پی کے کے/کے سی کے دہشت گرد  تنظیم کا  منشیات کی تجارت میں کردار

حاٖیہ چند برسوں  کے دوران بین الاقوامی   اداروں کی جانب سے   شائع ہونے والی   منشیات اور دہشت گردی سے متعلق رپورٹوں میں   خاص طور پر  دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے  منشیات سے حاصل کردہ مالی وسائل کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کا پتہ چلتا ہے

پی کے کے/کے سی کے دہشت گرد  تنظیم کا  منشیات کی تجارت میں کردار

دہشت گردی  اور  منشیات کاتعلق

دنیا  کو اس وقت جن  اہم  خطرات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے بلاشبہ اس میں منشیات   کی اسمگلنگ اور انسانیت کے پر پڑنے والے اثرات شامل ہیں جن میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر       نوجانوں اور نئی نسل کے لیے  اییک بہت اہم مسئلے کی حیثیت رکھنے   والی منشیات   دراصل  تجارت میں اپنے مفادات کرنے والوں  کے لیے یہ  مالی وسائل فراہم کرنے کا بھی وسیلہ ہے۔

حاٖیہ چند برسوں  کے دوران بین الاقوامی   اداروں کی جانب سے   شائع ہونے والی   منشیات اور دہشت گردی سے متعلق رپورٹوں میں   خاص طور پر  دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے  منشیات سے حاصل کردہ مالی وسائل کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کا پتہ چلتا ہے۔ وہ  اس سے حاصل کردہ رقوم سے  بھاری اسلحہ   خریدتے ہوئے دکھائی دیتی ہیں۔ عالمی منشیات رپورٹ  میں منشیات  کی تجارت  کا حجم   320 بلین ڈالر بتایا گیا ہے۔  اور اس رقم سے   جرائم اور دہشت گردی کو فروغ دینے میں بھی مدد مل رہی ہے۔  سن 2016 کی منشیات  سے متعلق یورپ کی رپورٹ میں  یورپی یونین  کے علاقے میں منشیات کی تجارت سے  24 بلین ڈ یورو  کی  آمدنی حاصل کیے جانے کا پتہ چلتا ہے۔  

دہشت گردی اور منشیات کا ایک دوسرے سے  گہرا واسطہ ہونے  کے بارے میں  نتیجہ اخذ کرنا غلط نہ ہوگا۔ منشیات کی اسمگلنگ سے بڑے پیمانے پر  رقوم حاصل کرتے ہوئے  دہشت گردی کے لیے وسائل پیدا کیے جاتے ہیں۔  علاوہ ازیں   منشیات سے حاصل کردہ رقوم کو بلیک منی کو قانونی حثیت دینے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ منشیات اور دہشت گردی کا ایک دوسرے  چولی دامن کا ساتھ چلا آرہا ہے۔

ان باتوں سے عیاں ہوتا ہے کہ   دہشت گرد  تنظیمیں غیر قانونی طور پر  منشیات کی اسمگلنگ سے   مالی وسائل حاصل کرنے ی کی کوششوں کے ساتھ ساتھ   انسانیت کو بھی منشیات کے چنگل میں ڈالتے ہوئے ان  کو نقصان پہنچانے کے درپہ ہیں۔  اور یوں یہ تنظیمیں  انسانی نسل کو تباہ کرنے میں مصروف ہیں۔

یہ حقیقت ثابت ہو چکی ہے کہ  ترکی میں سر گرم عمل تنظیموں میں سر فہرست پی کے کے / کے سی کے  نے بھی منشیات کی سمگلنگ سے رقوم حاصل کی ہیں  اور منشیات کی پیداوار اور تجارتی سر گرمیوں کے  تمام مراحل  میں وہ شریک رہی ہے ۔ یہ دہشت گرد تنظیم منشیات کی تجارت اور پیداوار کی سرگرمیوں کو ترک  اور عالمی رائے عامہ سے خفیہ رکھنے میں کامیاب رہی ہے ۔تنظیم کے اہم منتظمین کی گرفتاری اور ان کے اعترافات  کے نتیجے میں حالیہ چند برسوں میں  ترکی اور دیگر ممالک میں دہشت گردی سے وابستہ  منشیات  کے سمگلروں کیخلاف  چھاپہ مار کاروائیوں کے نتیجے میں   پی کے کے / کے سی کے دہشت گرد تنظیم کے منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کی  حقیقت آشکار ہو گئی ہے ۔

