عالمی نقطہ نظر08

ماضی سے دور حاضر تک "یورپی بحران"

عالمی نقطہ نظر08

عالمی نقطہ نظر08

Küresel Perspektif

Avrupa’nın Krizi

08/18

Prof Dr.Küdret Bülbül

 

 

کبھی سوچا ہے کہ  آپ  جس ملک میں آباد ہیں وہاں  اگر 5 عیسائی یا  یہودیوں کو  اگر پکڑ کر   قتل کر دیاجائے تو آپ کا رد عمل کیا ہوگا یا  کسی گرجا گھر یا سینے گوگ پر ہر سال   متعدد بار حملے ہوں یا انہیں نذر آتش کیا جائے تو     آپ کی رائے کیا ہوگی  ۔ظاہر ہے کہ آپ اپنے ملک میں اس قسم کے  واقعات  کی امید نہیں کریں گے۔ اس قسم کا سوال  پوچھنا بھی قابل  تعجب ہوگا مگر  اس قسم کے واقعات  جہاں بھی ہوں وہاں  عدم اعتماد ، حقوق اور آزادی  جیسے  عوامل کو  سلب کرنا  معاشرے   کو خطرے سے دوچار کرتا  ہے  مگر  یہاں یہ قابل ذکر ہے کہ ایسے تمام واقعات   یورپی ممالک میں  کثرت سے رونما ہو رہے ہیں  یہی وجہ ہے کہ  ان واقعات کی خبر  عالمی سطح پر ذرا کم ہی سننے میں آتی ہے ۔

 زمانہ  قریب تک یورپ  میں ایسا نہیں ہوتا تھا  بالخصوص دوسری جنگ عظیم کے  تلخ تجربات،تعاون اور باہمی مفاہمت  کے نتیجے میں  یورپ ایک    مختلف براعظم تھا   جہاں مثبت   روس پائی جاتی تھی  جس کے نیتجے میں یورپی یونین کا جنم ہوا  جس کے تحت نازی  ازم ،نسل پرستی   اور بنیاد پرستی کے  بجائے جمہوری اقدار،حقوق انسانی،قانونی بالا دستی  ااور سماجی و  اقتصادی آزادی  کی راہیں ہموار ہوئیں  مگر آج کی دنیا میں  یہ تمام  باتیں  محض    فرضی لگتی ہیں جارج فرائڈ مین نے  یورپی  بحران  کے حوالے سے کہا تھا کہ  سن 1945  سے 1991  کے درمیان  یورپی ترقی   دراصل  یورپ کی  یک طرفہ کامیابی نہیں بلکہ اس کے پس پردہ  امریکہ اور روس کی یورپ   کے خلاف پر امن مقاصد کے کار فرما ہونے  کا جو بیان  دیا  جاتا ہے میں اس سے اتفاق نہیں رکھتا  کیونکہ  یورپ نے اپنے تلخ تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے   بعض پالیسیاں  فروغ دیں  اور علاقے میں مثبت ماحول پیدا کیا جو کہ اس کی کامیابی کا راز  تھا ۔

 مگر  آج کا یورپ ماضی  کی روایات کو قدرے  فراموش کر چکا ہے   جو کہ اب ہر گزرتے دن   غیر ملکی دشمنی،  ہجرت مخالف، فاشزم   اور نازی ازم کی تصویر بنتا جا رہا ہے  جہاں  کے بیشتر ممالک  کے ایوانوں میں  اس وقت بنیاد پرستوں کا غلبہ ہے جس کی وجہ سے ایسے  مسلم دشمن واقعات پر  ان کی توجہ کم  دیکھنے میں آتی ہے ۔

