ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ06

ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ06

ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ06

 رشین تحقیقاتی انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ  اور انقرہ یلدرم بیاضت یونیورسٹی کے لیکچرار ڈاکٹر صالح یلماز کا   شام میں شروع کردہ شاخِ زیتون فوجی کاروائی کے بارے میں  جائزہ

روس کے شہر سوچی میں 29 تا 30 جنوری  شامی قومی ڈائیلاگ کانگریس منعقد ہوئی جس کا مقصد شام میں سیاسی امن کے عمل کو شروع کرنا تھا ۔ اس کانگریس میں 1393وفود اور 50مبصرین نے شرکت کی ۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ کانگریس کے آغاز میں بعض ناخوشگوار   واقعات پیش آئے ۔  سوچی جانے والے شامی مخالفین نے سوچی ہوائی اڈے پر  سوچی کانگریس کے امن پرندے ،شاخِ زیتون اور  شامی  انتظامیہ کے  سرکاری لاگو پر موجود اسد پرچم  پر ردّ عمل ظاہر کیا ۔ جب مخالفین گروپ کی مرضی کے مطابق  پرچم کا مسئلہ حل نہ ہو سکا تو یہ گروپ انقرہ آ گیا ۔ ترکی نے  یہ اعلان کیا یہ گروپ ترکی کی نمائندگی کر رہا ہے ۔  یہ گروپ شام کی عبوری حکومت کے سربراہ احمد توما کے روس  کی طرف سے شام پر بمباری کو روکنے اور کیے گئے وعدوں کو پورا  کرنے کی وجہ سے  کانگریس سے الگ ہونے  کے اعلان کی وجہ سے ایجنڈے  میں شامل  تھا ۔ بعض مخالفین نے شامی انقلاب  پرچم کیساتھ کانگریس  میں داخل ہونے کی کوشش کی  جس کی روس نے اجاز ت نہیں دی ۔ روس کے وزیر خارجہ سرگے لوروف جب کانگریس سے خطاب کر رہے تھے تو مخالفین نے یہ نعرے لگاتے ہوئے کہ روسی جنگی طیارے  ہم پر بمباری کر رہے ہیں  ان کی تقریر کو روکنے کی کوشش کی  جبکہ اسد  انتظامیہ کے حامیوں نے جواب میں یہ نعرے لگائے  کہ روسی طیارے دہشت گردوں پر  بمباری کر رہے ہیں۔  روسی طیارے  شامی فوج کی حمایت کر رہے ہیں ۔  علاوہ ازیں، ترکی اور روس کے درمیان دہشت گرد تنظیم کے اسکندرون  خود مختاری تنظیم کا لیڈر معراج اورال  جو علی قایا لی نام سے مشہور ہے کے سوچی اجلاس میں جعلی نام سے شرکت  کرنے کی کوشش   بھی مسئلہ بن گئی ۔ ترکی کی طرف سے اورال کے دہشت گردوں کی لسٹ میں شامل ہونے اور اس کی گرفتاری کے وارنٹ موجود ہونے کی بنا پر شکایت کی جس کی وجہ سے کانگریس کا افتتاح طول پکڑ گیا  لیکن یہ  منفی صورتحال  کانگریس کے سیاسی امن کے عمل  کو شروع کرنے کی راہ میں  قدم اٹھانے  میں رکاوٹ نہ بن سکی ۔

شامی قومی ڈائیلاگ کانگریس  کے حتمی اعلامیے  میں جو قدم اٹھانے کی توقع کی جا رہی تھی وہ بھی واضح ہو گئے ہیں ۔ اعلامیے میں شام کی علاقائی سالمیت کے تحفظ   کے علاوہ  آئینی کمیٹی کی تشکیل ،شامی فوج کے قیام ،شام کی سرحدوں کے تحفظ  ،بیرونی قوتوں اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد ،  مذہبی تفریق کے بغیر تمام شامی باشندوں  کیساتھ مساوی سلوک ، سیکولرزم  اور شامی عوام کیطرف سے اپنے مستقبل  کا خود تعین کرنے   جیسے موضوعات پر زور دیا گیا ہے ۔ ان میں سے اہم ترین آئینی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ ہے  کیونکہ اعلامئیے میں جن معاملات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے  انھیں  آئینی کمیٹی کی سرگرمیوں کیساتھ ضمانت میں لیا گیا ہے ۔ مخالفین کے بھاری وفد کی شرکت سے قائم کی جانے والی کمیٹی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی  شق نمبر 2254  کے تحت آئینی کمیٹی کیتشکیل کا فیصلہ  کرئے گی ۔