  پی کے کے کے لیڈر منشیات کی پیداوار اور تجارتی سر گرمیوں کو  اپنی تنظیم کے اراکین  اور عوام سے پوشیدہ رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں  کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ منشیات کی تجارت ایک انسانی جرم ہے اور اس سے تنظیم کے پروپگنڈے کی   سر گرمیوں پر ضرب لگے گی اور نئے دہشت گردوں کو تنظیم میں شامل کرنا مشکل ہو جائے گا ۔

پی کے کے کی طرف سے 1990 میں منعقدہ دوسری قومی کانگریس میں  کیے گئے سرحدوں پر ٹیکس جمع کرنے  سمگلروں سے مال کی قیمت اور  تعداد کے لحاظ سے ٹیکس لینے  جیسے   فیصلے اس بات کا مظہر ہیں  کہ یہ تنظیم    کافی  عرصے  سے  منشیات کے میدان میں  سر گرم عمل تھی ۔

دہشت کرد تنظیم پی کے کے کے سرغنہ عبداللہ اوج الان نے 1999 میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ہم بذات خود منشیات کی سمگلنگ نہیں کرتے ہیں بلکہ ہم منشیات کے سمگلروں سے ہرجانہ لیتے ہیں ۔زگروس اور ماکو کے علاقوں میں اپنے بھائی عثمان اوج الان سمیت بھیجے جانےوالے منتظمین نے منشیات کی تجارت کی تھی  جو کہ ان کے کنٹرول سے باہر تھی ۔

 دہشت گردی کروانے اور آمدنی کے حصول کے لیے منشیات کی پیداوار اور تجارت کے ایک آسان اور فائدہ مند ذریعے کی نظر سے دیکھنے والی دہشت گرد تنظیم پی کے کے  پیشہ وارانہ لحاظ سے منشیات کی  تجارتی سر گرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے ۔ پہلے پہل یہ تنظیم منشیات کی نقل وحمل اور سرگرمیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اور سمگلروں  کی سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے کمیشن لیتی تھی لیکن جب اس نے یہ دیکھا کہ منشیات کی تجارت سے اہم آمدنی ہوتی ہے تو اس نے بذات خود اس میدان میں آنے کو ترجیح دی ۔

منشیات کے خلاف جدوجہد کی ٹیموں  کی کامیاب کاروائیوں کے نتیجے میں یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ پی کے کے نہ صرف منشیات کے سمگلروں کیساتھ رابطے میں ہے  بلکہ وہ خود بھی منشیات کی تجارت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے ۔

 ان ٹیموں  کی چھاپہ مار کاروائیوں کے دوران پی کے کے  کے اراکین سے اہم مقدار میں منشیات برآمد ہوئی ہے  ۔اس دائرہ کار میں   1980 سے لیکر 2017 تک  414 نارکوٹک کاروائیوں    کے نتیجے میں  1325 مشتبہ افراد ،سینکڑوں ٹن ہیروئن، نشہ آور ادویات  اور 88 میلین عدد  بھنگ کے پودے   بر آمد   کیے گئے ہیں ۔    یہ صورتحال پی کے کے منشیات کی سمگلنگ  میں براہ راست ملوث ہونے کی دلیل ہے ۔

 پی کے کے / کے سی کے ایک دہشت گرد تنظیم ہے ۔

/KCK  دہشت گرد تنظیم منشیات کی پیداوار، تیاری ، ترسیل و تجارت   میں بذات خود  ملوث ہے؛

  • منشیات کے پیدا کنندگان یا پھر ملکی سرحدوں کے ذریعے  منشیات کی اسمگلنگ کرنے والوں اور غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے اشخاص اور تنظیموں سے  ٹیکس کے نام  پر  تاوان لیتی ہے،
  • یورپ میں منشیات   کی ترسیل اورگلی کوچو  ں میں فروخت میں پیش پیش ہے،
  • PKK/KCK  کو اطلاع  دیے بغیر منشیات کی اسمگلنگ کرنے والے افراد اور منظم گروہوں کی منشیات پر قبضہ کرلیتی ہے،
  • نشہ آور مادوں کی تیاری کرنے  والوں کو جگہ اور تحفظ فراہم کرتی ہے،
  • مشرقی اور جنوب مشرقی اناطولیہ کے علاقوں میں غیر قانونی طور پر گانجا کی کاشت میں فعال کردار ادا کرتی ہے،
  • PKK/KCK  کی  منشیات کی تجارت  سے متعلق آپریشنز کو تنظیم کے اندر خصوصی سیلز سر انجام دیتے ہیں  اور  دیگر دہشت گردوں کو اس حوالے سے آگاہی فراہم نہیں کی جاتی۔