سیاسی جماعتیں  اس وقت وہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں  جو کہ  ان  ممالک کو  بہتری کی جانب لے جانے کے بجائے  مہاجرین  مخالف پالیسیوں کو نفاذ کرنے میں  مصروف  ہیں۔آسٹریا کی مثال سامنے ہے جہاں مہاجرین  سے پاک ملک  کے  وعدوں  پر  اقتدار کی  کرسی  بنیاد پرستوں کے حوالے کی گئی  جو کہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ یورپ  پر ایک خوف طاری ہو چکا ہے  جس کے مقابلے میں   ترکی میں اس وقت  ساڑھے 35 لاکھ شامی مہاجرین پانہ لے رکھے ہیں جن پر وہ اف تک نہیں  کر رہا  بلکہ انہیں ہر  قسم کی آسائش و سہولیات فراہم کرنے کو اپنا قومی ،اخلاقی اورمذہبی  فرض سمجھ رہا ہے۔۔

 ممالک اس قسم کے  بحرانوں  کا  اکثر و بیشتر سامنا  کرتے رہتے ہیں   جس پر حکمرانوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ  برد باری کا مظاہرہ کرتےہوئے  مثبت  پالیسیاں ترتیب دیں  تاکہ یہ بحران ختم ہو سکیں  مگر کیا کریں آج کی مغربی دنیا  خود اعتمادی    بڑھانے کے بجائے  نسل پرستی  کے نام نہاد  خوف میں مبتلا ہے ۔

  یہ بحران یورپی ہے جہاں  مہاجرین ،مسلمان  اور  ترک باشندے عرصہ دراز سے آباد ہیں۔ یورپ   کی  وسیع النظری ماضی کے مقابلے میں  آج قدرے معدوم پڑتی نظر آ رہی ہے  جس کی جڑوں  میں  در حقیقت  معاشی کساد بازاری ،  منافع میں کمی  اور اپنی شناخت کی گمشدگی صاف نظر آتی ہے۔

یورپ  دوسری جنگ  عظیم سے قبل   ایک ایسے ہی بحران سے دوچار تھا  جس  کا سارا ملبہ  اپنی غلطیوں    کے بجائے  اس نے یہودیوں پر  ڈالنا شروع کر دیا   جس کا نتیجہ  سب کے سامنے ہے کہ کیسے اس نے  یہودیوں کے خلاف ظلم  برپا   کرتےہوئے  اپنے خطے کو ہی نہیں  بلکہ  پوری دنیا  کو  جنگ کی آگ میں جھونک دیا ۔یہ حقیقت ہے کہ جنگ میں یہودیوں    کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر تھی  مگر یورپ   نے اسے اپنی  ذاتی عداوت، خود غرضی ،ناکامی  اور  مفاد پرستی کی بھینٹ چڑھا دیا ۔

 آج کا یورپ  مسلمانو ں کا بہانہ بنا کر اپنے  مستقبل کے بارے میں  متفکر ہے  جس کے نتیجے میں وہ  اپنی پالیسیوں کو اب تنگ نظری   کالبادہ پہنا کر مسلمانوں   کی حقوق  آزاری کرنے پر تلا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے  عبادت خانوں پر  حملے روز کا معمول بنتے جا رہے ہیں مگر اس کا سد باب  نظر نہیں آتا ۔

 یورپ کے روشن خیال ،مفکرین اور سیاسی  اکابرین  کو چاہیئے کہ  وہ  ماضی    کے تلخ تجربات    کی روشنی میں   تدبر  اور   اعتدال پسندی  کا مظاہرہ  کریں  جس کےلیے ضروریہے کہ وہ  پہلے مہاجرین  اور مسلم دشمنی  سے پر ہیز کریں اور انہیں اس بحران کا ذمے دار قرار  نہ دیں  بلکہ اپنی غلطیوں کا ازالہ کریں۔

 یہ جائزہ آپ کی خدمت میں انقرہ کی یلدرم بایزید یونیورسٹی  کے شعبہ سیاسی علوم کے پروفیسر ڈاکٹر قدرت بلبل کے قلم سے پیش کیا گیا ۔

 

 

 

 



متعللقہ خبریں