 یہاں پر قابل توجہ بات حتمی اعلامئیے  کو  اقوام متحدہ کی زیر نگرانی جنیوا عمل   کے دائرہ کار میں مرتب کرنا ہے ۔  اس ضمن میں تین ضمانتی ممالک  نے  اقوا م متحدہ کی جانب سے جنیوا میں  کیے  گئے  حل کے عمل کیساتھ مل کر حرکت کرنے کی خواہش کا اظہار  کیا ۔ جیسا کہ  روس کےصدر ولادیمر پوتن کے شام کے خصوصی نمائندے الیگزنڈر لاورینٹییف نے کہا ہے  کہ  سوچی کے  نتائج کو اقوام متحدہ کی زیر نگرانی جنیوا عمل کو جانبر کرنے کے لیے استعمال  کرنے کی خواہش واضح طور پرنظر آ رہی ہے ۔ تین ضمانتی ممالک کے 150 رکنی امیدواروں کی فہرست کو اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے شام سٹیفن مستورا کو پیش کیا جائے گا  ۔  دی مستورا اپنی طرف سے تعین کردہ وفود کی شرکت سے 45 یا 50 افراد پر مشتمل  ایک کاروائی گروپ   کا تعین کریں گے ۔  اس گروپ میں ترکی روس اور ایران کے مساوی نمائندے موجود ہونگے ۔جنیوا عمل سے ابتک کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ سوچی کانگریس سے جنیوا  عمل کو کامیاب بنانے کا موقع مل جائے گا  ۔امریکہ سعودی عرب کی حمایت حاصل کرنے والے شامی مذاکراتی وفد کی اس کانگریس میں عدم شرکت کو  مد نظر رکھنے کی صورت میں جب وہ جنیوا مذاکرات میں شرکت کرئے گا  تو اسوقت اسد کیساتھ یا اسد کے بغیر مسئلہ شام کے حل پر اصرار بحران   کا سبب بن سکتا ہے ۔ در اصل ترکی روس اور ایران یہ اعلان کر چکے ہیں کہ  اگر جنیوا مذاکرات بحران کا شکار ہوئے یا ناکام رہے تو اس صورت میں سوچی ۔ دو  نام سے ماہ فروری میں  آخر میں دوسرے راؤنڈ کا  اجلا س منعقد کیا جائے گا ۔

  دریں اثناء  وزارت خارجہ کے نائب  مشیر سدات اونال  کی زیر قیادت ترک وفد بھر پور سفارتی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہے  اور وہ بحران کو حل کروانے میں کامیاب رہا ہے  ۔  ترکی نے  شام میں سیاسی عمل کو شروع کروانے کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کو اقوام متحدہ کی زیر نگرانی مشروع اور شفاف شکل میں اٹھانے اور انتخابات  کی تیاریاں شروع  کروانے  پر زور دیا ہے ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ جنیوا عمل کیساتھ مسئلے کو حل کروانے اور سوچی میں مخالفین کی عدم موجودگی کی وجہ سے خوش ہے  کیونکہ اس سے قبل کانگریس شروع  ہونے سے پہلے ہی امریکہ سعودی عرب مصر اور اردن  کیطرف سے متبادل حل  کی تلاش کے موضوع پر بات چیت کرنے کی خبریں افشاء  ہو گئی تھیں ۔   صورتحال سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ شام میں  قلیل مدت میں سیاسی حل کو ترجیح نہیں دیتا ہے  کیونکہ  سیاسی حل سے امریکہ کی شام میں موجودگی کا موضوع بھی زیر بحث   آ جائے گا ۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ امریکہ   نے شام میں اپنی موجو دگی کو قانونی بنانے کے لیے پی وائے ڈی کیساتھ تعاون کیا ہے اور شام میں فیڈریشن  پر مبنی حل کی پر زور حمایت کی ہے ۔   امریکہ شاید  شام میں اسرائیل کی سلامتی کو ضمانت میں لینے والا ماحول پیدا کیے بغیر علاقے سے واپس جانے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔سوچی کانگریس  کے دوران ایران نواز گروپوں کی طرف سے لبنان میں میزائل تیار کرنے کی خبروں کی وجہ سے بھی امریکہ نے ایران کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔ اس کانگریس  کا اہم ترین فیصلہ یہ ہے کہ شام کے مستقبل کا  فیصلہ صرف شامی عوام  ہی کریں گے ۔

 ترکی اور روس کے تعاون  نے   دونوں ممالک کو علاقے میں مزید  طاقتور  بنا دیا ہے ۔  اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان ہر موضوع پر تعاون موجود نہیں ہے لیکن  ایک دوسرے کے مفادات کا احترام کرنے کی پالیسی انھیں امریکہ کے سامنے  طاقتور بنا رہی ہے ۔  اس صورتحال کے نتیجے میں امریکہ روس کو سزا دینے والی عقلمندانہ پابندیوں میں اضافہ کر رہا ہے ۔  مستقبل میں عفرین فوجی کاروائی کے بعد نئی حکمت عملی اور تعاون  کے امکانات پیدا ہونے کے احتمال بھی  موجود ہیں ۔



متعللقہ خبریں