تنظیم  غیر قانونی  طور پر گانجا کی کاشت کو اس موضوع پر سب سے زیادہ منافع بخش طریقہ  کار تصور کرتی ہے۔ خاصکر  مشرقی اور جنوب مشرقی اناطولیہ کے  نواحی علاقوں میں  گانجا سے  حاصل کردہ نشہ آور مادوں کے لین دین سے  وسیع پیمانے کا منافع  کمانے والی تنظیم  اس کا بذات ِ خود انتظام کرنے کے ساتھ ساتھ  دیہاتیوں اور علاقے کے مکینوں کو اس کی کاشت کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور  تیار  کی جانےو الی منشیات سے  کمیشن لیتی ہے۔ اس تنظیم نے ایک دور میں  لبنان کی وادی بقا میں موجود کیمپوں کے گرد  و نواح  میں گانجے اور خشخاش  کی  کاشت کرتے ہوئے   وہاں پر قائم کردہ لیبارٹریوں میں  منشیات تیار کی تھیں۔ اب یہ شمالی عراق  کے کیمپوں اور ہمارے ملک کی سرحدوں  کے قریبی   دیہاتوں  میں  نشہ آور  مادے تیار کرتے ہوئے انہیں مندی میں  فروخت کرتی ہے۔ یہ خاص طور پر افغانی  افیون     سے تیار کردی ہیروئن کو  یورپی منڈی  کی مانگ کو پورا کرتی ہے۔  بھتہ لینے کی کاروائیوں میں  ہمارے ملک کی مشرقی سرحدوں سے  منشیات کے اسمگلروں  کی جانب سے لائی گئی منشیات   سے فی کلو گرام کے حساب سے ٹیکس  کے نام پر  تاوان لیتی   ہے اور اسمگلروں سے اسلحہ کے زور پر   پیسے بٹورتی ہے۔  حتی یہ ان کو یرغمال  بناتے ہوئے   تاوان  لیتی ہے۔ ترکی کا محل وقوع منشیات کی  تیاری کیے جانے والے علاقوں اور ان منشیات کا استعمال ہونےو الی منڈیوں کے درمیان کسی رابطے کی حیثیت کا حامل ہے۔  دنیا  بھر میں منشیات پیدا کیے جانے  والے ملکوں میں   افغانستان، پاکستان اور ایران سر فہرست ہیں۔ ہمارا ملک ان ملکوں  اور یورپ کے درمیان ٹرانزت علاقے  کی ماہیت  کا حامل ہے۔ اس  روٹ کو "بلقان روٹ " کے نام سے  پکارا جاتا  ہے۔پی کے کے  دہشت گرد تنظیم کا حلقہ    مشرق وسطی سے لیکر مغربی یورپی  ملکوں تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ وسیع رقبہ "بلقانی روٹ"  پر مشتمل ہے۔ دہشت گرد تنظیم اس راستے باآسانی   منشیات کو یورپ  پہنچاتی ہے۔

PKK/KCK دہشت گرد تنظیم  نے  منشیات کی اسمگلنگ کو تاجروں اور پیدا کنند گان سے کمیشن وصول کرتے ہوئے   شروع کیا تھا تو  اب یہ  یورپی  گلی کوچوں  کی منڈی کا کنڑول اپنے ہاتھ میں   لیے ہوئے ہے۔ منشیات کے  عادیوں کو  براہ  راست  نشہ آور مادوں کی فروخت سے اس سے زیادہ منافع ہوتا ہے۔   برطانوی ہینری  جاکسن   سوسائٹی تھنک ٹینک  کی جانب سے جاری کردہ "بھلائے گئے  غیر ملکی جنگجو"  کے عنوان  پر  رپورٹ میں   واضح کیا گیا ہے کہ پی کے کے/ کے سی کے کی یورپ میں اہم سطح کی  آمدنی   کے شعبوں میں منشیات کی اسمگلنگ  پیش پیش ہے اور ایران سے آنے والے نشہ آور مادوں کو   براستہ ترکی  یورپ تک پہنچایا جاتا ہے۔

