresel Perspektif  / 09

 

 28 Şubat: Soğuk Savaş Vesayetinin Son Darbesi

Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL

 

آج سے 21 سال قبل  یعنی 28 فروری 1997  کو  ترکی میں  فوجی بغاوت  کی گئی  تھی  ۔ ترکی درحقیقت ان فوجی بغاوتوں  سے ماضی سے آشنا رہا ہے  جو کہ تقریباً ہر دس سالہ عرصے  میں   ضرور  فوجی بغاوت ہوئی ہے     جیسا  کہ   سن7 1960،1971،198،1997،200 اور آخری بار جولائی 2016  میں ہوا۔

 سن 1997   اور سن 1980 میں اگر موازنہ کیا جائے تو یہ عرصہ ذرا طویل نظر آتا ہے ۔

  ترکی  جیسے ممالک   کا المیہ یہ رہا ہے کہ انہیں  عالمی سامراجی طاقتوں کی جانب سے   ہمیشہ ہی دباو میں رکھا گیا ہے    تاکہ ان کی ترقی کے راستے روکے جا سکیں   جرمنی کی مثال لے لیجیئے   جس نے دو دفعہ اپنے نظام میں تبدیلی لانا چاہی مگر نتیجے کے طور پر    کیا ہوا اسے ایک صاحب  دستور   فوجی طاقت  ملی اور اسلحے    کی دوڑ میں حد بندی کا پابند بنا دیا گیا ۔

 ترکی میں  فوجی بغاوت کے نتیجے میں سابق وزیراعظم مرحوم عدنان  میندریس کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا  جن کے دور میں  ترکی میں ترقی کا نیا دور شروع ہوا تھا  اور عالمی  ممالک  ترکی کی استعداد سے واقف ہوئے تھے ۔اصل میں  ان فوج بغاوتوں کا مقصد  ترک قوم کو اپنے دباو میں رکھنا تھا ۔

ترکی کے سابق وزیراعظم مرحوم علی عدنان مندیریس

 

 گزشتہ دنوں   سی آئی اے کے سابق سربراہ  جیمز وول سی  نے امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کے بارے میں جاری  کاروائی کے دوران  اٹارنی رابرٹ مولر    کے سامنے   اس بات کا اعتراف کیا  کہ امریکہ دیگر ممالک کے ذاتی معاملات میں مداخلت کرتا رہا ہے ۔ یاد رہے کہ سن 1980 کی فوجی بغاوت کے بعد   امریکی قومی سلامتی کے مشیر پال ہینز نے  سابق امریکی صدر  جمی کارٹر سے کہا تھا کہ ہمارے اہلکاروں نے اپنا کام پورا کر دیا ۔

90 کی دہائی   ترکی  کے لحاظ سے   مرحوم  ترگت اوزال  کی زیر قیادت اقتصادی اعتبار سے نمایاں رہی  بعد میں  رفاح پارٹی   کا دور حکومت آیا جس میں مرحوم نجم الدین اربکان    کی قیادت نے ملکی ترقی میں مزید اضافہ کیا    مگر افسوس  مغربی طاقتوں نے ایک بار پھر  ترقی کی راہ میں روڑے اٹکانے کےلیے  28 فروری  1997 کو فوجی بغاوت کر دی ۔

28 فروری کے دن انقرہ کے قصبے سنجان  کے مرکز سے اس بغاوت کا آغاز ہوا  اور ٹینکوں نے  شہر کی سڑکوں پر گشر کرنا شروع کر دیا  جس کے بعد فوجی دباو کے تحت ملکی منصفین،افسران بالا  اور دیگر اعلی حکم نے فوج     کی  حمایت میں  ملک میں  قدامت پسندی  کا شور مچانے      میں بھرپور حصہ لیا ۔

 اس بغاوت کے نتیجے میں  عدم استحکام   کا شکار ملک ہوا  ،مخلوط حکومتیں ناکام ہوئیں،لوگوں کو عصوبتیں جھیلنا پڑیں اور بنیادی حقوق سلب کیے گئے حتی لوگوں نے  تنگ آکر  خود سوزیاں بھی شروع کر دیں ۔

 

سابق وزیراعظم مرحوم نجم الدین اربکان

 سن 2002 تک   ترکی کی اقتصادی ترقی نہ ہونے کے برابر تھی اور وہ بد عنوانی،رہزنی اور دیگر سیاسی جرائم     کا گڑھ بن چکا تھا ۔

28 فروری   ترکی کی تاریخ کا سیاہ دن  تھا جس نے اپنے پیچھے انتہائی کرب ناک  واقعات     چھوڑے ہیں  لیکن آج صورت حال قدرے مختلف ہے  اور دنیا یہ جان گئی ہے کہ ترکی سے اب  کھیل کھیلنا   یا اپنی من مانی کروانا ممکن نہیں ہے۔آج جب ماضی پر نظر ڈالتے ہیں  تو یہ کہنا    ضرور پڑتا ہے کہ 28 فروری  کی وجہ سے  قوم اور ملکی باگ دوڑ کو ایک نئی راہ ملی  کیونکہ  اس دور میں  فتح اللہ گولن تنظیم کے بجائے دیگر تمام     سماجی و  دینی جماعتوں  کو ختم کیا گیا تھا جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ  انہی  ملک دشمن طاقتوں نے   گولن تنظیم    کو   15 جولائی تک  اپنے ہاتھ میں کٹھ پتلی بنائے رکھا  تاکہ وقت آنے پر اسے استعمال کیا جا سکے مگر  نتیجہ اس کے بر عکس نکلا اور  ترک قوم نے اس بغاوت   کی کوشش کو  صدر ایردوان کی قائدانہ  رہنمائی    میں ناکام بناتےہوئے اپنا خون بہا نے سے بھی دریغ نہیں کیا  اور  افسوس قوم کو  250 شہدا  ئے ملت  کا بوجھ برداشت کرنا پڑا اور 2000 افراد زخمی ہوئے۔

یہ وہ جذبہ ہے جس نے ملک و قوم  کے وقار اور اس کے درخشاں مستقبل  کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔

 یہ کہنا  غلط نہ ہوگا کہ   دنیا کی سامراجی طاقتیں دیگر ممالک   کے جمہوری اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کو  ترجیح دیتےہیں جن کی بار آوری کےلیے  فوجی ،دینی یا سیکولر  گروہوں  کو حسب منشا اپنا غلام بنا  لیتے ہیں۔

لہذا   ایک محفوظ سیاسی نظام اور  فرض شناس افسر شاہی   کسی بھی ملک کے استحکام کےلیے ضروری ہے    جس  سے سبق سیکھتےہوئے   ترکی نے  ترقی کی راہوں  پر گامزن ہونا سیکھ لیا   اور دیگر ممالک کےلیے ایک مثال تشکیل دی ہے ۔

 

 یہ جائزہ آپ کی خدمت میں  انقرہ    کی یلدرم بایزید یونیورسٹی کے  شعبہ سیاسی علوم کے پروفیسر ڈاکٹر  قدرت بلبل کے قلم سے پیش کیا گیا ۔

 



متعللقہ خبریں