PKK/KCK  کی منشیات کی  تجارت  سے   متعلق  تنظیموں اور دوسرے ممالک کا تعین

عالمی ذرائعوں میں PKK/KCK  کی آمدنی  کا  اہم ترین ذرائع منشیات کی تجارت ہے، جس کے حوالے سے متعدد اثبات سامنے آچکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے  ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم  کا کہنا ہے کہ   وسطی ایشیا ،افغانستان اور دیگر ممالک    کے راستے یورپ  کو منشیات کی تجارت    کا تناسب سالانہ  5 ارب ڈارلز کےلگ بھگ ہے  جن  کا نصف  پی کےکے کی جیبوں میں جاتا ہے۔ سن 1992 میں عالمی سطح پر  ممنشیات کے خلاف 41 آپریشن کیے گئے  جن  کے دوران پکڑے جانے وقالے بیشتر افراد نے   دہشتگرد تنظیم پی کےکے سے اپنی وابستگی کا اعتراف کیا  جن کے نام انٹر پول کو بھی مطلوب رہ چکے  تھے ۔ جرمنی، اسپین،اٹلی،سویٹ زرلینڈ،فرانس اور ترکی  میں نوے کی دہائی کے دوران  آپریشنوں میں کثیر مقدار میں منشیات قبضے میں کی گئیں۔ منشیات کے یورپی کاروبار پر اگر نگاہ ڈالی جائے تو  پتہ چلتاہے کہ سن  1992 میں 80 فیصد  اور 1994 میں   60 تا 70 فیصد منشیات  کی  تجارت پی کےکے  کے ہاتھوں میں تھی ۔

 حالیہ سالوں میں  انٹرپول   جرمنی، اٹلی، ہالینڈ اور اسپین  میں مختلف کرد  گروہوں   پر منشیات کی تجارت میں ملوث ہونے   کی بنا پر نگاہ رکھےہوئے ہے اور خیال   ہے کہ یہ گروپ پی کے کے سے  ملے ہوئے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ   اس تنظیم نے ترکی اور شمالی عراق  میں منشیات کی تیاری کےلیے تجربہ گاہیں بھی بنا رکھی ہیں جو کہ   امریکہ کو 350 ڈالر فی گرام کے عوض ہیروئن بنا کر بیچا کرتی ہے ۔ باور رہے کہ  پی کےکے افغان ہیروئن  کو یورپ بھیجنے  کے نتیجے میں  50 تا100 ملین ڈالر   کی کمائی حاصل کرتی ہے  جس کا مجموعی  تناسب  تقریباً  ڈیڑھ ارب ڈالر  ہے۔

 اس سے مشابہہ یور و پول کی رپورٹ میں بھی  یہ واضح کیا گیا ہے کہ  پی کےکے  دیگر  تنظیموں کے ساتھ مل کر  منشیات کی تجارت میں ملوث ہے  جن سے حاصل شدہ آمدنی تنظیم  کی شر پسندانہ کاروائیوں کےلیے استعمال ہوتی ہے۔ ترک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ، یہ منشیات   ترکی کے راستے  یورپ تک پہنچانے اور  وہاں  خریدار  حاصل کرتےہوئے آمدنی  سے  اپنا حصہ لینے سمیت  پی کےکے  کے دہشتگردوں کو پناہ دینے    کے بھی شواہد ملے ہیں۔

 نیٹو   کی 2007 میں  پیش کردہ ایک رپورٹ کی رو سے  غیر قانونی  منشیات   کی تجارت میں پی کےکے ملوث  ہے  جو کہ   ان کی  مکمل  تیاری   ،تجارت  اور  خریداروں تک رسائی    کی نگرانی کرتی ہے ۔

امریکی محکمہ برائے انسداد منشیات  کی بھی رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ  پی کےکے     منشیات کی یورپی تجارت کا کثیر  حصہ  اپنے کنٹرول میں  رکھتی ہے ۔ادارے کے ایک  عہدے دار آسا ہچی سن  نے اس رپورٹ میں حوالہ دیا ہے کہ  پی کےکے جنوب مشرقی ترکی میں منشیات کی تجارت پر غندہ ٹیکس  لیتی ہے  جن کے نامور سرغنوں میں   مراد قارا یلان،علی رضا آلتون،زبیر آئیدر، دران قلقان،رمزی کرتال،صابری اق اور آدم اوزن جیسے نام شامل ہیں۔

 اس سے مشابہہ شکل میں سال 2012 میں امریکہ کے ڈپارٹمنٹ آف ٹرژریز آفس  آف فارن ایسٹس کنٹرول OFAC نے دہشت گرد تنظیم  PKK/KCK کے زین الدین گیلیری، چرکز  آق ُبلت اور عمر بوز تیپےنامی دہشتگردوں کو یورپی اور خاص طور پر مولدووا کی منشیات ٹریفک کا ذمہ دار قرار دیا  اور ان کو ایسے منشیات فروشوں کے طور پر اعلان کیا گیا کہ جن پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

امریکہ کی وزارت خارجہ کی طرف سے شائع کردہ انٹرنیشنل  نارکوٹک  کنٹرول اسٹریٹجی رپورٹ INCSR  کے 2016 کے شمارے میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے ترکی   تک پھیلی ہوئی منشیات ٹریفک میں متعدد ایرانی اور کُرد گرفتار کئے گئے۔ ان کے PKK/KCK کے ساتھ تعاون کرنے  کی تصدیق ہوئی اور سال 2015 میں  ترکی کے متعدد  شہروں میں اور یورپ میں منشیات فروش مذکورہ تنظیم کے اراکین کے خلاف آپریشن  کئے گئے۔

یونائیٹد کنگڈم پولیس اور نیشنل کریمینل انٹیلی جنس سروس  NCIS کے اعداد و شمار کے مطابق PKK/KCK پورے یورپی یونین میں فروخت کی جانے والی ہیروئین  کے نصف کے قریب حصے کا انتظام براہ راست خود کرتی ہے۔ NCISکے مطابق تنظیم کی سال 1988 کی آمدنی 85 ملین ڈالر ہے اور اس کا 44 فیصد حصہ منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل کیا گیا ہے۔ جرمنی کے اٹارنی دفتر نے دعوی کیا تھا کہ یورپ میں تحویل میں لی جانے والی  منشیات کے 80 فیصد  کا تعلق PKK/KCK کے ساتھ تھا۔ جرمنی کے وزیر خارجہ سگمار گیبریل نے جون 2017 کو جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ "PKK/KCK دہشت گرد تنظیم کا جرمنی میں بھی اسلحے اور منشیات کی تجارت سے گہرا تعلق ہے جس کی وجہ سے  اسے ملک میں ممنوع قرار دے دیا گیا ہے اور تنظیم کے مالیاتی وسائل کا خشک کیا جانا جرمنی کے مفادات کے حق میں ہے"۔ مذکورہ بیان بھی PKK/KCK  کے منشیات سے تعلق کو ثابت کرتا ہے۔

فرانسیسی ادارے کریمینولوجی انسٹیٹیوٹ کی طرف سے 1995 میں شائع کردہ رپورٹ میں بھی PKK/KCK دہشتگرد تنظیم کی منشیات کے سیکٹر میں  حیثیت پر زور  دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں تنظیم اور منشیات  کے جتھوں کے درمیان " بائیولوجک، سیاسی اور انڈر گراونڈ دنیا کے تعلقات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سال کردستان ڈیموکریٹک پارٹی  KDP کے سربراہ مسعود بارزانی نے بھی کہا تھا کہ PKK/KCKمنشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہے۔

اطالوی مالیاتی پولیس کے 1998 تاریخ  والے اعداد و شمار کے مطابق PKK/KCK بین الاقوامی منشیات  کی تجارت  میں براہ راست شامل ہے  علاوہ ازیں مہاجرین کی تجارت اور بیرون ملک ترک کاروباری حضرات اور مزدوروں کے سسٹمیٹک دفاع سے غیر قانونی آمدنی حاصل کرتی ہے۔

نتیجہ اور تجزئیہ

مذکورہ بالا بیانات کو دیکھنے سے جو چیز سامنے آتی ہے وہ یہ کہ PKK/KCK دہشتگرد تنظیم بلاواسطہ  اور   بلواسطہ طور پر منشیات  کی اسمگلنگ سے آمدنی حاصل کرتی رہی ہے۔ ترکی میں دہشت گردی کے خلاف متعدد آپریشنوں میں منشیات  تحویل میں لی گئی ہے اور اسی طرح منشیات کے خلاف متعدد آپریشنوں میں بھی دہشتگرد تنظیم  کے اراکین کو  مردہ یا زخمی حالت میں تحویل میں لیا گیا ہے اور تنظیم کے دستاویزات  بھی ہاتھ لگے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گرد تنظیم کے گرفتار ہونے والے سرغنہ ہوں یا اراکین ان کے بیانات میں مذکورہ  تنظیم کے منشیات کی تجارت کرنے سے متعلق متعدد شواہد سامنے آئے ہیں۔ یہ صورتحال PKK/KCK دہشت گرد تنظیم اور منشیات کی تجارت  کے درمیان تعلق کو واضح شکل میں سامنے لا رہی ہے۔



متعللقہ خبریں